مسلم لیگ (ن) کے وفد کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ، پنجاب خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت مارچ روکنے کیلئے متحرک

مسلم لیگ (ن) کے وفد کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ، پنجاب خیبر پختونخوا اور ...

  



پشاور (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماﺅں پر مشتمل وفد نے گزشتہ روز جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ۔ وفد نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ( ن) کے قائد نواز شریف کا خط اورخصوصی پیغام مولانا فضل الرحمان کو پہنچایا۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن نے جے یو آئی کے آزادی کی بھرپور حمایت اور اس میں شرکت کی یقین دہانی بھی کرائی دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے آزادی مارچ کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور آگے بڑھیں گے، پیچھے مڑنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔پشاور میں اپنی جماعت کی سالار فورس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے کارکنوں نے اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا، ہمارے کارکنوں اور مدارس کے طلبا نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کیہے۔اس موقع پر رضاکاروں نے مولانا فضل الرحمٰن کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا اور اپنی جانوں پر کھیل کر قیادت کے تحفظ کا حلف بھی اٹھایا۔حکومت کے خلاف مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم آگے بڑھیں گے، اب پیچھے مڑنے کا کوئی آپشن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کو چوری کرکے ناجائز حکومت کو ہم پر مسلط کیا گیا اور جب ہمارا جعلی وزیراعظم بیرون ملک جاتا ہے تو کوئی ان کا استقبال کرنے نہیں آتا۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہا کہ اس نااہل حکمران کی وجہ سے ملک پیچھے جارہا ہے، مغربی دنیا کا ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے اس کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا۔ملکی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت ڈوب رہی ہے، کارخانے بند ہورہے ہیں اور تاجر رو رہا ہے جبکہ وزیراعظم انڈے، مرغی اور کٹوں سے معیشت کو سنبھالتے سنبھالتے اب لنگر خانوں تک پہنچ چکے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں اور حمایت کے اعلان پر میں تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو مارچ کا آغاز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ہوگا۔حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دھرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پ±رامن لوگ ہیں اس لیے پارلیمنٹ ہاﺅس اور پی ٹی وی پر حملہ نہیں کریں گے اور تمہاری طرح اداروں کی دیواروں پر شلواریں بھی نہیں لٹکائیں گے۔حکومت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت نہیں پوری قوم اسلام آباد آرہی ہے، کیا ریاستی ادارے قوم کے ساتھ تصادم کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امن کا پیغام دے کر امن کی ضمانت چاہ رہے ہیں لیکن ہمیں روکنے کی بات کی جارہی ہے، میں ڈنڈے برداشت کرلوں گا مگر آپ تو ملا کی پھونک برداشت نہیں کرسکیں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قدم، قدم پر مشاورت کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور اگر ہمیں چھیڑا گیا تو پھر وہ گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین و قانون کا ساتھ دیا ہے اور آج بھی آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے تمام ادارے اگر آئین کی پاسداری کریں گے تو پھر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، ہمارے مینڈیٹ پر جو ڈاکا ڈالے گا اس کے خلاف جدوجہد کریں گے۔ کچھ لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں، ہم پر امن لوگ ہیں ہمیں نہ چھیڑا جائے، اگر ہمیں چھیڑا گیا تو پھر آپ گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

فضل الرحمان

 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) جمعیت علمائے اسلام (ف) آزادی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے پنجاب حکومت نے بھی کمر کس لی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی جس میں آزادی مارچ ناکام بنانے کی حکمت عملی تیار کی گئی اور مارچ کے حامی مسلم لیگ ن کے ارکان کےخلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ آزادی مارچ کی حمایت نہ کرنے والے لیگی رہنماو¿ں اور ارکان اسمبلی سے رابطوں کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کو 3 صوبائی وزراء اور پنجاب کی اہم شخصیت کو لیگی ارکان سے رابطوں کی خصوصی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار ن لیگی رہنماو¿ں اور ارکان اسمبلی سے رابطے اور ملاقاتیں کریں گے جس میں حکومت کی حمایت میں قائل کیا جائےگا جب کہ حمایت ملنے پر ان ارکان اسمبلیسے آٓزادی مارچ مخالف پریس کانفرنس بھی کرائی جائےگی۔تاہم رابطوں کا آغاز مسلم لیگ ن کے ا±ن ارکان سے ہوگا جو ماضی میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سے مل چکے ہوں گے۔ وفاقی حکومت نے بھی جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے وزیراعلی، گورنر، وزیر قانون، وزرا اور اتحادیوں سے تجاویز طلب کرلیں۔سربراہ جے یو آئی ایف مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ گرفتاری بھی زیر غور ہے۔مولانا فضل الرحمان، ان کے بھائیوں اور قریبی ساتھیوں کے پرانے کیسز بھی کھولنے کا امکان ہے۔حکومتی وزیر ڈیرہ اسماعیل خان میں زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو نیب سے تحقیقات کروانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔جے یو آئی (ف)کے سربراہ کو پنجاب کے کن کن مدارس سے مدد مل سکتی ہے، وفاق نے اس حوالے سے بھی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماوں کی فہرستیں بھی وفاق نے طلب کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت کی پہلی ترجیح میں آزادی مارچ کو بیک ڈور کے ذریعے ناکام بنانا شامل ہے۔چوہدری پرویز الہی، گورنر پنجاب سمیت دیگر رہنماں کا حزب اختلاف جماعتوں سے جلد رابطے کا امکان ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اتحادی جماعتوں کے رہنماں کو بھی بیک ڈور ڈپلومیسی کا ٹاسک دے دیا ہے۔دوسری طرف کے پی کے حکومت بھی آزادی مارچ کیخلاف حرکت مین آگئی خیبر پختونخوا کے وزیر ا طلاعات و تعلقات عامہ شوکت یوسفزئی نے جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے ڈنڈا بردار اور باوردی جھتے کی پشاور میں نکالے جانے وا لی مارچ کو ریاستی عمل داری کے لئے کھلا چیلنج اور نیشنل ایکشن پلان کے روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حرکت خوف و ہراس پھیلانے اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے ۔ اس میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف مقدمے درج کئے جائیں گے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بڑی مشکلوں اور قربانیوںکے بعد اس ملک میں امن و امان قائم ہو ا ہے اور عالمی سطح پر ملک کا امیج بہتر ہو گیا ہے لیکن اس طرح کی حرکتوں سے بیرونی دنیا میں ملک کا امیج خراب ہو رہا ہے اور ہمیں ایک لاقانون ریاست کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن حکومت کسی کو بھی چند ایک مسلح یا ڈنڈا بردار لوگوں کو اکٹھا کرکے ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور مدرسے کے چھوٹے بچوں کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کررہے ہیں جو کہ ایک قابل مذمت عمل ہے ۔ مولانا کو احتجاج کرنی ہے تو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں ، حکومت اس کو تحفظ فراہم کرے گی مگر مولانا کے پاس احتجاج کرنے کے لئے کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے ، وہ حکومت کو گرانے کی باتیں کررہے ہیں مگر انہیں یاد ہونا چاہیے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حکومت ہے جس سے عوام نے پانچ سال کے لئے بھاری مینڈیٹ سے منتخب کیا ہے ۔ مولانا کو اگر عوام کے پاس جانا ہے تو اس کے لئے انہیں مزید چار سال انتظار کرنا پڑے گا اور تب بھی عوام انہیں مسترد کریں گے ۔مولانا فضل الرحمان اب بے روزگار ہیں اور وہ اپنے لئے روزگار تلاش کر رہے ہیں ۔ وہ ہر اس نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس کا وہ حصہ نہیں ہوتے ۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان عالمی دنیا میں کشمیر کے سفیر بن کر کشمیریوں کی جنگ لڑ رہے ہیں ، بردار اسلامی ممالک کے درمیان مصالحت کروا رہے ہیں، ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے یہ دن رات کوششیں کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف مولانا مہنگائی کا رونا رو کر مدرسے کے بچوں کو اپنی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملک ترقی کی بجائے پسماندگی کی طرف چلا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان نے پچھلے پندرہ سالوں سے مسلسل کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں لیکن انہیں ایک دن بھی کشمیریوں کے لئے دھرنا دینے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی ۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی دن رات کوششوں کی وجہ سے ملک کی حالات بہتر ہونے لگے ہیں ، حکومتی اخراجات میں 36فی صدکمی آئی ہے ، تجارتی خسارہ 35فی صد کم ہو گیا ہے ، روپے کی قدر میں استحکام آرہا ہے ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے ، آٹھ لاکھ لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لایا گیا ہے ، ملکی برآمدات بڑھ رہی ہیں اور حکومت پر پوری قوم کا اعتماد بحال ہو گیا ہے ایسے حالات میں جو کوئی بھی لوگوں کو سڑکوں پے لاکر افراتفری پھیلانے کی کوشش کرے گی تو وہ ملک و قوم کا خیر خواہ ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستانی قوم نے مولانا سمیت نواز شریف اور زرداری سب کو مسترد کر دیا ہے ۔ مولانا بے روزگار ہو گئے ہیں جبکہ زرداری اور نواز شریف کرپشن کے مقدمات میں جیلوں میں بند ہیں اور یہ سب احتساب کے ڈر سے ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حکومت ان سب کا کڑا احتساب کرے گی کیونکہ عوام نے احتساب کے نام پر ہی پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں لایا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ مولانا انتخابات میں دھاندلی کی بات تو کرتے ہیں مگر ایک سال گزرنے کے باوجود کسی ایک حلقے کا بتا نہیں سکے اور نہ ہی وہ کسی عدالت گئے ، انہیں چاہیے کہ وہ دھاندلی شدہ حلقہ بتائیں اور حکومت اس پے بھر پور کارروائی کرے گی ۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف اپنی طاقت کے مظاہرے کی بات کررہے ہیں لیکن ان کے پاس نہ طاقت ہے اور نہ کوئی اخلاق جواز۔ اگر ان پاس عوامی طاقت ہوتی تو انہیں روزانہ دوسرے سیاسی جماعتوں کے درپر حاضری دینے کی ضرورت نہ ہو تی ۔ مہنگائی کا مسئلہ ملک میں دھرنوں کے ذریعے افراتفری پیدا کرنے سے حل نہیں ہو گا بلکہ بہتر معاشی پالیسیوں اور ٹھوس اقدامات سے حل ہو گا جس کے لئے حکومت دن رات کوششیں کر رہی ہیں۔ شوکت یوسفزئی نے مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں کو قوم کے بچے قرار دے کر تمام مدرسوں کے علمائے کرام سے اپیل کی وہ مدرسوں کے ان بچوں کو کسی کے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ ہونے دیں ۔

حکومت متحرک

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیںاور دونوں برادر ممالک کے درمیان اختلافات مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں ، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے لیکن اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازع سے نہ صرف خطے کے امن و سلامتی بلکہ معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کے صدر کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں یہ تیسری ملاقات ہے،ان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تجارت پر بھی بات ہوئی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں،مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت پر ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں،بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں قید کر رکھا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ایران آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع نہ ہو، پاکستان نے طویل عرصے تک دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور 70ہزار جانیں قربان کیں،ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع جڑ نہ پکڑ سکے کیونکہ خطے میں پہلے ہی افغانستان اور شام میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات انتہائی تاریخی اور گہرے ہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ ایران سعودی تنازعے سے خطے کے امن کے ساتھ معیشت کو بھی شدید خطرہ ہے، تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے خطے میں اس قسم کا تنازع انتہائی نقصان دہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ وہ منگل کو سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے صدر حسن روحانی سے مشاورت حوصلہ افزا رہی جبکہ مثبت سوچ کے ساتھ سعودی عرب جاﺅں گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے دورے اور بات چیت پاکستان کا اپنا اقدام ہے، دونوں ملکوں کے درمیان سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے تاہم ان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کردار ادا کرنے کو کہا، آج ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے اور امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی پابندیوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔انہوں نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے سب کچھ کریں گے تا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہو اور پابندیاں اٹھائی جا سکیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر پڑوسی اور دوست ملک ہیں، دونوں ملک مل کر خطے کے استحکام کے لیے کاوشیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوئی ہے، پاکستان اور ایران خطے کے مسائل بات چیت سے حل کرنے کے حامی ہیں، پاکستانی اور ایرانی قیادت کی ملاقاتیں خطے میں صورتحال کی بحالی کیلئے اہم ہیں۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی ہے، ایران کا دورہ کرنے پر وزیراعظم عمران خان کے شکرگزار ہیں۔ حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہوں نے زور دیا کہ یمن میں جنگ کا خاتمہ اور انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان، سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی کے خاتمے سے متعلق سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تہران پہنچے تھے جہاں انہوں نے ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کی۔دونوں رہنماﺅں کے مابین خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایران نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کوششوں کو خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران مل کر خطے کے درینہ مسائل کے حل کےلئے پرخلوص کوششیں کرسکتے ہیں،خطے کے مسائل مذاکرات اور مقامی وسائل کے ذریعے حل کئے جانے چاہئیں ، مثبت رویہ کا مثبت انداز میں جواب دیا جائیگا ،اگر کوئی ملک سمجھتا ہے خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے،یمن میں فوراً جنگ بندکر کے وہاں کے عوام کی مدد کی جائے، امریکا ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کوبہت اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کو مستحکم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہے۔ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے قائدین نے یمن میں جنگ اور ایران پر امریکی پابندیوں سمیت دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور بھی زیر بحث آئے۔حسن روحانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماو¿ں کے مابین سیکیورٹی اور امن و امان سے متعلق صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ایرانی صدر نے کہاکہ میں نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا کہ ہم پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کی کوششوں کا خیر مقدم کریں گے۔حسن روحانی نے ایران کے دورے پر وزیراعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا۔ایرانی صدر نے کہا کہ خطے کے مسائل مذاکرات اور مقامی وسائل کے ذریعے حل کیے جانے چاہیئں ہم نے زور دیا کہ مثبت رویہ کا جواب مثبت انداز میں دیا جائےگا۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے جوہری معاہدہ کی بحالی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ ایرانی صدر نے کہاکہ پاکستان اور ایران پڑوسی دوست ممالک ہیں، پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سے حالیہ واقعات خصوصاً خلیج فارس اور دیگر معاملات پر بات کی۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ یمن میں فوراً جنگ بند کی جائے جبکہ وہاں کے عوام کی مدد بھی کی جائے، امریکا کو چاہیے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف امریکا کے جابرانہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

عمران خان

مزید : صفحہ اول


loading...