قومی دولت جنگلات کو ملکیت کے بجائے قومیز کرنیکا مطالبہ زورپکڑنے لگا

 قومی دولت جنگلات کو ملکیت کے بجائے قومیز کرنیکا مطالبہ زورپکڑنے لگا

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں قومی دولت جنگلات کو ملکیت کے بجائے قومیز کرنے کا مطالبہ زورپکڑنے لگا،کوہستان،کالام، دیرودیگر جنگلات کے طرح شانگلہ کے جنگلات کو بھی قومیز کرکے جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے، ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت شانگلہ سمیت صوبہ بھرمیں درختان کی کٹائی زوروشور سے جاری ہے،محکمہ جنگلات باآثر لوگوں کیخلاف کاروائی کریں ناکہ غریب کسانوں،زمینداروں کے مکئی کی کھڑی فصل کو کاٹے۔شانگلہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر الپوری کے گردونواح کے جنگلوں کے وسعت بنجر رقبوں پرگزشتہ آٹھ سال میں ایک بھی پودا نہیں لگایا گیا جو محکمہ جنگلات کیلئے باعث فکر ہے،باآثرشخصیات کے زیر قبضہ جنگل کے بنجررقبوں پرشجرکاری سے محکمہ جنگلات کیوں کتراتی ہے۔شانگلہ میں پی ٹی آئی حکومت کی شجرکاری مہموں اور کئی جنگل کا رقبہ بڑھانے کیلئے گزشتہ آٹھ سال میں اربوں خرچ ہوئے مگر کوئی خاطرخواہ نتائج سامنے نہ آسکے جس کی وجہ ملکیتی جنگلات اور ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت کٹائی ہیں۔شانگلہ میں ملکیتی قیمتی درختوں کی کٹائی ووڈلاٹ پالیسی کے تحت جاری ہے جس سے جنگلات کی تباہی ہورہی ہے۔محکمہ جنگلات پالیسی کے تحت اس عمل کی نگرانی کررہی ہے جبکہ دوسری طرف شجرکاری مہم چلارہی ہے ایک پودا درخت بنتے کئی سال لگ جاتے ہیں اور اس کو کاٹنے میں کچھ منٹس۔پی ٹی آئی حکومت نے شانگلہ سمیت صوبے بھرمیں بلین ٹری سونامی ٹریز پلانٹیشن سمیت کئی بڑے بڑے پراجیکٹس کا انعقاد کیا جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات،سیلاب،درجہ حرارت کے بڑھنے اور دیگر خطرات سے بچنا تھا۔وہاں ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت شانگلہ سمیت صوبہ بھرمیں درختان کی کٹائی زوروشور سے جاری ہے۔اس پورے عمل کو مکمل کرنے کیلئے محکمہ جنگلات ڈیمارکیشن اور ریونیو کی مدد سے کام کررہی ہے مگر عوامی حلقوں کی جانب سے سخت اعتراز یہ اُٹھایا جاتا ہے کہ قومی دولت جنگل کے فوائد اور ان کے نہ ہونے کے نقصانات سے محکمہ خوب واقف ہے پھر بھی ایسی پالیسی کیوں جس سے قیمتی درختان اور جنگلات کو کاٹا جاتا ہے اور ان کا فائدہ بھی مالک اور ٹھیکیدار کو ہوتا ہے اور نقصان پورے قوم کا۔اس حولے سے جامعہ منصبوبہ بندی کی جائے اور خیبرپختونخواہ کے دیگر علاقوں کی طرح شانگلہ کے جنگلات بھی قوم کے حوالے کی جائے تاکہ ان کا تحفظ یقینی بن سکے 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -