ترکی کی جانب سے جنگ کا آغاز، شامی صدر بشارالاسد بھی میدان میں آگئے، بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

ترکی کی جانب سے جنگ کا آغاز، شامی صدر بشارالاسد بھی میدان میں آگئے، بڑا خطرہ ...
ترکی کی جانب سے جنگ کا آغاز، شامی صدر بشارالاسد بھی میدان میں آگئے، بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

  



دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام کے کرد جنگجو شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے اتحادی تھے اورشامی صدر بشارالاسد کی حکومتی افواج کے خلاف بھی محاذ کھولے ہوئے تھے۔ اب شام پر ترکی کے حملے کے بعد اس حوالے سے خلاف توقع ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اب تک امریکہ کے اتحادی رہنے اور شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے کردجنگجوﺅں نے شامی حکومت کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔ حکومت اور کردوں میں ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت شام کی فوج کردوں کے زیرقبضہ علاقے میں ترکی کے بارڈر پر تعینات کی جائے گی جو کرد جنگجوﺅں کو ترک افواج کے ساتھ لڑائی میں بھی مدد دے گی۔اپنے فیس بک اکاﺅنٹ پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے بتایا ہے کہ اس معاہدے کے بعد اب کرد جنگجو اور شامی فوج مل کر ترکی کے زیرقبضہ افرین اور دیگر شہروں کو آزاد کرائیں گے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے تحت کرد جنگجوﺅں کے زیرقبضہ شہر تل تمر میں شامی فوج تعینات بھی کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترکی نے شام کے شمالی علاقے پر گزشتہ دنوں حملہ کیا ہے جہاں ترک افواج کی پیش قدمی جاری ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق گزشتہ روز ترک افواج نے غلطی سے ایک ایسے قافلے پر حملہ کر دیا جس میں غیرملکی صحافی اور امدادی کارکن جا رہے تھے۔ اس حملے میں قافلے میں شامل 10لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے۔رپورٹ کے مطابق ترک افواج نے جس علاقے پر حملہ کیا ہے وہ کرد جنگجوﺅں پر مشتمل ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ کے زیرقبضہ ہے اور یہاں شامی حکومت کی کوئی عملداری نہیں ہے۔ اب اس معاہدے کے تحت سیرین ڈیموکریٹک فورسز شامی حکومت اور اس کی افواج کو اس علاقے تک رسائی دیں گی۔ واضح رہے کہ کرد جنگجو اگرچہ اب تک امریکہ کے اتحادی رہے اور اب شامی حکومت کے اتحادی بن گئے ہیں تاہم ترکی انہیں دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ترکی کے مطابق کرد جنگجو ترکی کے اندر متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔ شام پر حملے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے اپنے بیان میں بھی کہا تھا کہ اس حملے کا مقصد کرد دہشت گردوں کی ترکی میں شدت پسندانہ کارروائیاں روکنا اور ترکی اور شام کے بارڈر پر ایک سیف زون قائم کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرد جنگجوﺅں نے شام کی 8سالہ جنگ کے دوران اس علاقے پر قبضہ کرکے آہستہ آہستہ اپنی طاقت بڑھائی اور یہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اب شامی حکومت کے ساتھ اس معاہدے کے بعد ایک بار پھر صدر بشارالاسد کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور یہ علاقہ ایک بار پھر شامی افواج کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...