مقبوضہ کشمیر، کرفیو 71ویں روز میں داخل، احتجاج، مظاہرے، چناری میں فریڈ م مار چ جاری قافلے دھرنے میں پہنچتے رہے 

مقبوضہ کشمیر، کرفیو 71ویں روز میں داخل، احتجاج، مظاہرے، چناری میں فریڈ م مار ...

  



سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے ظالمانہ قبضے اور مواصلات کے تمام ذرائع بند کرنے سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا مؤقف درست ثابت ہوا۔قابض انتظامیہ نے کرفیو زدہ علاقوں میں آج14اکتوبر پیر سے موبائل فون نیٹ ورک پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔بھارت کی فاشسٹ حکومت نے 4اگست کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے بعدمواصلاتی ذرائع کو طاقت کے زور پر بند کردیا تھا۔ریاستی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام بقیہ علاقوں میں موبائل فون سہولیات آج دوپہر 12بجے سے بحال کردی جائیں گی۔خاص طورپر تمام پوسٹ پیڈ موبائل فونز چاہے وہ کسی بھی ٹیلی کام سروس کے ہوں،بحال ہوجائیں گے اور دوپہر 12بجے کے بعد سے فعال ہونا شروع ہوجائیں گے۔یہ اقدام صوبہ کشمیر کے تمام 10اضلاع میں لاگو ہوگا۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سرینگر سینٹرل جیل ہزاروں نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے جن کو5اگست کوبھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدگرفتارکیاگیا تھا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق گرفتار نوجوانوں کے اہلخانہ کو سرینگر کی شہید پارک تک پہنچنے میں جو ان کے لیے ایک انتظار گاہ بن چکی ہے، بے شمار فوجی چوکیوں اور ناکوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اہل خانہ اپنے عزیزوں سے ملنے کیلئے اپنے نمبر کا انتطار اسی پارک میں کرتے ہیں۔ 

مقبوضہ کشمیر

چناری(آن لائن)مقبوضہ جموں و کشمیر میں ستر روز سے جاری لاک ڈاؤن اور بھارتی مظالم کے خلاف جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا چناری اور لائن آف کنٹرول چکوٹھی کے درمیان(چنوئیاں،بھرائیاں) کے مقام پر احتجاجی دھر نا دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا بھارتی مورچوں کے سامنے بھارت مخالف اور آزادی کے حق کے فلگ شگاف نعرے بازی جاری کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے لیے حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن آج پیر کی رات ختم ہو جائیگی کل بروز منگل لبریشن فرنٹ کے کارکنان رکاوٹیں توڑ کر ایل او سی چکوٹھی کی طرف بڑھیں گے پولیس اور مظاہرین کے درمیان بڑے تصادم کا خطرہ۔تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ گلگت بلتستان،آزاد کشمیر کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کی جانب سے حکومت کو کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن آج پیر کے روز پوری ہونے کے بعد کل منگل کے روز لبریشن فرنٹ کے کارکنان کی جانب سے آگے بڑھنے کی صورت میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان بڑے تصادم کا خطرہ ہے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے مرد اور خواتین پولیس اہلکاران کی بڑی تعداد دھرنا کے اردگرد گذشتہ آٹھ دنوں سے مورچہ زن ہے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ ہمارا چار اکتوبر سے شروع ہونے والا مارچ مکمل طور پر پر امن ہے ہم نے ایک پتہ بھی نہیں توڑا حکومت نے نہ صرف ہمارا چکوٹھی اور گردونواح کے پچاس ہزار سے زائد عوام کا راستہ گذشتہ نو،دس روز سے بند کر رکھا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہم اقوام متحدہ،پی فائیو ممبران سے ہی مذاکرات کریں گے اس کے علاوہ حکومت کو آپشن دے رکھا ہے کہ وہ رکاوٹیں ہٹائے اور ہمیں چکوٹھی جانے دے جہاں پر ہم ایک پر امن دھر نا شروع کر کے بین الاقوامی برادری کو یہاں بلا اور جھنجور سکیں اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہمارے بھائی،بہنیں،بیٹیاں،مائیں،برزگ جس کرب میں رہ رہے ہیں اس میں کوئی بھی باغیرت شخص خاموش نہیں رہ سکتا ہے۔

چناری مارچ

مزید : صفحہ اول


loading...