سندھ ہائیکورٹ، فاطمہ جناح کی ملکیتی عمارت کو میڈیکل کالج بنانے کا حکم

   سندھ ہائیکورٹ، فاطمہ جناح کی ملکیتی عمارت کو میڈیکل کالج بنانے کا حکم

  

  کراچی (آئی این پی) سندھ ہائی کورٹ میں محترمہ فاطمہ جناح کے اثاثوں کے کیس میں فریقین کے درمیان قصر فاطمہ میں میڈیکل ڈینٹل کالج کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں بدھ کو فاطمہ جناح کے اثاثوں کے کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے قصر فاطمہ کومیڈیکل ڈینٹل کالج بنانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ گرلز ڈینٹل کالج میں ہاسٹل بھی شامل ہوگا جبکہ کالج کو چلانے کیلئے ٹرسٹ بنانے کا حکم بھی دیا گیا۔فریقین کی جانب سے ٹرسٹ کیلئے انڈس اسپتال کے ڈاکٹرعبدالباری،ڈاکٹرادیب رضوی،جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی اور جسٹس ریٹائرڈ فہیم صدیقی اورامیرعلی کے نام تجویز کئے گئے ہیں۔فریقین نے عدالت کو بتایا ہے کہ آئندہ سماعت پر ٹرسٹیز کی رضا مندی سے بھی آگاہ کیا جائے گا جبکہ ٹرسٹ میں شامل ہونے کے لئے تمام افراد سے رضامندی لی جائے گی۔ عدالت نے سندھ حکومت کے کلچر ڈپارٹمنٹ سے قصر فاطمہ سے 30سال میں ہونیوالی آمدن کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔درخواست گزار کے وکیل خواجہ شمس السلام نے عدالت کو بتایا کہ قصرفاطمہ ٹرسٹ 1979میں بنایا گیا اور اب تک اربوں روپے کمائے گئے ہیں۔اب قصر فاطمہ میں ناچ گانا، کیٹ واک اور فیشن شوز ہوتے ہیں۔ خواجہ شمس السلام نے عدالت کو بتایا کہ قصرفاطمہ کو سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی نفیسہ شاہ کے حوالے کردیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ٹرسٹ کا مقصد تو قصر فاطمہ کی دیکھ بھال تھا اور اس کے لیے کیا کیا۔عدالت نییہ بھی آبزرویشن دی کہ اب اس عمارت کا محکمہ ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے قصرفاطمہ میں موجود سامان کی فہرست مرتب کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے فریقین سے درخواست گزار کو 50 سالہ طویل پیروی کرنے پر مالی طور پر ازالہ کرنے سے متعلق تجاویز طلب کرلی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ قصر فاطمہ کو گرلز میڈیکل ڈینٹل کالج میں تبدیل کرنے کے لیے جو تختی لگائی جائے گی اس پر تمام قانونی ورثا کے نام درج کئے جائیں گے۔عدالت نے درخواست کی مزید سماعت یکم نومبر2021 تک ملتوی کردی ہے۔

فاطمہ جناح

مزید :

صفحہ اول -