سوشل میڈیا اور ہماری سوچ کے زاویے 

سوشل میڈیا اور ہماری سوچ کے زاویے 
سوشل میڈیا اور ہماری سوچ کے زاویے 

  

اس وقت دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ساڑھے چار بلین سے تجاوز کرچکی ہے جو کل آبادی کا ستاون فیصد بنتا ہے اور آئندہ چند برسوں میں اس تعداد میں خاطر خواہ اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان میں بھی قریبا چھیالیس ملین افراد سوشل میڈیا سے جڑے ہیں جن میں فیس بک،ٹویٹر،ویٹس ایپ، انسٹاگرام اور دوسری بہت ساری ویب سائیٹس شامل ہیں لیکن سب سے زیادہ استعمال فیس بک کا ہے،ایسے  صارفین جو صرف فیس بک کا استعمال کرتے ہیں ان کی تعداد پچیس سے تیس ملین بنتی ہے۔ خیر سوشل میڈیا کے مثبت و منفی پہلو کیا ہیں؟ اس کے فوائد و نقصانات کیا ہیں؟ اس ٹیکنالوجی سے کیا ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ اس بات سے قطع نظر ہم یہاں یہ دیکھنا چاہیں گے کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد کا عمومی رویہ اور رحجانات کیا ہیں،ہماری مجموعی سوچ کس بات کی عکاس ہے اور اس کے سماجی و معاشرتی اثرات کیا ہیں۔ آج کے اس کالم میں ہم صرف فیس بک کے استعما ل کے حوالے سے بات کریں گے۔ ہمارے یہاں اس وقت فیس بک کا جس طرح سے منفی استعمال کیا جا رہا ہے شائد ہی اس کی مثال کہیں اور مل سکے۔

گزشتہ دنوں ایک دوست کی فیس بک آئی ڈی پر عجیب و غریب قسم کی  پوسٹس دیکھنے کو ملیں جب اس دوست سے استفسار کیا کہ یہ آپ نے کیا کیا تھا تو اس بیچارے نے نہایت لاچارگی سے بتایا کہ اس کی آئی ڈی کسی نے ہیک کر کے یہ سب کچھ کیا ہے یہاں پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پوری دنیا میں پھیلے اتنے بڑے نیٹ ورک میں صارفین کو اتنی سیکیورٹی بھی مہیا نہیں کی جا سکتی کہ ان کا کوئی بھی مخالف شخص ان کی آئی ڈی  ہیک کر کے نازیبا اور مرضی کی پوسٹیں لگا دے اس ضمن میں فیس بک انتظامیہ کو فی الفور ٹھوس  اقدامات کرکے صارفین کی privacy کومحفوظ بنانا چاہیے۔ بہرکیف اس وقت سوشل میڈیا اپنے جذبات کے اظہار کیلیئے ایک سستا ترین ذریعہ لوگوں کے ہاتھ لگ چکا ہے،جس کے من میں جو بات آئے وہ شیئر کر دیتا ہے۔

کسی بھی مخالف کی بے عزتی کرنا اور اس کی شہرت کو نقصان پہنچانا جتنا اب آسان ہو چکا ہے  شائد ہی پہلے کبھی ممکن ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے خلاف اخبار میں کوئی خبر لگوانا مقصود ہو تو اس کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے اور غلط خبر کی اشاعت کی صورت میں متعلقہ نمائندہ کو جواب دہ بھی ہونا پڑتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر کوئی بھی من گھڑت خبر منٹوں میں پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے۔،اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دو افراد براہ راست آپس میں لڑنے جھگڑنے کی ساری کسر فیس بک پر جا کر نکال دیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہمارے معاشرے کے افرادکے لیئے سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جذبات کا کھلے عام اظہار کر رہے ہیں لیکن یاد رہے کہ فیک آئی ڈیز کا استعمال، کسی کی آئی ڈی ہیک کرنا اور کسی بھی شخص کے خلاف نازیبا کلمات لکھ دینا کتنے بڑے جرم ہیں اور ان کی کتنی سخت سزائیں ہیں ایک عام صارف سوچ بھی نہیں سکتا۔

ترقی یافتہ ممالک میں ممکن ہی نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر کے کسی کی شہرت کو نقصان پہنچایا جا سکے لیکن  بدقسمتی سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا معمول بن چکا ہے۔لیکن یہ سب کچھ تھوڑی مدت کے لیئے ہے کیونکہ سائبر کرائمز کے خلاف سزاؤں پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اور جوں جوں ان سزاؤں کا دائرہ کار بڑھتا جائے گا اور صارفین کو بھی ان کرائمز کے متعلق آگاہی ملتی جائے گی تو یہ سلسلہ خود بخود رک جائے گا۔باقی  ان سزاؤں کے ساتھ ساتھ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے اندر کی انسانیت کو جگایا جائے اور اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کسی کی تحقیر کر کے ہمیں کیا ملتا ہے؟ اس سلسلہ میں ہمیں  اپنے منفی رویہ جات او رحجانات پر ضرور نظر ثانی کرنا ہو گی۔ اس کے علاوہ یہاں  ایک اور بات دیکھنے کو ملی ہے کہ کہ لوگ اپنی ساری دانشوری،عقلمندی اور نظریات سوشل میڈیا پر جھاڑ کر اپنے آپ کو حرف کل سمجھ بیٹھتے ہیں اور ان کو جتنا مرضی دلائل سے مطمئن کرنے کی کوشش کر لیں میں نا مانوں کی ضد پر بدرجہ اتم قائم ہیں۔

جس کے لیئے رویوں میں لچک پیدا کرنا نہائت ضروری ہے تا کہ معاملات با آسانی سلجھ سکیں۔۔آخر میں اتنی گزارش ہے کہ سوشل میڈیا بلاشبہ عصرحاضر کی زبردست ٹیکنالوجی ہے جس کے صیح استعمال سے بھر پور استفادہ کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق اور سماجی رشتوں کا خیال ضرور رکھیں کوئی ایسی بات  یا شے پوسٹ نہ کریں کہ آپ کے دوست احباب اور دوسرے لوگوں کی دل آزاری ہو۔اگرآپ صرف اچھی چیزیں اور خیالات شیئر کریں گے تو یقینا مجموعی طور پر ایک خوشگوار فضا پیدا ہو جائے گی اور ہمارا مثبت تاثر ابھرے گا۔

مزید :

رائے -کالم -