مسلم لیگ (ن) کے وفد کی فضل الرحمن سے ملاقات، نواز شریف کا خط پہنچایا 

     مسلم لیگ (ن) کے وفد کی فضل الرحمن سے ملاقات، نواز شریف کا خط پہنچایا 

  



پشاور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ(ن)کے وفد کی جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات،مسلم لیگ(ن)کی وفد نے میاں نواز شریف کا آزادی مارچ اور حکومت کے خلاف تحریک کے حوالے سے دیا گیا خط مولانا فضل الرحمن کے حوالے کردیا،احسن اقبال نے کہا کہ آزادی مارچ کوکامیاب بنائیں گے، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان دونوں کی تجاویز پر اب عمل کیا جائے گا۔اتوار کو پاکستان مسلم لیگ(ن)کے وفد نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی،ملاقات کے دوران مریم اورنگزیب، انجینئر امیر مقام،اکرم خان درانی  اورمولانا غفور حیدر ی بھی موجود تھے۔وفد کے قیادت کرنے والے پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر احسن نے اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ آج کی ملاقات میں نواز شریف کی تجاویز خط کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو دینے آئے ہیں خط میں نواز شریف نے اس بات کا اظہار کیا مولانا فضل الرحمان کو مستعفی ہونے کی تجویز مانی  جانی چاہیے تھی، ایک سال سے ثابت ہوا موجودہ حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں رکھ سکتی،ملک میں اس وقت سب پریشان ہیں موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور ناہلی کی وجہ سے عام شہری بہت متاثر ہوا ہے،کشمیر کے ایشو پر حکومت نے نالائقی کا ثبوت دیا ہے عمران خان ایک تقریر کے ذریعے سمجھتے ہیں سب ٹھیک ہو گیا کشمیر کے معاملے پر حکومت کی پالیسی مکمل طور پر ناکام رہی جنیوا میں 16 ووٹ بھی قراداد کے لیے حاصل نہ کر سکے۔انکاکہنا تھا کہ پاکستان کے لیے کشمیر کا مسلہ بقا کامسئلہ ہے،ملک کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ جودہ حکومت نے قومی اداروں کو بھی تباہ کیا۔ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا ہو گا ایک کیس پر کیس ڈال کر ٹرائیل کیا جا رہا ہو،نواز شریف نے اپنے خط میں آزادی مارچ میں اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اس میں سب کو مل کر مارچ کو مظبوط بنانا چاہئے۔دوسری  طرمسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف نے آزادی مارچ کیلئے لاہور کی قیادت کو ٹاسک سونپ دیا۔لاہور کی قیادت کو پارٹی کے مستقبل کیلئے بھی حکمت عملی بنانے اورپارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک کرنے اور سرگرم کارکنوں کو آگے لانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ پارٹی صدر کی ہدایت پر لاہور کے صدر پرویز ملک اور جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر ان نے وکلا ونگ،لیبر ونگ،علما ونگ،یوتھ ونگ اور طلبا سمیت دیگر سے رابطے شروع کردئیے۔ پرویز ملک اور خواجہ عمران نذیر نے   تاجر ونگ کے اجلاس میں قیادت کا پیغام پہنچایا۔ اجلاس میں عامر صدیق،لیاقت سیٹھی،میاں عثمان،بابر بٹ،شاہد نذیر،عتیق الرحمن،میاں ریاض،اقبال درویش اور جاوید بھٹی نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے پرویز ملک کا کہنا تھا کہ زندہ دلان لاہور نے ہمیشہ تاریخی تحریکوں کی قیادت کی اور کامیابی حاصل کی،سلیکٹڈ حکومت سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے،آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کرینگے۔

لیگی وفد

 پشاور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے آزادی مارچ کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور آگے بڑھیں گے، پیچھے مڑنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔پشاور میں اپنی جماعت کی سالار فورس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے کارکنوں نے اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا، ہمارے کارکنوں اور مدارس کے طلبا نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کیہے۔اس موقع پر رضاکاروں نے مولانا فضل الرحمٰن کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا اور اپنی جانوں پر کھیل کر قیادت کے تحفظ کا حلف بھی اٹھایا۔حکومت کے خلاف مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم آگے بڑھیں گے، اب پیچھے مڑنے کا کوئی آپشن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کو چوری کرکے ناجائز حکومت کو ہم پر مسلط کیا گیا اور جب ہمارا جعلی وزیراعظم بیرون ملک جاتا ہے تو کوئی ان کا استقبال کرنے نہیں آتا۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہا کہ اس نااہل حکمران کی وجہ سے ملک پیچھے جارہا ہے، مغربی دنیا کا ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے اس کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا۔ملکی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت ڈوب رہی ہے، کارخانے بند ہورہے ہیں اور تاجر رو رہا ہے جبکہ وزیراعظم انڈے، مرغی اور کٹوں سے معیشت کو سنبھالتے سنبھالتے اب لنگر خانوں تک پہنچ چکے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں اور حمایت کے اعلان پر میں تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو مارچ کا آغاز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ہوگا۔حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دھرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پْرامن لوگ ہیں اس لیے پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملہ نہیں کریں گے اور تمہاری طرح اداروں کی دیواروں پر شلواریں بھی نہیں لٹکائیں گے۔حکومت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت نہیں پوری قوم اسلام آباد آرہی ہے، کیا ریاستی ادارے قوم کے ساتھ تصادم کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امن کا پیغام دے کر امن کی ضمانت چاہ رہے ہیں لیکن ہمیں روکنے کی بات کی جارہی ہے، میں ڈنڈے برداشت کرلوں گا مگر آپ تو ملا کی پھونک برداشت نہیں کرسکیں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قدم، قدم پر مشاورت کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور اگر ہمیں چھیڑا گیا تو پھر وہ گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین و قانون کا ساتھ دیا ہے اور آج بھی آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے تمام ادارے اگر آئین کی پاسداری کریں گے تو پھر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، ہمارے مینڈیٹ پر جو ڈاکا ڈالے گا اس کے خلاف جدوجہد کریں گے۔ کچھ لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں، ہم پر امن لوگ ہیں ہمیں نہ چھیڑا جائے، اگر ہمیں چھیڑا گیا تو پھر آپ گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

فضل الرحمان

x

مزید : صفحہ اول


loading...