ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں مبینہ کرپشن  کیس کی سماعت16اکتوبر تک ملتوی

ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں مبینہ کرپشن  کیس کی سماعت16اکتوبر تک ملتوی

  

 ملتان (خصو صی  ر پو رٹر) لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج مسٹر جسٹس علی ضیا باجوہ نے ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میں مبینہ طور پر 2 کروڑ 33 لاکھ روپے کی  کرپشن(بقیہ نمبر34صفحہ6پر)

 کرنے کے مقدمہ میں ملوث دو ملزمان کی ایف آئی آر خارج کرنے سے متعلق درخواست وکلا دلائل کے بعد خارج کردی ہے۔ جبکہ سپیشل کورٹ اینٹی کرپشن ملتان نے مقدمہ کے 11 ملزمان کے خلاف کیس کی سماعت آخری موقع فراہم کرتے ہوئے 16 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اینٹی کرپشن عدالت نے گزشتہ سماعت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے تمام لوگوں کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ ہائیکورٹ میں مقدمہ کے اخراج کے لیے درخواست دائر کرنے والوں میں ڈپٹی منیجر آپریشنز انوار الحق اور عثمان خورشید شامل تھے۔ قبل ازیں اینٹی کرپشن عدالت میں پولیس تھانہ اینٹی کرپشن کے مطابق ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ڈپٹی منیجر آپریشنز انوار الحق اور عثمان خورشید، اسسٹنٹ سینیٹیشن آفیسرز بلال حسین بھٹہ اور محمد سجاد بھٹہ، سپروائزر وسیم اقبال، مختیار بھٹہ، عبدالروف،  وارث علی، شاہد بشیر، مشینری انچارج محمد شفیع اور سابق ایس او عبدالشکور کے خلاف سرپرست اعلی میونسپل ایمپلائز ویلفیر یونین سی بی اے ملک منیر ہانس کی مدعیت میں کرپشن کے خلاف مقدمہ نمبر 58/18 درج کیا گیا۔ ملزمان کے خلاف 7 جون کو جوڈیشل ایکشن منظور ہوا تھا۔ اسی مقدمہ کی بنیاد پر ملزمان سابق ایس او عبدالشکور، اسسٹنٹ سینیٹیشن آفیسرز بلال حسین اور محمد سجاد کو گرفتار کیا گیا تھا، ملزمان نے الزام کی تناظر میں 8 لاکھ 22 ہزار 95 روپے کی رقم 8 جون کو سرکاری خزانے میں جمع کرائی تھی،جس کے بعد عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا اب ملزمان کے خلاف کیس ٹرائل جاری ہے۔

ملتوی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -