ضروری اقدامات نہ کئے گئے تو سردیوں میں گیس کا بحران پہلے سے زیادہ سنگین ہو گا: اکانومی واچ

ضروری اقدامات نہ کئے گئے تو سردیوں میں گیس کا بحران پہلے سے زیادہ سنگین ہو ...

  



لاہور(کامرس ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو امسال موسم سرما میں گیس کا بحران سابقہ بحرانوں سے زیادہ شدید ہو گا۔ملک میں گیس کی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے، ایران اور ترکمانستان سے سستی گیس درامد کرنے کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں جبکہ ایل این جی جو قدرتی گیس سے پانچ گنا مہنگی ہے کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ موسم سرما کی شدت سے قبل اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال موسم سرما میں گھریلو صارفین پر 29 ارب روپے کی ایل این جی کا بوجھ ڈالا گیا تھا جبکہ امسال کا تخمینہ 55 ارب روپے ہے کیونکہ ٹرمینل بنانے پر زور ہے مگرمہنگی ایل این جی کے خریدار کم ہیں۔انھوں نے کہا کہ دس سال قبل قدرتی گیس ملک کی نصف سے زیادہ توانائی کی ضروریات پوری کر رہی تھی۔

جبکہ اب اسکا حصہ کم ہو کر 35 فیصد رہ گیا ہے۔دوسری طرف ایل این جی کی درامد 2014 میں صفر فیصد، 2015 میں 0.7 فیصد، 2016 میں 3.3 فیصداور 2017 میں ملک کے انرجی مکس کا 5.6 فیصد ہو چکی ہیں اور اس میں ہر سال مزید اضافہ ہو رہا ہے اور چند سال میں اسکا درامد حجم مقامی گیس کی پیداوار کے برابر ہو جائے گا تاہم ایل این جی کوسرکاری گیس اورنجی آئل کمپنیوں کی جانب سے مزاہمت کا سامنا ہے۔آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق حکومت نے پنجاب میں تین ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والے 2640 میگاواٹ کے دو بجلی گھر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پاور پلانٹ بھاری مقدار میں ایل این جی استعمال کرتے ہیں اور خریدار سے معاہدے میں زرا سے غلطی سے سے ایل این جی کی درامد، تقسیم اور فروخت میں شامل تمام اداروں کو دیوالیہ کر سکتی ہے۔

مزید : کامرس