ریاست مدینہ کا تصور اور کینیڈا   

ریاست مدینہ کا تصور اور کینیڈا   
ریاست مدینہ کا تصور اور کینیڈا   

  

 پاکستان کو ریاست مدینہ کے خطوط پر استوار کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کی کوشش  جاری ہے،اس حوالے سے وہ  ہر شعبہ زندگی میں کامیاب فلاحی منصوبے متعارف کرا رہے ہیں، اس کار خیر میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی وفاقی حکومت کے ہم قدم بلکہ ان سے ایک دو قدم آگے ہیں،پنجاب کامیاب کسان کے بعد کامیاب نوجوان پروگرام نے امید سے زیادہ قبولیت عام حاصل کی،پنجاب میں شیلٹر ہومز اور پناہ گاہوں نے بھی خاصی شہرت اور مقبولیت حاصل کی،وزیر اعلیٰ پنجاب  کی ان کاوشوں کی وجہ سے تحریک انصاف حکومت مہنگائی اور بیروزگاری کے باوجود عوام میں آنے کے  قابل ہوئی،ورنہ محض تین سال میں ہی تحریک انصاف حکومت عوام میں غیر موثر اور غیر مقبول ہوتی جا رہی تھی۔

ریاست مدینہ در اصل ہر انسان کا خواب ہے مگر ہمسایہ ملک افغانستان میں ایک اسلامی ریاست کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے اور ہم ریاست مدینہ کو سینچ رہے ہیں، لیکن ان دونوں ریاستوں کے بنیادی تصورات اور نظریات میں زمین آسمان کا تفاوت ہے جس کی وجہ سے مخالفین کو طعن و طنز کا موقع میسر آسکتا ہے،اس حوالے سے دنیا  کے موجودہ حالات میں ایسی ہی ایک   فلاحی ریاست کینیڈا کے فلاحی اور رفاعی منصوبوں پر ایک نگا ہ ڈالنا بہت مناسب ہو گا جہاں بنیادی تعلیم،صحت کی بلا معاوضہ سہولیات بلا امتیاز فراہم کی جاتی ہیں،تعلیمی اداروں کامعیاراورنصاب بھی ایک ہے، ہسپتالوں میں ہر شہری کو علاج معالجہ کی سہولیات  یکساں  فراہم کی جاتی ہیں۔

بچے کی پیدائش پر ریاست کی جانب سے وظیفہ مقرر کرنے کی روائت حضرت عمرؓ کے دور میں شروع  ہوئی،اس عمدہ اور درد مندی کی روائت کو مغرب کی ان ریاستوں نے بھی اپنایا جن کو ہم کافر گردانتے اور جنت کا حقدار نہیں سمجھتے،کینیڈا میں بچے کی پیدائش کیساتھ ہی وظیفہ مقرر کرنے کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور کوئی بچہ اس سے محروم نہیں خواہ وہ مقامی ہو یا تارکین وطن میں سے ہو،

عدل و انصاف اسلام کا بنیادی اور انتہائی اہم تقاضا ہے،غیر عادل اور انصاف دشمن کیلئے قرآن و حدیث میں سخت وعید ہے،حضرت علیؓ کا فرمان ہے کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں،مگر یہ بات انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے کہ اسلامی ممالک میں انصاف کی فراہمی کا نظام انتہائی ناقص ہے،وطن عزیز میں بھی دو قانون ہیں غریب کیلئے الگ اور امیر کیلئے الگ،یہاں غریب شہری معمولی جرائم میں سالوں جیل میں سڑتا ہے اور باثر اور مال والے لوگ سنگین جرائم کر کے بھی باعزت شہری کہلاتے ہیں اور قانون ان سے خوفزدہ رہتا ہے،مگر کینیڈا میں انصاف کا کڑا نظام رائج ہے،اسلامی ممالک میں کوئی کسی سے زیادتی کرے تو وہ کہتا  ہے کہ روز قیامت اللہ پاک تم سے حساب لیں گے مگر کینیڈا میں ایسی صورتحال پر کہتے ہیں اب آپ کو عدالت میں دیکھیں گے، اور ان کو عدالت سے انصاف ملنے کا کامل یقین ہوتا ہے۔

ریاست مدینہ کا تصور اس وقت تک ادھورا ہے جب تک  انصاف عام نہ ہو ہر شہری کو استحقاق کے مطابق بلا امتیاز عدل میسر ہونا ہی ریاست مدینہ کا اصل مقصد ہونا چاہئے اور اس حوالے سے کینیڈا کے نظام انصاف سے مدد لی جا سکتی ہے،مملکت خداداد میں اول تو قوانین ہی امتیازی ہیں اور جو ہیں ان پر عملدرآمد میں بھی امتیاز برتا جاتا ہے،تھانوں میں ایک جرم میں زیر حراست اہل زر کیلئے مراعات تو غریب شہری کیلئے ذلت و عقوبت، اگر کامیاب ریاست مدینہ کے خواب کو عملی تعبیر دینا ہے تو ملک میں انصاف کے نظام کو خامیوں سے پاک کرنا ہو گا،اور اس کے لئے اگر چہ ریاست مدینہ ہی نظیر ہے مگر کینیڈین نظام انصاف سے مدد لیکر نظام انصاف کو اسلامی خطوط پر ڈھالا جا سکتا ہے۔

محروم الوسائل اور مفلوک الحال شہریوں کی کفالت بھی ریاست مدینہ کا بنیادی فرض ہے،غریب شہریوں کی کفالت کسی بھی ریاست کا فرض ہے،جو ریاست اپنے شہریوں کو روٹی کپڑا اور مکان کی سہولیات نہ دے سکے اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں،کینیڈین حکومت اپنے شہریوں کو بیروزگاری، طویل العمری، وسائل کی کمی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ،سمیت ہر قسم کے الاؤنس فراہم کرتی ہے،حالیہ عالمی وبآ کووڈ19 میں بھی کینیڈا حکومت نے اپنے شہریوں کی ہر ممکن مالی امداد کی،گھر بیٹھنے والے ملازمین کو چالیس فیصد تنخواہ آجر دیتا تھا توباقی ساٹھ فیصد حکومت نے ادا کی،ڈیوٹی پر آنے والوں کو خصوصی وظیفہ دیا گیا،سرکاری ملازمین کو بھی خصوصی مراعات دی گئیں،یہ ایک ریاست کی اپنے شہریوں سے ہمدردی کی بہترین مثال ہے،تحریک انصاف حکومت اگر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے تو شہریوں کی کفالت بھی اس کی ذمہ داری ہے اور اس کیلئے بھی کینیڈین فلاحی نظام بہترین مثال ہے جس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

غیر مسلم فلاحی رفاعی ریاستوں نے بھی ریاست مدینہ کو ہی بنیاد بنا کر اپنے ممالک میں شہریوں کی بہبود کے منصوبے بنائے،سویڈن میں بچوں اور غریب شہریوں کی کفالت کیلئے کی گئی قانون سازی کا نام ہی عمر لاز رکھا گیا ہے،یہ ان کی دیانتداری کی انتہا ہے کہ جن قوانین سے انہوں نے استفادہ کیا مذہبی اختلاف کے باوجود ان کو اسی انداز سے خراج عقیدت پیش کیا،لیکن انہی قوانین کی وجہ سے سکینڈے نیوین ممالک آج فلاحی ریاستوں میں سر فہرست ہیں،مگر بقول اقبال بھلا دی ہم نے جو اسلاف سے تعلیم پائی تھی،اور انہوں نے اس تعلیم سے استفادہ کیا جو صدیوں ہم سے حالت جنگ میں رہے کینیڈا کو بھی برطانوی سامراج سے آزادی  ملی، مگر کینیڈا آج ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں سر اٹھائے کھڑا ہے جبکہ ہم آج بھی قرض کی مے پر گزر بسر کر رہے ہیں،وجہ یہی ہے کہ ہم نے عدل و انصاف پر مبنی قانون سازی نہیں کی،اور جو قانون بنائے ان پر مساویانہ عمل درآمد سے دانستہ گریز کیا جس بنا  پر ہم آج بھی پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں اور کینیڈا کے شہری دنیا میں ہی جنت کے مزے لے رہے ہیں،اگر ہمیں واقعی ریاست مدینہ کے خواب کو عملی تعبیر دینا ہے تو کینیڈا کے نظام سے استفادہ کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -