تحقیقاتی ٹیم کرپٹ، ماضی دا غدار ، میری فیملی سے پیسوں کا مطالبہ کر چکی : ناصر بٹ

  تحقیقاتی ٹیم کرپٹ، ماضی دا غدار ، میری فیملی سے پیسوں کا مطالبہ کر چکی : ...

  



اسلام آباد( آن لائن ) جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس کے مرکزی ملزم ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کے نام خط لکھا ہے جس میں ناصر بٹ نے ویڈیو سکینڈل کیس کی تحقیقاتی ٹیم پر سنگین لیکن انتہائی مدلل الزام لگاتے ہوئے استدعا کی ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو فوراً تبدیل کیا جائے ناصر بٹ نے خط میں لکھا کہ اتنے ہائی پروفائل کیس میں ایسے کرپٹ افسروں کی تحقیقات ایک سوالیہ نشان ہے جبکہ یہ کرپٹ افسران میری فیملی سے پیسوں کی ڈیمانڈ کرچکے ہیںجبکہ یہ افسران میری فیملی کو بلیک میل کرنے کےساتھ ساتھ دہشتگردی کی دفعات شامل کرکے میری ساری فیملی کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ اگر تحقیقاتی ٹیم کوبھاری رشوت نہ دی گئی تو یہ میرا کیس صاف شفاف تحقیقات کے ساتھ ڈیل نہیں کرینگے جبکہ یہ سارا کیس مجھ سے پیسے ہتھیانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے سے درخواست کے ذریعے استدعا کی کہ میرے کیس سے ان کرپٹ افسروںکو الگ کیا جائے جبکہ میرے کیس میں ایسے ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل افسران کو دی جائے جو میرٹ پر بغیر کسی دباﺅ یہ صاف و شفاف تحقیقات کرسکیں ۔ ناصر بٹ نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ڈائریکٹر انسداد دہشت گردی ونگ بابر بخت قریشی کے حوالے سے موقف اختیار کیا کہ بابر بخت قریشی کو آئی جی پنجاب نے بری شہرت اور قبضہ مافیا کی مدد کرنے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن واپس بھیجا تھا جبکہ ناصر بٹ نے آگے چل کر مزید بتایا کہ بابر بخت کی گھر کے فرد نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا لیکن اسکے بعد (ن)لیگ کے ساتھ کچھ اختلافات پیدا ہوئے جسکے بعد بابر بخت قریشی کی فیملی نے اختلافات کی بنیاد پر (ن)لیگ کو چھوڑ دیا ناصر بٹ نے مزید لکھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بابر بخت قریشی اور ان کا خاندان (ن)لیگ کے ساتھ ذاتی عناد رکھتا ہے جس کی وجہ سے شفاف تحقیقات نہیں کی جاسکتیں لہٰذا ان کو ارشد ملک ویڈیو کیس سے الگ کیا جائے اس کے بعد ناصر بٹ نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیخ اعجاز کے بارے میں لکھا کہ ایف آئی اے کے سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ نے انہیں گرفتار کیا جس کی وجہ سے وہ ایک ماہ تک جیل میں رہے جبکہ سپیشل انوسٹی گیشن سیل نے ان کے خلاف جو کیس بنایا تھا ان میں سیکشن 161-165-193-109PPCR/wجیسی سنگین دفعات شامل تھے اعجاز شیخ ایک ماہ تک جیل میں رہے اور اس کے بعد ان کی ضمانت ہوئی جبکہ ان کا کیس اس وقت سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں چل رہا ہے جبکہ اعجاز شیخ کے خلاف ایک کیس اینٹی کرپشن سرکل لاہور میں بھی چل رہا ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے تحقیقاتی ٹیم کے ممبر محمد عظمت خان کے بارے میں لکھا کہ عظمت خان لیبیا کیلئے انسانی سمگلنگ میں ملوث تھے تحقیقات کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنا جرم تسلیم کیا بلکہ اپنے ہی ساتھی انسپکٹر کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے جبکہ عظمت خان انسانی سمگلنگ کے کیس میں گرفتار بھی کئے گئے تھے ،آن لائن نے عظمت خان کے حوالے سے جب ہم ان کے ساتھیوں اور 2016ءمیں عظمت خان کے سینئر افسروں سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عظمت خان کے بارے میں ناصر بٹ کی طرف سے لگائے جانےوالے الزامات کی مکمل طور پر یہ تصدیق کی اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعی انسپکٹر محمد عظمت خان نے لیبیا کیلئے انسانی سمگلنگ کا اعتراف کیا تھا اور اس کے بعد ان کیخلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں محمد عظمت خان اپنے ساتھی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے جبکہ یہ باقاعدہ طور پر گرفتار بھی کئے گئے تھے اس حوالے سے محمد عظمت خان سے ان کا اس حوالے سے موقف جاننے کی بار بار کوشش کی جاتی رہی جبکہ ان کا موقف جاننے کےلئے ان کو سوال لکھ کر بھی بھیجا گیا لیکن عظمت خان نے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد ویڈیو سکینڈل کے دوسرے تحقیقاتی افسر اعجاز شیخ کے حوالے سے تحقیقات کی گئی جن سے یہ واضح ہوا کہ واقعی ان کے خلاف ایف آئی اے کے سپیشل تحقیقاتی سیل نے مقدمہ درج کیا تھا جس کے بعد اعجاز شیخ کو گرفتار کیا گیا اعجاز شیخ ایک ماہ جیل رہنے کے بعد ضمانت پر جیل سے باہر آئے اور اس کے بعد انہوں نے اپنا مقدمہ خود لڑا جبکہ اعجاز شیخ اس وقت انتہائی اہمیت کے حامل کاﺅنٹر ٹیررزم ونگ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کررہے ہیں جبکہ ویڈیو سکینڈ ل کے تحقیقاتی افسر بھی ہیں ،اعجاز شیخ سے ہم نے بار بار ان کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد ہم ڈائریکٹر کاﺅنٹر ٹیرزم ونگ اور ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بابر بخت قریشی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ بابر بخت قریشی کو واقعی آئی جی پنجاب نے ان کی بری شہرت اور لینڈ مافیا کو سپورٹ کرنے اور کچھ دوسرے عوامل کی بنیاد پر پنجاب پولیس سے واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجا تھا ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ایسا افسر جس کی بری شہرت اور قبضہ مافیا کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجا گیا تھا اسے کاﺅنٹر ٹیرازم ونگ کے سربراہ جیسی اہم سیٹ کیوں دی گئی ۔آن لائن نے بابر بخت قریشی سے ان الزامات کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش بار بار کی گئی لیکن انہوں نے سوالوںکے جوابات دینے کی بجائے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ناصر بٹ کی طرف سے لکھا جانے والا وہ خط کہاں سے اور کیسے چلا لیکن انہوں نے اپنے بارے لگائے گئے سنگین الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا اس وقت کے قائم مقام ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے ڈاکٹر مجیب الرحمن سے اس خط کے حوالے سے اور بابر بخت قریشی کی تعیناتی کے حوالے سے پوچھا گیا جس پر انہوں نے بات کرنے سے مکمل معذوری دکھاتے ہوئے معذرت کرلی۔

ناصر بٹ 

مزید : صفحہ اول


loading...