یہ حادثاتِ قیامت 

یہ حادثاتِ قیامت 
یہ حادثاتِ قیامت 

  

ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے ٹریفک پولیس کو ٹریفک چالانوں کی مد میں دو ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف دیا ہے چلو جی یہ تو بڑی اچھی بات ہے یہ ذریعہ بھی ایک بڑی آمدنی کا باعث بن گیا۔ مگر صاحبو! کیا صرف چالان کا ہدف دینے سے مقاصد پورے ہو جاتے ہیں یا اس کے لئے ٹریفک کو رواں رکھنے، حادثات کو کم کرنے اور بڑے شہروں میں گھنٹوں جام رہنے والی ٹریفک کے مسائل حل کرنا بھی بڑے مقاصد ہونے چاہئیں۔ میں دو روز پہلے لاہور میں تھا، چند بڑی سڑکوں کو چھوڑ کر باقی شہر کی ٹریفک کا حال کسی بڑی اذیت ناک صورتِ حال سے کم نہیں تھا۔ اس میں بلا شبہ دیگر عوامل بھی ہوں گے تاہم اپنے شہر ملتان کی طرح لاہور میں بھی یہی منظر دیکھا کہ ٹریفک وارڈن اپنے اصل فرائض سے بے پروا ہو کر موٹر سائیکل والوں کے چالان کرنے میں مصروف ہیں انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ٹریفک کہاں پھنسی ہوئی ہے کیونکہ اس بارے میں ان سے کسی نے نہیں پوچھنا البتہ اگر چالان کم کئے تو اس پر باز پرس ضرور ہونی ہے۔ چالان کرنا بھی ضروری ہیں کیونکہ یہ بھی اصلاح کا ایک راستہ ہے تاہم صرف اس کو مقصود بالذات نہیں سمجھنا چاہئے وگرنہ معاملات چوپٹ ہو جائیں گے۔

آج ٹریفک کا موضوع چھیڑنے کا اصل مقصد اس اندوہناک حادثے کا ذکر کرنا ہے، جو تین دن پہلے ملتان میں رونما ہوا اور پورے شہر کو سوگوار کر گیا۔ یہ حادثہ کس کی غفلت سے پیش آیا اس پر بحث ہوتی رہے گی تاہم اس میں قوم کی ایک ذہین اور جواں سال بیٹی کی جان چلی گئی۔ ارم اسلم خان شعبہ ایجوکیشن بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ان کی صاحبزادی مریم اسلم خان نشتر میڈیکل کالج یونیورسٹی ملتان میں ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ تھیں اس نے ایف ایس سی کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی تھی اور اس کا داخلہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں بھی میرٹ پر ہو گیا تھا، لیکن اپنی والدہ جو بیوہ ہیں کے ساتھ رہنے کے لئے نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران اس کی نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں کارکردگی شاندار رہی اور توقع تھی کہ وہ پانچ برس بعد اس یونیورسٹی سے ایک ذہین اور قابل ڈاکٹر بن کر نکلتی کہ موت کے فرشتے نے اسے زندگی کی مزید مہلت نہ دی بوسن روڈ پر پیش آنے والا واقعہ کہا جاتا ہے اس رکشہ ڈرائیور کی غفلت سے پیش آیا جو مریم اسلم کو یونیورسٹی سٹاف کالونی سے نشتر میڈیکل یونیورسٹی لے جا رہا تھا۔

اس نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ملتان کی ایک ٹریکٹر ٹرالی جو آہستہ جا رہی تھی کو اوورٹیک کرنے کی کوشش کی، اس اثناء میں ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور نے ٹرالی تھوڑی سی دائیں طرف کی تو رکشتہ ڈیوائیڈر اور ٹریکٹر ٹرالی کے درمیان پھنس گیا، جس سے مریم اسلم خان کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔ ایک شاندار دماغ، ملک کا مستقبل اور بیوہ ماں کی امیدوں کا سہارا یکلخت چھن گیا۔ اس سے چند روز پہلے اینٹوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی نے دو نوجوانوں کو کچل کر ہلاک کر دیا اس سے بھی کچھ دن پہلے نیو ملتان میں مدنی انڈر پاس پر ایک سیمنٹ کی بوریوں سے لدا ہوا ٹرک بریکیں فیل ہونے کی وجہ سے الٹا واپس آیا اور اس نے دو کاروں کو روند ڈالا، حالانکہ قانوناً دن کے وقت ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہوتا ہے۔ مگر وہ ٹریفک پولیس ہی کیا جو ایسی باتوں پر نظر رکھے اسے تو صرف اپنا ریونیو ہدف پورا کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ جس میں سے کچھ حصہ افسروں اور اہلکاروں کو بھی مل جاتا ہے۔

ہمارے دوست اور سماجی رہنما ناصر محمود شیخ ہمیشہ یہ اعداد و شمار جمع کرتے رہتے ہیں کہ ملک میں روزانہ کتنے حادثات ہوئے ہیں، کتنی جانیں جاتی ہیں۔ کتنے افراد عمر بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں، کتنوں کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے اور برسہا برس بستر پر گزار کر زندگی کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں، پچھلے دنوں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی جو ملتان کے ایک نوجوان فاروق کی تھی، جسے 23 سال پہلے موٹر سائیکل پر ایک حادثہ پیش آیا تھا جس میں اس کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی اور وہ اٹھنے بیٹھے، چلنے پھرنے سے محروم ہو گیا۔ اب وہ بستر پر لگا ہوا ہے، ورثاء اس کی خدمت نہ کریں تو اسے ایک نوالہ کھانے کی توفیق بھی نہ ملے۔ ناصر محمود شیخ کہتے ہیں لوگوں میں ٹریفک کا نہیں زندگی کا شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جب تک ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے والا ہر شخص یہ نہیں سوچتا کہ اس نے اپنی زندگی سے زیادہ دوسروں کی زندگی کو محفوظ بنانا ہے،

اس وقت حادثات کم نہیں ہو سکتے تیز رفتاری حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ٹریفک کے قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنا بھی حادثات کا اہم سبب ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور حضرات زیادہ تر ان پڑھ ہوتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کو کچھ دے دلا کے وہ چھوٹ جاتے ہیں، اس لئے انہیں اپنا رویہ جاری رکھنا چاہئے۔ حالانکہ بات ٹریفک پولس سے بچنے کی نہیں بلکہ محفوظ ڈرائیونگ کی ہے۔ جس میں اپنی اور دوسروں کی سلامتی کا خیال رکھا جائے۔ یہ شعور ہمارے ہاں پیدا نہیں ہو سکا۔ بسوں کے جو بڑے حادثات پیش آتے ہیں اور جن میں درجنوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں ان کا بنیادی سبب بھی یہی ہوتا ہے ڈرائیور تیز رفتاری بلکہ دوسری بسوں سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے اور بس میں موجود افراد اسے روکنے کی بجائے اس مقابلے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔

حادثات کو بالکل ختم تو نہیں کیا جا سکتا البتہ بہتر احتیاطی تدابیر، ٹریفک شعور میں اضافے، ٹریفک قوانین کے موثر نفاذ اور ٹریفک پولیس کی بہتر کارکردگی سے ان میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔ ہماری غفلت اور ٹریفک شعور سے نابلد ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ موٹر وے پر بھی سنگین حادثات ہو جاتے ہیں، حالانکہ وہاں ہر چیز قانون قاعدے کے مطابق چلتی ہے۔ جن لوگوں کے پیارے حادثات کی نذر ہو جاتے ہیں کوئی ان سے پوچھے زندگی بھر ان پر کیا گزرتی ہے ملتان کی مریم اسلم کی موت نے تو ہر آنکھ اشکبار کر دی ہے اس کی والدہ پر کیا گزر رہی ہو گی اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے خدارا کوئی سڑکوں پر ہونے والے اس قتلِ عام کو روکے اور اس کے لئے حکومت، معاشرہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ اور مربوط کوششوں کے ذریعے کوئی موثر لائحہ عمل بنائیں۔

مزید :

رائے -کالم -