لاہور کی انتظامی تقسیم کیوں؟

لاہور کی انتظامی تقسیم کیوں؟

  

دانشوروں کے مطابق اختیارات کے ارتکاز کی بجائے نچلی سطح تک تقسیم فائدہ مند ہوتی ہے۔ بلدیاتی نظام کی افادیت بھی یہی ہے کہ مقامی سطح تک اختیارات منتقل ہوں، اب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ لاہور کی آبادی بڑھ جانے کے باعث مسائل بڑھ گئے ہیں، اس لئے اسے دو اضلاع میں تقسیم کر دیا جائے، تاکہ انتظامی امور بہتر ہوں، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ تفصیلی نقشے بنا کر تجویز کی تفصیلات پیش کی جائیں، انتظامی تقسیم بھی بہتری کے لئے ہو تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، تاہم غور کی ضرورت یہ ہے کہ لاہور بلدیاتی نظام کے تحت 8حصوں میں تقسیم ہے جو ٹاؤن کہلاتے ہیں، ہر ٹاؤن کی انتظامیہ اور منتخب اراکین اپنے اپنے تھے اور اوپر ضلعی ایوان تھا، موجودہ حکومت نے خود آکر یہ نظام ختم کر دیا اور عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے باوجود ابھی تک بحال نہیں ہوا، اب کوئی نیا بلدیاتی نظام وضع کرکے متعلقہ قوانین کی جگہ نیا قانون بنایا جا رہا ہے، اس عرصہ میں سابقہ بلدیاتی اداروں کی مدت دسمبر میں ختم ہو جائے گی۔ اس لئے بہتر بات یہ ہے کہ پہلے جو ڈھانچہ موجود تھا اسے بحال کرکے اس کی افادیت کا جائزہ لیا جائے کہ اضلاع بڑھانے سے اخراجات بھی بڑھتے ہیں، یوں بھی کراچی کے تجربے کو سامنے رکھنا چاہیے۔یہ بھی یاد رکھیں کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کاکوئی متبادل نہیں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -