ایران نے مثبت جواب دیا، کل سعودی عرب جاؤنگا: عمران خان 

  ایران نے مثبت جواب دیا، کل سعودی عرب جاؤنگا: عمران خان 

  



تہران(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اختلافات مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے لیکن اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازع سے نہ صرف خطے کے امن و سلامتی بلکہ معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کے صدر کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں یہ تیسری ملاقات ہے،ان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تجارت پر بھی بات ہوئی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں،مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت پر ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں،بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں قید کر رکھا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ایران آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع نہ ہو، پاکستان نے طویل عرصے تک دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور 70ہزار جانیں قربان کیں،ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع جڑ نہ پکڑ سکے کیونکہ خطے میں پہلے ہی افغانستان اور شام میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات انتہائی تاریخی اور گہرے ہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ ایران سعودی تنازعے سے خطے کے امن کے ساتھ معیشت کو بھی شدید خطرہ ہے، تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے خطے میں اس قسم کا تنازع انتہائی نقصان دہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ وہ منگل کو سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے صدر حسن روحانی سے مشاورت حوصلہ افزا رہی جبکہ مثبت سوچ کے ساتھ سعودی عرب جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے دورے اور بات چیت پاکستان کا اپنا اقدام ہے، دونوں ملکوں کے درمیان سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے تاہم ان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کردار ادا کرنے کو کہا، آج ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے اور امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی پابندیوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔انہوں نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے سب کچھ کریں گے تا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہو اور پابندیاں اٹھائی جا سکیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر پڑوسی اور دوست ملک ہیں، دونوں ملک مل کر خطے کے استحکام کے لیے کاوشیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوئی ہے، پاکستان اور ایران خطے کے مسائل بات چیت سے حل کرنے کے حامی ہیں، پاکستانی اور ایرانی قیادت کی ملاقاتیں خطے میں صورتحال کی بحالی کیلئے اہم ہیں۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی ہے، ایران کا دورہ کرنے پر وزیراعظم عمران خان کے شکرگزار ہیں۔ حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہوں نے زور دیا کہ یمن میں جنگ کا خاتمہ اور انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان، سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی کے خاتمے سے متعلق سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تہران پہنچے تھے جہاں انہوں نے ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کی۔دونوں رہنماؤں کے مابین خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایران نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کوششوں کو خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران مل کر خطے کے درینہ مسائل کے حل کیلئے پرخلوص کوششیں کرسکتے ہیں،خطے کے مسائل مذاکرات اور مقامی وسائل کے ذریعے حل کئے جانے چاہئیں، مثبت رویہ کا مثبت انداز میں جواب دیا جائیگا،اگر کوئی ملک سمجھتا ہے خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے،یمن میں فوراً جنگ بندکر کے وہاں کے عوام کی مدد کی جائے، امریکا ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے  وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کوبہت اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کو مستحکم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے قائدین نے یمن میں جنگ اور ایران پر امریکی پابندیوں سمیت دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور بھی زیر بحث آئے۔حسن روحانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے مابین سیکیورٹی اور امن و امان سے متعلق صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ایرانی صدر نے کہاکہ میں نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا کہ ہم پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کی کوششوں کا خیر مقدم کریں گے۔حسن روحانی نے ایران کے دورے پر وزیراعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا۔ایرانی صدر نے کہا کہ خطے کے مسائل مذاکرات اور مقامی وسائل کے ذریعے حل کیے جانے چاہیئں ہم نے زور دیا کہ مثبت رویہ کا جواب مثبت انداز میں دیا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے جوہری معاہدہ کی بحالی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی صدر نے کہاکہ پاکستان اور ایران پڑوسی دوست ممالک ہیں، پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سے حالیہ واقعات خصوصاً خلیج فارس اور دیگر معاملات پر بات کی۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ یمن میں فوراً جنگ بند کی جائے جبکہ وہاں کے عوام کی مدد بھی کی جائے، امریکا کو چاہیے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف امریکا کے جابرانہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

عمران خان

مزید : صفحہ اول