کنفیوژن سے گریز کریں! 

کنفیوژن سے گریز کریں! 
کنفیوژن سے گریز کریں! 

  

منگل کو ہونے والے ہفتہ وار کابینہ اجلاس میں جو فیصلے ہوئے۔ ان کی خبر کے لئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے معمول کی پریس کانفرنس میں فیصلوں کے بارے میں بریفننگ دی اور سوالات کے جواب بھی دیئے، ان کی طرف سے دارالحکومت (شہر اقتدار) میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے بھی خود ہی اطلاعات بہم پہنچائی گئیں۔ میں نے اپنے گزشتہ ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ ہم میڈیا والے (خصوصاً پرانے دور کے) افواج پاکستان کے حوالے سے احتیاط کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کے اس ادارے کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں۔ جن پر وہ عمل کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں احتیاط ہی کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی یہ گزارش بھی کی تھی کہ موجودہ دور حکومت میں خود حکمران جماعت کے معتبر حضرات ہی قوم کو غور کا موقع دیتے اور وفاقی دارالحکومت میں افواہیں یقینی ہیں۔ میری یہ عرض پھر خود حکومتی ذرائع ہی نے ثابت کر دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے تو یہ کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کی کہ جو بھی ہوگا قانون و آئین کے دائرے میں ہوگا۔ انہوں نے یہ اطلاع بھی فراہم کی کہ ایک روز قبل وزیر اعظم اور سپہ سالار کی طویل ملاقات ہوئی اور ان دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی ان دونوں کی طرف سے کوئی ایسا اقدام ہوگا جس سے کسی ایک کی انا کو ٹھیس پہنچے، وزیراعظم نے بھی کہا ایک پیچ پر ہیں، تعیناتیوں کا کوئی اختلاف نہیں، یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر اس سے قبل کچھ اور بھی کہتے رہے ہیں۔ یہ موقع اس ذکر کا نہیں۔

میں یہاں حزب اقتدار ہی کے ایک معتبر رکن عامر ڈوگر کی گفتگو کا ذکر کروں گا، جنہوں نے خود ہی لوگوں کی گفتگو کو زبان دے دی ہے۔ اگرچہ انہوں نے دفاع کی بھرپور کوشش کی مگر کیا کیا جائے اگر بات گھوم پھر کر وہاں آئی جہاں سے سوشل میڈیا والوں کے ہاتھ لگی تھی وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ جنرل فیض حمید کم از کم چھ ماہ اس عہدہ (ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی) پر برقرار رہیں، افغانستان کے حوالے سے ان کی خدمات بہت ہیں اور حکومت ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ انہی عامر ڈوگر محترم نے یہ بھی فرمایا کہ سپائی ماسٹر کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے، ان کو چار نام بھیجے جائیں گے ان میں سے کسی ایک کا تقرر ہوگا۔ اس حوالے سے فواد چودھری کا کہنا ہے کہ پہلے دو نام آیا کرتے تھے۔ پھر فیصلہ ہوا کہ تین نام آئیں گے اور فیصلہ وزیراعظم کریں گے، تعیناتی ان کا اختیار ہے۔ قارئین کرام! اس حوالے سے ابھی تک فوج کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا۔ وہاں خاموشی ہے کہ نظم و ضبط کا معاملہ ہے۔ اب میں کچھ نہ بھی کہوں تو یہ بات ظاہر ہے کہ اس پورے معاملے میں بھی خود حکومتی اراکین حتیٰ کہ ترجمان ہی کی طرف سے بہت کچھ سامنے آیاا ور اسی بناء پر لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر اب بھی صفحہ ایک ہی ہے اور احترام باہم کا رشتہ جوں کا توں ہے

تو پھر بقول فواد چودھری وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کی طویل ملاقات میں کیا مسئلہ زیر بحث آیا، اب اگر قومی حلقوں  اور سیاسی جماعتوں میں بات ہو تو پھر کس کا قصور ہوگا؟ آئی ایس پی آر نے تو متعدد تبادلوں کے حوالے سے خبر دی تھی۔ اسی میں بتایا گیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پشاور کور کے کور کمانڈر ہوں گے اور کراچی کور والے لیفٹیننٹ جنرل ندیم ملک آئی ایس آئی کے چیف ہوں گے۔ مزید تبادلے بھی ہوئے۔ اور تو کسی تبادلے پر بات نہ ہوئی، حساس ایجنسی ہی کے معاملے کو چھیڑا گیا اسے بھی بعد میں افہام و تفہیم سے طے کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔ ابتدا میں تو اختیارات کی بات کی گئی تھی۔ اسی لئے یہ سب ہوا۔ مجھے تو یہ افسوس ہے کہ عامر ڈوگر صاحب نے وزیر اعظم اور کابینہ کے حوالے سے جنرل فیض حمید کی اہلیت کا ذکر اور تعریف کر کے ان کی عظمت کا اظہار کیا، لیکن یہ بھول گئے کہ جنرل ندیم ملک کی پروفائل بھی لوگوں کے سامنے ہے اور پھر یہ بھی طے ہے کہ اس سے قبل کئی کور کمانڈر تبدیل ہوئے اور جی ایچ کیو میں بھی تبادلے ہوئے، کسی نے سوچا تک بھی نہیں، اگر کہیں کوئی بات ہوئی تو انہی تبادلوں والے افسروں کی اہلیت ہی کی ہوئی۔

میری گزارش ہے کہ حزب اقتدار والوں کو خود ہی اپنے کہے الفاظ اور رویئے پر غور کرنا چاہئے۔ جب آپ بار بار اور زور دے کر کہتے ہیں کہ کوئی اختلاف نہیں تو پھر تفصیلی ملاقات کا ذکر چہ معنی دارد، یہ وہی جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں جن کی توسیع (مدت) کے لئے عدالت عظمیٰ تک بات گئی اور پھر چٹ منگی پٹ بیاہ ہو گیا اور قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظوری بھی دے دی اور مخالفت بھی نہ ہوئی۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ امر عوام تک آنا ہی نہیں چاہئے، اسے اوپر ہی اوپر طے ہونا چاہئے تھا۔ آخر کار کئی روز کے بعد کیوں خیال آیا کہ جنرل فیض حمید کی مزید خدمات درکار ہیں اور پھر آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ افغانستان کا معاملہ اس عرصہ میں مکمل طور پر حل ہو جائے گا اور کیا آپ یہ جتا کر ایسا تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے سپائی ماسٹر کی افغانستان کے معاملات میں مکمل مداخلت ہے اور ان کی جگہ دوسرے صاحب وہ کچھ نہیں کر سکیں گے جو مذکورہ افسر کر رہے تھے۔ 

میری عرض ہے کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ معاملہ حل ہو چکا تو پھر اسے حل کر کے بھی دکھا دیجئے ابھی تو اگلے سال یا 2023ء میں پھر ایک مرحلہ آنا ہے۔ آپ کے مطابق یہ مرحلہ اگلے سال کے آخر میں آئے گا جبکہ ہمارے اکثر آئینی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مشکل مرحلہ 2023ء کے وسط میں آئے گا۔ ان کی یہ دلیل سپریم کورٹ کے اس حکم کی تصریح کے سبب ہے جو آئینی درخواست کی سماعت کے بعد دیا گیا۔

اس حوالے سے دفاعی ماہر شہزاد چودھری واضح کرتے ہیں کہ فوج میں کوئی بھی افسر اپنی پسند کی پوسٹنگ نہیں لے سکتا۔ کہ قواعد و ضوابط کا معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایس آئی وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔ یوں بات چلی تو دور تک گئی۔ چلتی رہی تو اور کہیں جائے گی۔ ہمارے شیخ رشید اس حوالے سے کافی ہیں کہ وہ ترجمانی کے فرائض ادا کرتے رہتے ہیں، ایک بار پھر گزارش ہے کہ ان امور کو عوامی بحث نہ بنائیں کہ اپوزیشن کو بھی موقع ملا اور وہ کسی اور طرح کی باتیں کر رہے ہیں اگر آئین و قانون کی بات ہے تو یہ صرف ایک مسئلہ یا معاملہ پر موقوف نہیں۔ ہر کام آئین اور قانون ہی کے مطابق ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -