لانگ مارچ، مسلم لیگ (ن) باقی جماعتوں کو دیکھ کر فائنل فیصلہ کریگی

لانگ مارچ، مسلم لیگ (ن) باقی جماعتوں کو دیکھ کر فائنل فیصلہ کریگی

  



تجزیہ؛۔ایثار رانا

سیاست میں بسا اوقات جونظر آرہاہوتاہے حقیقت میں ویسانہیں ہوتا۔میاں نوازشریف کی موجودہ حکومت سے سخت نا پسندیدگی اپنی جگہ لیکن ایسا نہیں کہ وہ دشمنی میں اندھے ہوکر مولانا فضل الرحمن کے ہاتھ ”لائسنس ٹو کِل“ پکڑا دیں گے۔وہ بہت دیکھ بھال کے آخری فیصلہ کرینگے۔میری اطلاعات یہ ہیں کہ باقی سیاسی جماعتیں پوری طرح مولانا کے ساتھ نہ کھڑی ہوئیں تو میاں صاحب بھی تھوڑا پیچھے چلے جائیں گے۔اگر پیپلز پارٹی،اے این پی،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں اس لانگ مارچ میں علامتی حصہ لیتی ہیں تو (ن) لیگ کبھی نہیں چاہے گی کہ اپنا سارا وزن مولانا کے پلڑے میں ڈال دے۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں اور دھرنا ناکام ہوجاتا ہے تو مسلم لیگ (ن)کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوجائیگی۔لیگی وفد نے گزشتہ شب کی ملاقات میں مولانا کو اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ اگر دیگر جماعتیں اور بالخصوص پیپلز پارٹی لانگ مارچ میں بھرپور حصہ نہیں لیتی تو پھر مسلم لیگ (ن)بھی علامتی طور پر شرکت کرے گی۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کا بیانیہ نواز شریف نے مکمل طور پہ رد کردیا ہے تو ایسا غلط ہے۔چھوٹے بھائی اپنی یہ بات کسی حد تک منوانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ جوش میں ہوش کھونا خطرناک ہوگا۔لانگ مارچ کی ناکامی مسلم لیگ (ن)کی ناکامی تصور ہوگی۔اس میں کوئی شک نہیں لانگ مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)میں بڑے میاں صاحب کا فیصلہ ہی چلے گا لیکن وہ ایک زیرک سیاستدان ہیں وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ لانگ مارچ کی کامیابی کی صورت میں مولانا فضل الرحمن اکیلے ہیرو بن جائیں اور ناکامی کی صورت میں میاں نواز شریف کی سیاسی ساکھ کو مزید دھچکا لگے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ /رائے


loading...