وہ دلوں کی ملکہ اوروہ دل کا ڈاکٹر۔۔۔

وہ دلوں کی ملکہ اوروہ دل کا ڈاکٹر۔۔۔
وہ دلوں کی ملکہ اوروہ دل کا ڈاکٹر۔۔۔

  



خوبرو چہرہ اور چہرے پر ہروقت سجی مسکراہٹ، خوشنما لباس اور شاہی محفلوں میں چمکتا ستارا، یہ ہیں برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا، شہزادہ چارلس سے ازدواجی تعلقات خراب ہوئےتو ڈیانا نے غم اورخوشی کو بانٹنے کیلئے دوست کی تلاش شروع کردی، ڈیانا کی زندگی میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب1995 میں ان کی ملاقات رائیل برمٹن اسپتال میں دل کے سرجن ڈاکٹر حسنات خان سے ہوئی جن کا تعلق پاکستان سے تھا، اس اسپتال میں ڈیانا اکثر آیا جایا کرتی تھی۔

 ایک بار ڈاکٹر حسنات نے ڈیانا کو ایسٹ لندن میں واقع اپنے گھر پر مدعو کیا، لہذا ملاقاتوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا اور پھر دوستی محبت میں بدل گئی،اسی دوران شہزادہ چارلس اور ڈیانا میں طلاق ہوگئی، لیڈی ڈیانا ڈاکٹر حسنات کو ’مسٹرونڈرفل‘ کہتی تھیں اور انہیں اپنا سچا اور حقیقی پیار سمجھتی تھیں۔

 لیڈی ڈیانا کی دوست سیمون سمنز کے مطابق لیڈی ڈیانا کہتی تھیں کہ حسنات اس کی زندگی کا وہ واحد شخص ہے جسے کسی چیز کی طلب نہیں، وہ فلیش مارتے کیمروں، میڈیا اور بڑے لائف اسٹائل سے دور ڈاکٹر حسنات کے ساتھ ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتی تھیں، مسز سمنز کے مطابق حسنات کا خیال کا تھا کہ دونوں صرف اسی صورت ایک عام زندگی گزارسکتے ہیں اگر ڈیانا اس کےساتھ پاکستان منتقل ہوجائیں اور ایک وقت میں تو ڈیانا ایسا ہی کرنے کا سوچ رہی تھیں، جبکہ ڈیانا اپنی دوست جمائما سے اس کا تذکرہ بھی کرچکی تھیں کہ پاکستان میں آکر زندگی گزارنا کیسا رہےگا، لیڈی ڈیانا نے اسی دوران پاکستان کا دورہ بھی کیا وہ ڈاکٹر حسنات کےوالدین سے بھی ملاقات کرنا چاہتی تھیں جو ممکن نہ ہوسکا، پھر اس محبت کی کہانی میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں، ڈیانا اور حسنات نے جون 1997 میں تعلقات ختم کرلئے، اب ڈیانا کی زندگی میں مصری ارب پتی شخص کا بیٹا دودی الفائد آچکا تھا۔

ڈیانا کی ایک اور قریبی دوست روزا مونکٹن کے مطابق ڈیانا سے پیرس حادثے سے دو ہفتے قبل ملاقات ہوئی، اس وقت بھی ڈیانا کے دل میں ڈاکٹر حسنات کی محبت موجود تھی، اور یہ بات واضح تھی کہ ڈاکٹر حسنات سے تعلقات ختم ہونے پر وہ رنجیدہ تھیں اور اسی غم کو بھلانے کیلئے دودی سے تعلقات بنالئے تھے، مونکٹن کے مطابق ڈیانا ڈاکٹر حسنات سے بہت پیار کرتی تھیں، اور امید کرتی تھیں کہ اس کی ڈاکٹر حسنات سے شادی ہو اور وہ دونوں اکٹھے زندگی گزاریں۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ، اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان پر بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ