اب پھر سموگ کا چیلنج  

اب پھر سموگ کا چیلنج  
اب پھر سموگ کا چیلنج  

  

اللہ تعالی نے یہ ماحول،یہ جنگلات، کائنات انسان کے لیے ہی بنائی ہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا جب لوگوں  کو اپنے ماحول  کے صاف اور محفوظ رکھنے کا بڑا خیال تھا  لیکن جب پیسے اور خود غرضی نے انسان کے دل میں اپنا گھر بسایا تو یہ تمام خیالات ہوا میں بھاپ کی ماند غائب ہوگئے۔ اب حالات یہ ہیں کہ ماحول کے تحفظ اور آلودگی کے خاتمے کے لیے کے لیے مطلوبہ اقدامات سنجیدگی کے ساتھ نہیں کیے جارہے اور دنیا مست ہو کر ماحول کو تباہ کرنے میں مشغول نظر آتی ہے۔ ناسا کیسابق  ڈائریکٹر چارلس بولدن نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی آج کی نسل کے لیے اہم چیلنج ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں، ترقی یافتہ ریاستوں میں بھی انسان اپنے مفاد کی خاطر انسانی زندگی کو داؤ پر لگاتے ہیں اور چند پیسوں کے لیے آنے والی نسلوں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا گھبرانا نہیں ہے، ہم پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ انہوں نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں۔ مثال کے طور پر وہ بالکل بھول گئے ہیں کہ وہ خود کو فطری ماحول کا شیدائی کہتے ہیں۔2019 میں بھارت کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے بم گرانے کے بعد  انہوں نے عالمی برادری کے سامنے  یہی موقف اختیار کیا تھا کہ بھارت ہمارے درخت گرا گیا ہے۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کا کیا ہوا؟۔ ماضی گواہ ہے کے اگر کسی چیز پر مکمل طریقے سے دھیان دو خواہ وہ پڑھائی ہو یا جنگ،کامیابی حاصل ہو ہی جایا کرتی  ہے - لیکن اس کا  کا تقاضہ ہے کسی کام کو انجام دینا ہو تو اس پر پوری طرح سے توجہ دی جائے، موجودہ حکومت کا آج تک ایسا عزم نظر نہیں آیا۔

سموگ پاکستان کی صحت عامہ کی ایمرجنسی ہے۔ سموگ ماحول کی آلودگی اور پانی کے بخارات کے ملنے سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ صحت سے متعلق مسائل جیسے دمہ، فلو، کھانسی، الرجی، برونکئیل انفیکشن، اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ نئی  رپورٹ کے مطابق لاہور پوری دنیا میں سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا ہے۔ پچھلے سال نومبر میں لاہور میں 291 ائیر کنٹرول انڈیکس ریکارڈ کیا گیا تھا۔اسی کے باعث ضلع لاہور اپنے باشندوں کی 5.3 سال کی اوسط زندگی کھو رہا ہے۔ زیادہ تر آلودگی گاڑیوں اور فصلوں کی باقیات کو جلانے کی وجہ سے ہے۔ گاڑیوں کے دھوئیں کا  45 فیصد، گھریلو ایندھن کا  20 فیصد اور صنعتوں اور جنریٹروں کا فضائی آلودگی میں 15 فیصد حصہ ہے۔ پورا ملک آلودگی کے شکنجے میں بری طرح جکڑا ہوا ہے مگر ہمارے وزرا زبانی کلامی دعووں پر لگے ہوئے ہیں - وزیر اعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم کہہ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پیرس معاہدے کے تحت مختص 100 ارب  ڈالرز میں سے پاکستان کو پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی گئی اور ہم یہ بات عالمی فورسز پر اٹھائیں گے۔ وہ کہتے ہیں ہم اس لیے زیادہ کام نہیں کر پا رہے کیونکہ ہم اپنے محدود فنڈز سے اخراجات کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ تو سچ ہے کہ معاہدے کی پاسداری ہونی چاہیئے لیکن حکومت سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا آپ لوگوں نے خود کوئی ایسا کام سر انجام دیا ہے کہ بیرونی ممالک اور ادارے ہماری طرف متوجہ ہوں۔ ریلیف کمیشن آف پنجاب نے ریلیف ایکٹ 1958 کے تحت سموگ کو پنجاب میں آفت قرار دیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے سموگ کے خطرے کے پیش نظر صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر تو دی ہے پر دیکھنا یہ ہے اس پر عمل درآمد کیسے کریں گے۔ انہوں نے پنجاب بھر میں فصلوں کی باقیات، کوڑا کرکٹ، ٹائرز، پلاسٹک، پولی تھین بیگ، ربڑ اور چمڑا سمیت تمام ایسی اشیا جن کو جلانے سے سموگ میں اضافہ ہوگا، ان پر پابندی لگا دی ہے۔ پچھلے سال 7 نومبر سے 31 دسمبر تک پنجاب میں 7،523 اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔ مزید اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زاگ ٹیکنالوجی میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ اس سب کے علاوہ انہیں دھواں چھوڑنے والی سواریوں پر پابندی لگانی چاہیے۔ یہ تمام اقدامات صرف سموگ ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں مگر حکومت کو یہ صرف دو تین مہینے نہیں بلکے پورے سال جاری  رکھنے ہونگے۔ حکومت کم سے کم دو سال تک سموگ اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے مسلسل کام کرئے تاکہ اس کا کوئی تو وعدہ پورا ہوسکے۔ پچھلے نومبر میں لاہور میں سکول بھی کچھ دنوں کے لئے بند رہے تھے اور اس سے پچھلے سال بھی۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو سردی کی چھٹیوں کے ساتھ سموگ کی بھی چھٹیاں ضروری بن جائیں گی۔ چھٹی دینا یا ماسک لگانا اس مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت کو چاہیے کے سموگ پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرے تاکہ حالات بہتری کی طرف جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -