نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر پراسیس جلد مکمل کیا جائے

نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر پراسیس جلد مکمل کیا جائے

  

وزیراطلاعات جناب فواد چودھری نے ٹویٹر پر پیغام دیا ہے کہ: وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئی تقرری کا پراسیس شروع  ہے۔ ایک بار پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کے لئے تمام ادارے متحد اور یکساں ہیں“…… ایک روز پہلے انہوں نے قوم کو یہ اطلاع دی تھی کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہے۔ اس کے لئے آئینی اور قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ وزارت دفاع کی جانب سے اس تقرری کے لئے جو سمری وزیراعظم کو بھیجی جائے گی، اس میں (کم از کم) تین نام ہوں گے۔ وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کے درمیان اس حوالے سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے، انہوں نے واضح طور پر یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعظم آفس کی طرف سے کوئی ایسا قدم اٹھایا جائے گا نہ فوج کی طرف سے جس سے ایک دوسرے کی عزت کو نقصان پہنچے۔ ان کا مزید کہنا تھا سوشل میڈیا پر بہت سے عناصر ایسی خواہشات کا اظہار کررہے ہیں لیکن میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم آفس بھی پاکستانی فوج اور چیف آف آرمی سٹاف کی توقیر میں کمی نہیں آنے دے گا، نہ ہی فوج کبھی کوئی ایسا اقدام کرے گی جس سے وزیراعظم یا سول سیٹ اپ کی عزت میں کمی آ سکتی ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم اور فوجی قیادت ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں ہیں اور تمام قانونی ضروریات پوری کرنے کے بعد نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر کر دیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے چیف وہپ اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی مشیر جناب عامر ڈوگر نے بعدازاں اس میں اتنا اضافہ کر دیا کہ وزیراعظم کی خواہش تھی کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال کی وجہ سے موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کو کچھ عرصے کے لئے اپنے منصب پر کام جاری رکھیں۔ انہوں نے میڈیا کو یہ اطلاع بھی فراہم کی کہ وزیراعظم کی بدن بولی مثبت تھی، اور وہ پر اعتماد لگ رہے تھے۔ انہوں نے کابینہ کو بتایا کہ میں ایک منتخب وزیراعظم اور ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوں۔ ڈوگر صاحب نے بھی یہ واضح کیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے لئے وزیراعظم کو سمری بھجوائی جانی چاہیے جس میں کم از کم تین نام تجویز کئے گئے ہوں، وزیراعظم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

جناب وزیراطلاعات اور وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر دونوں کی گفتگو سے پتہ چل رہا ہے کہ ایک تازہ سمری وزیراعظم ہاؤس کو بھجوائی جائے گی جس میں درج ناموں میں سے وہ کسی ایک کا انتخاب کریں گے، گویا چند روز پہلے آئی ایس پی آر کی طرف سے معمول کی تقرریوں اور تبادلوں کے زیر عنوان جو خبر جاری کی گئی تھی، اس کا یہ حصہ موثر نہیں رہا، جس میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ پشاور کور کی کمان سنبھالیں گے،ان کی جگہ کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد ڈی جی آئی ایس آئی کے فرائض ادا کریں گے۔یہ خبر تو نشر ہو گئی اور چھپ بھی گئی لیکن وزیراعظم آفس کی طرف سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا، اس پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملنے لگیں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے البتہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اس اہم موضوع پر خیال آرائیوں کی حوصلہ افزائی نہ کی۔ تاہم ہر گزرتا دن اضطراب میں اضافہ کر رہا تھا کہ وزرائے کرام نے خود زبان کھول لی اور وہ سب کچھ بیان کر دیا جس کی سرکاری ذرائع کئی روز سے تردید کرتے رہے تھے۔

اس بات میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ وزیراعظم اس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں، ان کے مشیر صاحب کو (کابینہ کے اجلاس کے دوران) ان کی بدن بولی کا تذکرہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی کہ انہیں اپنے منصب کے حوالے سے پراعتماد ہی نظر آنا چاہیے۔ یہ کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ پُراعتماد تھے، خبر یہ ہے کہ اگر وہ پُراعتماد نظر نہ آ رہے ہوں، اگر (اپنے آپ پر) اعتماد کا اظہار کرتے نظر آ رہے تھے تو اچھی بات ہے جہاں تک وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کے درمیان قریبی رابطے کا تعلق ہے اور دونوں کی طرف سے ایک دوسرے کی توقیر کو نقصان نہ پہنچانے کے عزم کا معاملہ ہے، اسے بھی کوئی غیر معمولی سمجھنا یا سمجھانا نہیں چاہیے، دونوں ذمہ دار ترین افراد ہیں۔ پاکستان کے اہم ترین مناصب پر  رونق افزا ہیں، اس مرتبے اور مقام کے حاملین کو ایک دوسرے کی عزت کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہوں نے کیا ہوگا۔ اس لئے یہ یقین دہانی کہ دونوں ایک دوسرے کی عزت کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کچھ نہیں کریں گے، اس میں بھی خبریت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ دونوں کے فرائض منصبی کا تقاضا ہی یہ ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری وزیراعظم کا اختیار ہے، ان کا تقرر وہی کرتے ہیں اور ڈی جی صاحب انہی کو جوابدہ ہوتے ہیں، یہ اور بات کہ حاضر سروس فوجی ہونے کی وجہ سے وہ اپنے محکمہ جاتی ڈسپلن سے بھی مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔ جو بات قوم کو پریشان کر رہی تھی، اس کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا۔ صلاح مشورے کا پراسیس مکمل کئے بغیر خبر کیسے جاری ہو گئی اور اگر جاری ہو ہی گئی تھی تو اس بات کا بتنگڑ کیوں بننے دیا گیا۔ وزیراطلاعات کی تازہ ترین ٹویٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ پراسیس کالعدم ہو چکا ہے، نئے سرے سے کارروائی شروع ہوئی ہے، گویا جو تین نام پیش کئے جائیں گے، ان میں سے کسی کا انتخاب کر لیا جائے گا، اگر پراسیس شروع ہو چکا ہے تو پھر وزیراعظم کی اس خواہش کا کیا بنا کہ موجودہ ڈی جی افغانستان کی پیچیدہ صورت حال کی وجہ سے کچھ عرصے کے لئے کام جاری رکھیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر افغانستان کی صورت حال کو جواز بنا لیا جائے تو پھر یہ سلسلہ طویل بھی ہو سکتا ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے جس بحرانی کیفیت کا افغانستان کو سامنا ہے آئندہ چند روز میں اس کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ بتایا گیا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اگر ایک سال تک کور کی کمان نہیں کریں گے تو ان کا آئندہ کیرئیر اس سے متاثر ہو سکتا ہے کہ نئے آرمی چیف کے تقرر کے لئے زیر غور آنے والے ناموں میں ان کے نام کی شمولیت اس سے مشروط ہے۔

اب جبکہ (بقول وزیراطلاعات) پراسیس کا آغاز ہو چکا ہے تو یہ گزارش بے جا نہ ہو گی کہ اسے جلد از جلد مکمل کر لیا جائے اور آئندہ اس طرح کے معاملات سے قوم کے اعصاب کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کی کسی بھی طرف سے کوئی حوصلہ افزائی نہ ہو۔ پاکستان 22کروڑ عوام کا ملک ہے۔ ایٹمی طاقت ہے۔ اس کے معاملات کو طے کرنے والوں کو یہ حقیقت اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پاکستان اداروں کے درمیان تصادم کے سنگین اثرات بھگ چکا ہے، ہمارا دستوری نظام ایسی کسی مشق کو دہرانے کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -