حکومت نے نیب آرڈیننس1999 اور بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ2017 میں ترمیم کافیصلہ

حکومت نے نیب آرڈیننس1999 اور بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ2017 میں ترمیم کافیصلہ
حکومت نے نیب آرڈیننس1999 اور بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ2017 میں ترمیم کافیصلہ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت نے نیب آرڈیننس1999 اور بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ2017 میں ترمیم کافیصلہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے،نیب ترمیم کے مطابق 50 ملین سے زائد کرپشن میں ملوث ملزم کو جیل میں سی کلاس دی جائے گی،ملزم کو انکوائری اورانویسٹی گیشن یاٹرائل کے دوران بھی سی کلاس جیل میں رکھا جائے گا،سی کلاس جیل سے متعلق نیب ترمیمی بل 1999 کے سب سیکشن 10 میں نئی شق شامل کردی گئی،نیب ترمیمی آرڈیننس منظوری کیلئے آج وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

حکومت کا بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا ہے،بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ میں ”وسل بلور“کی تعریف شامل کردی گئی،بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے سیکشن 2 میں شق نمبر31 کا اضافہ کردیاگیا،ترمیم کے مطابق کوئی بھی شخص اینٹی کرپشن قانون کے تحت بے نامی اثاثوں کی نشاندہی کر سکے گا ،وسل بلور نیب ،ایف آئی اے ،اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت شکایت کر سکے گا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...