محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یاد میں دبئی میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یاد میں دبئی میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یاد میں دبئی میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) ایٹمی بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر دبئی میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد ہوا جس کا اہتمام پی ایم ایل این دبئی کے صدر میاں غلام محی الدین نے کیا تھا۔ تعزیتی ریفرنس میں جنرل سیکرٹری چودھری ظفر اقبال، عامر سہیل گھمن، عمار سہیل، عبدالمجید مغل، ذیشان گھمن، بلال اکبر گھمن، خادم حسین، ریاض چشتی، حاجی محمد یونس، محمد شہزاد بٹ،عبدالرزاق گجر، وقاص گھمن، سرفراز گل اور پی ایم ایل این کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔

اس موقع پر متذکرہ شرکائے تعزیتی ریفرنس نے محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ایٹم بم بنایا اور 28 مئی 1998ءکو اس کا دھماکہ بھی کیا۔ ایٹمی دھماکوں سے قبل ہمارا ہمسایہ ملک بھارت ہمیں جنگ کی دھمکیاں دیتا تھا لیکن ایٹمی دھماکوں کے بعد اس کی بولتی بند ہوگئی اور وہ جنگ کی دھمکیوں سے باز آگیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بدولت اس وقت پاکستان دنیا کا ساتواں اور اسلامی ممالک کا پہلا ایٹم بردار ملک ہے۔ ایٹمی دھماکوں کا اعزاز بھی مسلم لیگ ن کو ملا جب اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بیرونی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایٹمی دھماکوں کی اجازت دے دی اور یوں پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت کا حامل ملک بن کر سامنے آیا۔ 

تعزیتی ریفرنس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان دفاعی طور پرمضبوط ہوگیا اور دشمنوں کے لیے ناقابل تسخیر ہوگیااس کا سہرا یقینا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جاتا ہے جس پر پوری قوم ان کی ممنون ہے۔ مقررین نے کہا کہ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارے ایٹمی اثاثے بہترین اور مضبوط ہاتھوں میں بے حد محفوظ ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی پوری قوم و ملک کے لیے وقف کی لیکن افسوس اس بات کا ہے انہیں ان کے شایان شان عزت نہیں دی گئی جس کا شکوہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی زندگی میں اپنے مختلف انٹرویوز میں بھی کیا ہے۔ 

اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر اے کیو خان کی یاد میں ہر سال ان کی وفات والے دن 10 اکتوبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا جائے ااور اس روز قومی سطح پر ان کی پاکستان کے لئے خدمات کو یاد رکھا جائے۔ تقریب کے آخر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مغفرت و بخشش کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

مزید :

تارکین پاکستان -