پاکستان خطے میں بھارتی توسیع پسند انہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ: محمود الرحمن 

 پاکستان خطے میں بھارتی توسیع پسند انہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ: ...

  

          لاہور (خصوصی رپورٹ)  بھارتی بالادستی کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کا معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ضروری، پالیسی ساز معیشت کی بہتری پر توجہ مرکوز کریں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور بالادست طاقت بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔ پاکستانی قوم خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے وگرنہ خطے کے دیگر ممالک کی طرح بھارت پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ و خودمختاری کیلئے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر دیتا۔ ان خیالات کا اظہار بنگلہ دیش کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق ایگزیکٹو چیئرمین اور مشیر توانائی، روزنامہ امردیش کے ایڈیٹر اور متعدد کتابوں کے مصنف و صحافی محمود الرحمن نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں ایک فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نشست کا اہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے پاکستان بنگلہ دیش برادر ہڈ سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا۔ اس موقع پر نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین میاں فاروق الطاف، سینئر صحافی اور دانشور مجیب الرحمن شامی، بیگم مہناز رفیع، سلمان غنی، سجاد میر، پروفیسر سلیم منصور خالد،میاں سلمان فاروق، ذوالفقار راحت،مجاہد حسین سید، بیگم صفیہ اسحاق، پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ ثمینہ، اسد شہزاد، حامد ولید اور شعیب ہاشمی موجود تھے۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجا م دیے۔محمود الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ مملکت کے مطالبے کا محرک دین اسلام تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جب اسلام کو پس پشت ڈال دیا گیا تو مشرقی اور مغربی پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت کمزور پڑ گئی جس کے باعث علیحدگی کا سانحہ رونما ہوا،جس میں سب سے سرگرم کردار بھارت نے ادا کیا جبکہ مشرقی بازو میں بنگالی قومیت کا فروغ، دونوں بازؤں میں معاشی تفاوت و جغرافیائی لحاظ سے ایک ہزار میل کا فاصلہ، مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت کی مشرقی پاکستان کی صورتحال کو سمجھنے میں ناکامی، غیر سنجیدگی اور وہاں کے عوام سے روابط کی کمی بھی اہم عوامل تھے۔ مجھے انتہائی نامساعد حالات میں 2018ء میں بنگلہ دیش چھوڑنا پڑا کیونکہ میرے اخبار ”امر دیش“ کی ادارتی پا لیسی سے بنگلہ دیش کی موجودہ فسطائی حکومت کو شدید اختلاف تھا۔ اخبار کی آزاد ادارتی پالیسی پر مشتعل ہو کر حکومت نے نہ صرف اخبار بند کر دیا بلکہ مجھے بھی جیل میں ڈال دیا۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے کچھ ججوں کی بدعنوانی کیخلاف جب ہم نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تو اس کے بعد پھر مجھے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ مجھ پر سو سے زائد مقدمات بنا دیے گئے اور حکومتی جماعت کے غنڈے عدالت کے اندر مجھ پر حملہ آور ہو گئے، میرے پاس جان بچانے کیلئے ملک چھوڑنے کے سواکوئی چارہ نہ تھا، آج کل میں ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامی یو نیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کر رہا ہوں اور میرے تحقیقی مقالے کا موضوع ”1947ء کے بعد جنوبی ایشیاء میں بھارتی بالادستی کے فروغ اور چھوٹی ریاستیں“ ہے۔ سارک تنظیم کا آئیڈیا بنگلہ دیش کے سابق حکمران جنرل ضیاء الرحمن نے پیش کیا اور افغانستان کو اسلئے شامل نہ کیا گیاکیونکہ اسے وسطی ایشیا کا ملک سمجھا جاتا تھا۔جب امریکہ نے افغانستان پر یلغار کی تو اس نے بھارت کیساتھ مل کر بھرپور کوشش کی افغانستان کو بھی سارک میں شامل کر لیا جائے،وجہ کٹھ پتلی افغان حکومت کیلئے قانونی جواز مہیا کرنا تھا، بھارت افغانستان پر اثر انداز ہو کر اسے پاکستان کو گھیرے میں لینے کیلئے استعمال کرنے کا خواہشمند تھا۔ بھارت خود کو جنوبی ایشیا کی ایک بالادست قوت تصور کرتا ہے، بنگلہ دیش اور بھوٹان اسکی اس حیثیت کو قبول کر چکے ہیں، بھارت پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کے باعث اپنی مرضی مسلط کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا بنگلہ دیش میں انتخابات کا محض ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور 2018ء کے انتخابات کے موقع پر بھی ایک رات پہلے ہی نتائج تیار کر لیے گئے تھے۔امریکہ اور بھارت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شیخ حسینہ واجد کو اقتدار میں لائے جبکہ وہا ں کی فوج نے بھی اسے سپورٹ کیا۔ امریکہ اسلامی ریاستوں میں جمہوریت کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ مطلق العنان اور فاشسٹ حکومتوں سے اپنی بات منوانا اس کیلئے آسان ہوتا ہے۔ اسوقت شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کی سب سے غیر مقبول لیڈر ہے۔اسکی فاشسٹ حکومت کے ہوتے غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ بنگلہ دیش کی موجودہ صنعتی ترقی کی بنیاد درحقیقت بیگم خالدہ ضیاء کے دور حکومت میں رکھ دی گئی، بنگلہ دیش کی معاشی ترقی میں نوجوان کاروباری افراد کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ محمود الرحمن کے خطاب کے بعد سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی۔ نشست کے اختتام پر میاں فاروق الطاف نے معزز مہمان کو ٹرسٹ کی اظہار سپاس کی شیلڈ‘ مطبوعات اور سی ڈیز کا تحفہ پیش کیا۔

محمود الرحمن

مزید :

صفحہ اول -