جمہوریت کے دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا : پرویز خٹک 

جمہوریت کے دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا : پرویز خٹک 

  



پشاور (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیربرائے دفاع پرویزخٹک نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مزاکرات کے لیے وزراءکی کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی اور نہ ہی کسی کو یہ ٹاسک سونپا گیا ہے، بعض اپوزیشن جماعتیں اور میڈیا بے پرکیاں اڑارہے ہیں ،مولانا 31 اکتوبر کو اسلام اباد پہنچے گے تو پھر دیکھیں گے جمہوریت کے دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے سب سن لیںPTI کی حکومت پانچ سال کی ائینی مدت پوری کریں گی اور 2023 کے انتخابات میں ایک بار پھر عوام کے ووٹوں سے پی ٹی ائی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گی ملک میں مڈٹرم انتخابات بالکل نظر نہیں اتے ملک پہلے سے معاشی بحران کا شکار ہے عمران خان معیشت کو سنھبالا دینے اور بحران کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے بھارت کچھ بھی کرلیں کشمیر بنے گا پاکستان وہ اتوار کے روز ویلج ناظم نواز خان کے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پی ٹی ائی میں شمولیت عراق اباد میں واجد ٹھیکدار کے استقبالیے سے خطاب اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل محمد ریاض خان ایڈوکیٹ کے صاحبزادوں حسن ریاض اور حسین ریاض کی دعوت ولیمہ کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی وزیر لیاقت خان خٹک،چیئرمین مجلس قائمہ برائے توانائی و قدرتی وسائل ڈاکٹر عمران خٹک، ڈیڈک کے چیئرمین ادریس خٹک، ایم پی اے میاں جمشید الدین کا کاخیل، اور دیگر بھی موجود تھے پرویز خٹک نے پی ٹی ائی میں شامل ہونے والوں کو پارٹی ٹوپیاں پہنائی اور ان کا خیر مقدم کیا پرویز خٹک نے کہا کہ پی ٹی ائی اس ملک بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں مختلف دینی اور سیا سی جماعتوں سے باشعور کارکن پی ٹی ائی میں شامل ہورہے ہیں جو عمران خان کی قیادت پر بھر پورا عتماد کا مظہر ہے انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں کے اے این پی کے میاں افتخار حسین کو کس نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ میرے قیاد ت میں وزراءکی کمیٹی تشکیل دی اگر مزاکرات کے زریعے ازادی مارچ ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس پر غور کرسکتے ہیں تشدد توڑ پوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے ہم 126 دن کا دھرنہ ضرور دیا مگر ہم نے ایک گملا تک نہیں توڑا اور ہم ایک مقصد کے لیے دھرنا دے رہے تھے جولوگ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی بات کررہے تھے وہ ازادی مارچ کے زریعے ملک سلامتی اور بقاءکی لیے خطر ہ بن رہے ہیں ایک طر ف کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ بھارت ناروا سلوک کررہا ہے دوسری پاکستان اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کررہا ہے یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے انہوں نے کہاکہ ہم زبانی کلامی باتوں پر یقین نہیں رکھتے ہمیں عوام کی خدمت پر عوام نے ووٹ دیا پرویز خٹک نے کہا کہ میں وزیر اعلی پنجاب کو واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب میں اج بھی اردو کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کی پالیسی جاری ہے اس سے پاکستان میں 2 طبقے پیدا ہو رہے ہیں سرمایہ دار اور بڑے لوگوں کے بچے انگریزی نظام تعلیم پہلی جماعت سے پڑھتے ہیں اور اردو میڈیم بچوں کو میٹرک کے بعد جب انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے تو غریب کا بچہ کئی کئی سال ”ایف اے“ اور مشکل سے ”بی اے“ میں پاس ہوتا ہے کے پی کے میں ہم نے کلاس اول سے انگریزی زبان رائج کی اور یہ بچے اب پانچویں جماعت میں پہنچ چکے ہیں کے پی کے میں عربی کی تعلیم ہم نے معنی کے ساتھ شروع کرائی اور قرا?ن پاک کو بھی معنی کے ساتھ تعلیم کا ذریعہ بنایا جس سے بچوں میں عربی اور قرا?ن کی سمجھ کے علاوہ اچھا انسان بننے کے اوصاف بھی پیدا ہوہے ہیں پرویز خان خٹک نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ منتخب ہو کر 3 باتوں کو مد نظر رکھا ان میں سے یہ کہ عمران خان لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں، اداروں کو ٹھیک کرنے کا منظم ارادہ کیا اور صوبہ میں ترقی لانے اور عمران خان کی عزت بڑھانے کیلئے لوگوں کو ریلیف دیا حکومت بنانے کے بعد ہم نے عام ا?دمی کو فائدہ پہنچانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے کیونکہ سیاست میں رہ کر مجھے تجربہ تھا ہم نے کے پی کے میں لوگوں کو با اختیار بنانے کی طرف توجہ دی کیونکہ مجھے سیاست میں حکومت میں رہ کر طویل تجربہ حاصل ہوا تھا سب سے پہلے پولیس کو با اختیار بنانے کی طرف توجہ دی گئی کیونکہ پولیس عوام کو ہمیشہ رگڑا لگاتی تھی پنجاب میں پولیس ریفارم کیلئے میں کابینہ میں اکثر صدائے احتجاج بلند کرتا ہوں کیونکہ پولیس سیاسی رسہ کشی کا شکار رہی ہے ایک سیاستدان ڈی ایس پی اور دوسرا ایس ایچ او لگواتا ہے کے پی کے میں جب انہوں نے پولیس کو با اختیار بنایا تو بطور وزیر اعلیٰ ان کے پاس کانسٹیبل کو ٹرانسفر کرنے کا اختیار بھی نہیں تھا سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری عام تھی اور 50 فیصد اساتذہ غیر حاضر رہتے اور اسی وجہ سے 50 فیصد بچے بھی غیر حاضر رہتے ہم نے حاضری کو یقینی بنانے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم کے علاوہ 60 ہزار ٹیچرز مزید میرٹ پر بھرتی کیے اور 40 ارب روپے پرائمری تعلیم کے مختص کیے جس سے کے پی کے کے تمام سکول اب مثالی بن چکے ہیں پہلے اساتذہ کی غیر حاضری معمول تھی اب حاضری 100 فیصد کر دی گئی ہے اس عمل سے اساتذہ میرے خلاف ہوے تاہم ہم نے اپنے ایجنڈے پر عمل کیا ہسپتالوں کی حالت انتہائی دگرگوں تھی ان ہسپتالوں سے جانوروں کے ہسپتال بھی بہتر تھے صوبہ ستر سالوں میں صرف ساڑھے 4 ہزار ڈاکٹرز تھے جبکہ ہم نے 5 سالہ دور اقتدار میں 5 ہزار ڈاکٹرز بھرتی کیے ایسے ہسپتال جو عوام کو بہتر سہولیات فراہم نہ کر سکیں انہیں مسمار کر کے زمین بوس کرنا بہتر ہوتا ہے ہم نے عام ادمی کو ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی کوشش کی غریب ادمی اپنا علاج مشکل سے کرا سکتا تھا اور بعض اوقات اپنی جائیداد بھی گروی رکھنی پڑتی تھی اب 7 لاکھ روپے کا علاج غریب ادمی صحت کارڈ کے ذریعے کرا سکتا ہے 18 لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ جاری کر دیئے گئے ہیں اور سارے پاکستان میں ائندہ ہر مستحق شخص اور گھرانے کو یہ کارڈ دینے کا منصوبہ ہے اور یہ وفاق کی سطح پر یہ اصلاحات لارہے ہیں کیونکہ عمران خان مشن ہے کہ تمام وسائل غریب عوام پر خرچ کریں عام ادمی کو صحت، تعلیم اور بنیادی ضروریات کی فراہمی حکومت کی ائینی اور قانونی ذمہ داری ہے انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ کے پی کے میں پولیس، پٹواری، محکمہ تعلیم، صحت اور دفاتر کا نظام صحیح کیا اور بعض تھانوں کو 5 سٹار کی طرز کا بنایا اور ہسپتالوں کو بھی 5 سٹار بنایا پٹواری کے نظام کو درست کرنے پر انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تاہم جائیداد کے مالکان سے پٹواری سرکاری تنخواہ وصول کرنے کے علاوہ کیوں رشوت طلب کرے ہم نے پٹواریوں کو ان کے فراءض منصبی میں رشوت لینے سے روکا اور ان کے دور میں صوبہ میں پٹواری رشوت نہیں لیتے تھے ہم نے اس سلسلہ میں بارہا عوامی رائے طلب کی تاہم کچھ لوگ پٹواریوں کو زبردستی پیسے دیتے جس کا تدارک ممکن نہیں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کرپش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ہم نے تحڑیک انصاف کی حکومت کے دوران لوگوں کو عزت دی پٹوار خانہ، تھانہ، کچہری اور دفاتر میں عوام کو دی جانے والی عزت میں مزید اضافہ کیا جائے تو تحریک انصاف کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کر سکتی انہوں نے تعمیراتی کام میں ذاتی دلچسپی لی اور صوبہ میں کم لاگت سے سرکاری تعمیر و ترقی کے کام کرائے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسائل کے بجائے تبدیلی کی جانب ائیں ا ج بہت سخت حالات ہیں وفاق میں ا کر دیکھا ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے قومی خزانے کا جو حشر کیا وہ بیان سے باہر ہے حکومت کی امدن 50 روپے اور اخراجات 100 روپے کر کے پاکستان کی معیشت، تجارت، اقتصادی اور تجارتی صورتحال کا بیڑا غرق کر دیا گیا عمران خان نے سخت فیصلے کیے ہیں وقتی مسائل بہت ہیں انٹرنیٹ پر لوگ دیکھیں کہ کوریا، چین، ترقی اور دیگر ممالک جنہوں نے ترقی کی اس کی وجہ ان ممالک میں اچھی قیادت کا ہونا تھا 2 سال بعد اپ سمجھیں گے کہ عمران خان نے جو فیصلے کیے اس سے ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے سابق حکمرانوں نے ملک کی معیشت کابیڑہ غرق کیا امدن سے زائداخراجات کرکے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایاگیا ملکی اداروں کی اصلاح اورترقی کے لئے سخت فیصلے کرناپڑتے ہیں عمران خان ملک کو تمام بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں عوام کو تھوڑی مشکلات برداشت کرناہوں گی انے والادورخوشحالی کادورہوگا اداروں سے کرپشن لوٹ مار اوررشوت کو ختم کرکے اصلاحات لانی ہونگی ہم نے تعلیم پولیس اوردیگرشعبوں میں اصلاحات کرکے تبدیلی لائی اج پاکستان بدل رہاہے نیاپاکستان کی منزل قریب ہے عوام پی ٹی ائی حکومت کی پالیسیوں سے خوش ہے ملک ٹیکس سے چلتے ہیں عمران خان جیسا ایماندار لیڈر پاکستان کو ملا ہے عوام ووٹ دیتے وقت سمجھ بوجھ کا م ظاہرہ کرے تو پھر واضح تبدیلی کے امکانات روشن ہوتے ہیں عوام کی خدمت کر کے دلی راحت محسوس کرتا ہوں نوشہرہ میں بجلی گیس سمیت ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جب ہمارے پانچ سال پورے ہوں گے تو نوشہرہ میں کوئی بڑا مسئلہ باقی نہیں رہے گا

مزید : صفحہ اول


loading...