قرآن و سنت پر عمل کر کے امت مسلمہ عروج پر پہنچ سکتی ہے 

قرآن و سنت پر عمل کر کے امت مسلمہ عروج پر پہنچ سکتی ہے 
قرآن و سنت پر عمل کر کے امت مسلمہ عروج پر پہنچ سکتی ہے 

  

 امت مسلمہ اسی صورت میں بام عروج تک پہنچ سکتی ہے جب قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے اورہرپہلومیں انہی سرچشموں سے راہ ہدایت حاصل کرے۔ امت مسلمہ اپنے اصلی منصب تبلیغ و دعوت کی طرف پلٹ کر اور جہادوقتال کے راستے کواپناکر اس دنیا میں اپنا ایک مقام حاصل کر سکتی ہے۔ 

 حضورؐ کی پوری زندگی جدوجہدسے عبارت تھی۔مکی زندگی میں جہاداور مدنی زندگی میں قتال۔  روزمحشرجب حب نبویؐ کادعوی کیاجائے گا تو عدالت خداوندی سے ثبوت کاتقاضاہوگا اورصرف دعوے سے جان نہیں چھوٹے گی۔رسولؐ کی آمدکامقصدبیان کرتے ہوئے قرآن نے کہاکہ دین محمدی ساری دنیاپر غلبہ پائے گا۔ 

انگریز نے مسلمانوں کی تہذیب وکلچر کو تباہ کرنے کے لئے خصوصی سیل قائم کئے۔ انگریزوں نے دیکھا کہ جب تک مسلمان قرآن کے ساتھ وابستہ رہیں گے ان کو اپنے راستے پر لانا مشکل کام ہے، اسی لئے مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا۔ مغربی تہذیب و فکر کی آبیاری کی گئی جس کی وجہ سے مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ دین سے بیزاری کا اظہار کرنے لگا۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے علامہ اقبالؒ جیسی شخصیات پیدا کیں جنہوں نے اس خطرہ کو محسوس کیا اور ایک ایسی بیداری کی تحریک چلائی جس کے آگے انگریز اور ہندوؤں کی سازشیں ناکام ہو گئیں اور اسی بیداری میں تحریک پاکستان نے جنم لیا اور مختصر عرصہ میں دنیا میں ایک نئی اسلامی مملکت وجود میں آگئی جسے پاکستان کہا جاتا ہے۔ 

پاکستان کے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معمولات اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کتاب قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ادا کریں اور یہی خواب علامہ اقبال کا تھا۔ انہوں نے مغرب کے سرمایہ داری نظام اور اس کی کوکھ سے نکلنے والی جمہوریت کی کار ستانیوں کو قریب سے دیکھا اور کہا کہ اسلام کا نظام اس سے بہتر ہے۔ اسی طرح انہوں نے سوشلسٹ انقلاب کو بھی دیکھا کہ وہ بھی انسانوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں پیغام دیا کہ تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلامی نظام میں پنہاں ہے، یہ نظام اس نے دیا ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، مسلمانوں کو انہوں نے یہ پیغام دیا کہ تم اس نظام پر عمل کر کے دنیا کے سامنے ایک مثال بنو تا کہ دنیا تمہیں دیکھ کر راہ راست پر آجائے اور یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔

علامہ اقبال کو جدید دور کا صوفی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایسے مرد قلندر ہیں جو نہ صرف تصوف کا درس دیتے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ مسلم امہ کو ان کی کوتاہیوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔اقبال کی شاعری درحقیقت زندگی کے تمام تر موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شاعر مشرق کا کلام بیک وقت آسان اور مشکل نظر آتا ہے اور اقبال ؒکے افکار کی توضیح و تشریح کوئی آسان کام نہیں۔ اگرچہ اقبالؒ کی شاعری کا بیشتر حصہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو یاد کرنے اور اسے بحال کرنے کی شدید خواہش کا مظہر ہے اور اقبال اپنی ملت کو دنیا کی تمام تر اقوام سے اعلٰی سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں قوم رسولؐ ہاشمی کا مرتبہ جداگانہ اور منفرد ہے۔اسی لئے ایک جگہ اقبالؒ ملت اسلامیہ کو اتحاد کا درس دیتے ہوئے اسکی غیرت و حمیت کے بارے میں کہتے ہیں:

اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسولؐ ہاشمی

علامہ اقبالؒ نے ساری زندگی بیداری و اتحاد امت کی دعوت دی اور امت مسلمہ کو غلامی سے نکلنے اور خودی اپنانے کا درس دیا۔ اقبالؒ کا شماران چند لوگوں میں ہوتا ہے جن کی عظمت کے مغرب اور مشرق معترف ہیں۔ برصغیر کے مسلمان عظیم رہنما کی انمول خدمات پر ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔ آج کے دور میں اقبالؒ کے خودی کے پیغام پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرنے کا موقع ہے۔

آج مسلم اْمہ کو دہشت گردی، معاشی مسائل، ناخواندگی، فرقہ واریت اور نظریاتی ابہام جیسے مسائل کا سامنا ہے جن کا حل تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔ ایسی صورتحال میں اقبالؒ کا پیغام ان مسائل کا حل فراہم کرتا ہے کیونکہ اقبال ؒکے دور میں بھی مسلمان اِنہی مسائل کا شکار تھے۔ علامہ اقبال کے پیغام کو تقریباًپوری دنیا میں پڑ ھا اور پڑھایا جاتا ہے خصوصی طور پر مسلم ممالک میں۔ اقبال نے فرد کے کردار کی تعمیر پہ زور دیا۔ اقبال کے مطابق اسلام ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے اور یہ اپنے ماننے والوں کوبھی زندگی کے ہر میدان میں اپنی اور معاشرے کی بہتری کے لئے مسلسل کوشش کا درس دیتا ہے۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ ایک عظیم مفکر تھے، جن کی تعلیمات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا اور انسانیت کے لئے مشعل ِ راہ ہیں۔ اْن کا پیغام آفاقی ہے اور یہ جغرافیائی حدود یا کسی ایک مکتبہ فکر تک محدود نہیں ہے۔ اقبال نے دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں مسلمانوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس وقت کے تمام نظریات کا احاطہ کیا اور قرآن پاک سے رہنمائی لیتے ہوئے کبھی بھی کسی نظریہ یا تہذیب کے خلاب تعصبانہ رویہ نہیں رکھا۔ اقبالؒ کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا کہ اصل کفر وہ کرتا ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کا انکار کرتا ہے۔ تعلیم کے بغیر سچ کو بھی سچ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنی چاہئے، جیسا کہ قرآن کریم نے بھی کائنات کو انسان کیلئے مسخر کر دئیے جانے کا فرمایا ہے۔ اسلام زندگی کے ہر معاملے میں بات چیت اور دوسروں کی رائے کے احترام کا درس دیتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -