سحابِ رحم بن کر رحمتہ للعالمین ﷺ آئے ۔۔۔!!!!

سحابِ رحم بن کر رحمتہ للعالمین ﷺ آئے ۔۔۔!!!!
سحابِ رحم بن کر رحمتہ للعالمین ﷺ آئے ۔۔۔!!!!

  

تاریخِ انسانیت میں لاکھوں نامور شخصیات گزری ہیں جو آسمانِ شہرت پر روشنِ انجم ہو کر چمکیں،تاریخ نے اُنہیں مختلف خطابات اور القابات سے نوازا۔

ان خطابات سے انکی شخصیتوں پر روشنی پڑتی ہےلیکن ان کے یہ خطابات انکی اپنی ذات و صفات کے متعلق نمایاں خصوصیت کے مظہر ہیں اور ان سے یہ بات افشاء نہیں ہوتی کہ دنیا بھر کی مخلوقات سے اس ہستی کو کیا تعلق اور نسبت ہے لیکن رحمتہ للعالمین ﷺ ایسا خطاب ہے جو صرف اسی نسبت اور تعلق کا مظہر ہے جو ممدوح الوصف کو مخلوقات کے ساتھ ہے۔۔۔ 

قارئین کرام! لغات کی ورق گردانی کی جائے تو رحمت کا لفظ پیار،ترس،ہمدردی،غمگساری،محبت اور خیر گیری کے معنی لیے ہوئے ہے۔ رحمتہ للعلمین ﷺ کا لقب صرف حضور نبی کریمﷺ کیلئے استعمال ہوا ہے،دیگر انبیآء کرام علیھم السلام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو سیدنا آدم علیہ السلام کا خلق، سیدنا شیث علیہ السلام کی معرفت،سیدنا نوح علیہ السلام کی جوش تبلیغ،سیدنا ابراھیم علیہ السلام کا ولولۂ توحید،سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی و ایثار ،سیدنا اسحاق علیہ السلام کی رضا،سیدنا صالح علیہ السلام کی فصاحت،سیدنا لوط علیہ السلام کی حکمت،سیدنا موسی علیہ السلام کی سختی،سیدنا ایوب علیہ السلام کا صبر،سیدنا یوسف علیہ السلام کا حسن وجمال،سیدنا یونس علیہ السلام کی اطاعت،سیدنا یوشع علیہ السلام کا جہاد،سیدنا داؤد علیہ السلام کی آواز،سیدنا سلمان علیہ السلام کی سلطنت،سیدنا دانیال علیہ السلام کی محبت،سیدنا الیاس علیہ السلام کا وقار،سیدنا یحیٰی علیہ السلام کی پاکدامنی اور سیدنا عیسٰی علیہ السلام کا زہدوتقوی بیان فرمایا مگر جب باری آئی سیدہ آمنہ سلام اللہ علیھا کےلال کی،محبوب ربّ ذوالجلال کی،صفاتِ باکمال کی توارشاد ربانی ہواوما ارسلنک الا رحمتہ للعلمین(سورۂ انبیآء) ترجمہ!اور ہم نےآپ ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکربھیجا ہے۔آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی عالمِ ارواح سےلیکرعالمِ محشر اورعالم محشر سےعالم جنت تک تمام جہانوں میں تمام مخلوقات کیلئے رحمت بن کر مبعوث ہوئی ہے۔ 

حُسن یوسف دم عیسی ید بیضا داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو  تنہا داری 

کائناتِ حُسن جب پھیلی تو لا محدود تھی

اور جب سمٹی تو تیرا نام بن کر رہ گئی 

یا پھر بقول مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ علیہ 

؀ جہاں کے سارے کمالات ایک تجھ میں ہیں

تیرے کمال کسی میں نہیں، مگر دو چار 

قرآن کریم میں آپ ﷺ کی رحمت کو جملہ عالمین کیلئے رحمت فرمایا گیا ہے۔آپ ﷺ نے بندوں کو خدا سے ملایا، انسانیت کے قلوب و اذہان کو پاک اور ارواح کو روشن فرمایا۔ آپ ﷺ نے غریبی و امیری،جوانی و پیری، امن و جنگ،امید و ترنگ، گدائی و بادشاہی،مستی و پارسائی،رنج و راحت، حُزن ومسرت کے ہر درجہ ہر پایہ اور ہر مقام پر انسانیت کی رہنمائی فرمائی۔ 

غریبوں کے محبّ،مساکین کے دوست،شاہوں کے تاج،آقاؤں کے آقا،غلاموں کے محسن،یتیموں کے سہارا،بے آسراؤں کے آسرا،درمندوں کی دوا،چارہ گروں کے دردمند،مساوات کے حامی،اخوت کے بانی،محبت وانس کے جوہری،صدق وسچائی کے منبع جیسی صفات حسنہ سے متصف ذاتِ گرامی آپ ﷺ ہی کی ذاتِ مبارکہ ہے، جن کے بارے میں الطاف حسین حالیؒ کہتے ہیں؛؛

؀ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا 

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا 

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا 

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا 

فقیروں کا ملجا، ضعیفوں کا ماوٰی 

یتیموں کا والی ، غلاموں کا مولٰی

خطا کار سے درگزر کرنے والا

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا 

مفاسد کو زیر و زبر کرنے والا 

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا 

اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا 

مَسِ خام کو جس نے کندن بنایا

کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا 

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا

پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا 

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا 

ادھر سے ادھر  پھر گیا رخ ہوا کا 

(صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم) 

رحمتہ للعالمین ﷺ وہی ہیں جنہوں نے ملکوں کی دوری،اقوام کی بیگانگی،رنگتوں کا اختلاف،زبانوں کا تباین دور کر کے سب کے دلوں میں ایک ہی ولولہ، سب کے دماغوں میں ایک ہی تصور،سب کی زبانوں پر ایک ہی کلمہ توحید جاری فرمایا۔ 

؀ ہوں کروڑوں سلام اس آقا ﷺ پر بت لاکھوں جس نے توڑ دیئے 

دنیا کو دیا پیغام سکوں ، طوفانوں کے رُخ موڑ دیئے 

اس محسن اعظم ﷺ نے کیا کیا نہ دیا انسانوں کو 

دستور دیا، منشور دیا، کئی راہیں دیں کئی موڑ دیئے 

رحمتہ للعالمین ﷺ وہی ہیں جو بندوں کو خدا کی حضوری تک لے جاتے ہیں اور اسے ادعونی استجب لکم کی قدسی آواز سے آشنا بناتے ہیں،اللہ اور بندے کے درمیان کسی تیسرے کیلئے کوئی رخنہ باقی نہیں چھوڑتے۔ابن امیر شریعت رحہ حضرت سید عطاءالمنعم شاہؒ یہ شعر پڑھا کرتے تھے 

؀ حقیقت میں وہ لطف بندگی پایا نہیں کرتے 

جو یاد مصطفٰی ﷺ سے دل کو گرمایا نہیں کرتے 

مواحد جو ہیں وہ غیراللہ کے آگے نہیں جھکتے

وہ پیشانی پے داغِ شرک لگوایا نہیں کرتے

رحمتہ للعالمین ﷺ کی ہی ذاتِ کریمہ ہے جن کے دربار میں سیدنا عدّاس نینوائی رضی اللہ عنہ ،سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ،سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ، سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ ،سیدنا ضمار ازدی رضی اللہ عنہ ،سیدنا طفیل دوسی رضی اللہ عنہ ،سیدنا ذُوالکلاع حمیری رضی اللہ عنہ ، سیدنا عدی طائی رضی اللہ عنہ ، سیدنا اثامہ نجدی رضی اللہ عنہ،سیدنا ابوسفیان اُموی رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ،سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ ، سیدنا کُرز فہری رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو حارث مصطلقی رضی اللہ عنہ اور سیدنا سراقہ مدلجی رضی اللہ عنہ پہلو بہ پہلو بیٹھے نظر آتے ہیں۔  

؀ خدا نے رحمتہ للعالمینﷺ خود ان کو فرمایا 

قسم اللہ کی رحمت ہی رحمت لے کر آئے ہیں 

امین بن کر امانت اہل دنیا تک وہ پہنچا دی

جو جبریل امینؑ ان ﷺ تک امانت لے کر آئے ہیں

بارگاہِ رحمتہ للعالمین ﷺ میں ہر شخص اپنے اپنے ملک اور اپنی قوم کا حق وکالت ادا کر رہا ہے اور ہر شخص اپنے اپنے دامان دل کی وسعت کے موافق پھولوں سے جھولیاں بھر رہا ہے اور اپنے اپنے ملک کے مشام جان کو ان سے معطر کر رہا ہے۔(رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین)رحمتہ للعالمین ﷺکے دربار میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں۔ نسب عالی کے سلسلہ کو دیکھو تو سیدنا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراھیم علیھم السلام تک منتہی ہوتا ہے۔ قومی وجاہت پر نظر کرو تو یہوددانِ بنو قریظہ و بنو قینقاع وبنو نضیر و خیبر وفدک کا بچہ بچہ اُنہیں خیرنا وابن خیرنا کہہ کر یاد کرتا ہے مگر آپ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے ہیں 

؀تیری مجلس میں جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے۔ 

اسی دربار میں سیدنا صرمہ بن انس رضی اللہ عنہ بھی حاضر ہیں۔صُحفِ انبیآء کرام علیھم السلام کے عالم ہیں۔ سوریا اور یروشلم کے متواتر سفر کر چکے ہیں، تورات و انجیل کیلو قدیم زبانوں میں پڑھ چکے ہیں ۔دربارہرقل میں انکی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور دربار حبش میں انکی کرامتوں کا خوب چرچا ہے۔عیسائیانِ حجاز کے گویا سب سے بڑے عالم یہی ہیں ۔ اب وہی قرآنی آیۂ مبارکہ ما المسیح ابن مریم الا رسول ، کو بار بار تلاوت فرما رہے ہیں اور توحید خالص کی لذت میں مستغرق ہیں۔ دربار رسالتمآب ﷺ میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ہیں جو فارس کے بڑے زمیندار کے اکلوتے بیٹے ہیں جو زرتشتی مذہب چھوڑ کر کاتولیکی عیسائی بنے ،پھر اطمینان قلب نہ پا کر دینِ حق کی طلب میں ایران سے شام،شام سے عراق،عراق سے حجاز مقدس پہنچتے ہیں ۔اب تو دل و جان کو حضور نبی رحمتہ للعالمین ﷺ کے قدمین شریفین کا فرش بنا چکے ہیں ۔کوئی شخص اگر ان سے باپ دادا کا نام پوچھتا تو فرما دیتے(سیدنا) سلمان بن اسلام بن اسلام اسی طرح ستر بار کہتے جاؤ۔۔۔(رضی اللہ تعالی عنہ) 

اسی دربار رحمتہ للعالمین ﷺ میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی حاضر ہوتے ہیں۔ بت پرستی کی تائید اور بتوں کی حمایت میں شجاعت و مردانگی کے جوہر دکھا چکے ہیں،غزوہِ احد میں اپنی جرات وشجاعت کا علم لہرا چکے نتیجہ تو یہ ہونا چاہیئے کہ فتح کا غرور اور غلبہ کا سرور ان کے ازدیاد غفلت اور ترقی رعونت کا سبب بن جائے مگر رحمتہ للعالمین ﷺ کی خاکساری نے انہیں فاتح کے دل کو بھی فتح کر لیا ہے وہ خود ہی کھچے کھچے آتے ہیں اور لات و عزی کے توڑنے کی خدمت حاصل کرنے کی التجا کر رہے ہیں۔یہ فقط رحمتہ للعالمین ﷺ کی ہی ذات کریمہ ہے کہ جس کے خورشید منور کی ضیاپاش کرنوں نے بزمِ انسانیت کی تاریکیوں اور ظلمتوں کا دور ختم کر کے صبحِ سعادت کا آغاز کر دیا۔

؀در فشانی نے تری قطروں کو دریا کردیا

دل کو روشن کردیا آنکھوں کو بینا کردیا

خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے

کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

صحیح مسلم میں سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم رحمتہ للعالمین ﷺ نے سفر طائف میں جب آپ ﷺ پر مظالم کی انتہاء کردی گئی تب بھی بددعا نہیں بلکہ انکے حق میں دعائے ہدایت فرمائی اور ارشاد فرمایا بیشک میں لعنت کرنے کیلئے نبی نہیں بنایا گیا،مجھے تو اللہ رب العزت کی طرف بُلانے والا اور سراپآ رحمت بنایا گیا ہے ۔ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت عطا فرمائیں کیونکہ وہ (مجھے) نہیں جانتی۔غزوۂ بدر کے ستر (70)قیدیوں کو بھی رسالتمآب ﷺ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق رہا کیا۔ان میں اکثریت نے بعد میں اسلام قبول کیا۔اللہ اکبر۔ (سوائے دو کے، عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث ان دونوں کو قتل کیا گیا)

غزوۂ بنو المصطلق میں سو (100) سے زیادہ مرد وزن قید ہوئے تھے ان سب کو بلا کسی معاوضہ کے آزاد کر دیا گیا انہی میں اُمّ المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالی عنھابھی تھیں۔حدیبیہ کے میدان میں کوہ تنعیم کے مقام پر اسّی (80) حملہ آور قید ہوئے انکو بھی بلا شرط و بلا جرمانہ آزاد کر دیا گیا۔ غزوۂ حنین میں چھ ہزار قیدیوں کو آزاد فرمایا۔۔۔!!!

10 رمضان المبارک 8 ہجری اسلامی تاریخ کا وہ سنہری دن ہیکہ جب مکہ مکرمہ کی سرزمین سیرت مقدسہ کی آب و تاب سے چمک اٹھی تھی ۔ اُس دن سے آٹھ سال پہلے اسی سرزمین سے آپ ﷺ کو اپنے وطن سے اپنے رفیق غار(جانشین مصطفےﷺ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کے ساتھ رات کے اندھیرے میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی تھی۔آپﷺ نے اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا تھااور مکہ سے نکلتے وقت خدا کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ منورہ روانہ ہوئے تھے کہ :'' اے مکہ(مشرفہ) ! خدا کی قسم ! تو میری نگاہ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتالیکن آٹھ سال بعد آپ ﷺ اپنے دس ہزار جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین  کا ایک عظیم لشکر لے کر انتہائی مسرت کے ساتھ عظیم فاتح کے طور پر نبوی شان و شوکت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور کعبۃ اللہ شریف کو اپنے سجدوں کے جمال و جلال سے مقدس گھر کی عظمت کو سرفراز فرمایا۔

فتح مکہ کے دن جب رحمتہ للعالمین ﷺ اپنے جانثاروں کے ساتھ سورت فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے داخل ہو رہے تھے تو بعض حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم کی لسان مبارک پر ایک جملہ آیا کہ آج بدلے کا دن ہے۔مشرکین مکہ مکرمہ کیطرف سے کیے جانے والے ظلم و تشدد کا انتقام لیا جائے گا کیونکہ بیسیوں مسلمانوں کو ظلماً شھید کیا گیا یا کروایا گیا، سینکڑوں مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر گھر بار سے نکالا گیا،دین اسلام کی خاطر مسلمانوں کو ابتلاء و آزمائیشوں میں میں مبتلا ہو کر حبشہ،نجد اور یمن کے سفر کرنے پڑے مگر رحمتہ للعالمین ﷺ لسان رحمت سے ارشاد فرما رہے ہیں الیوم یوم البر والوفآء ، آج کا دن تو سلوک کرنے،پورے عطیات دینے کا ہے۔ اہل مکہ (مکرمہ ) جاؤ ! آج تم آزاد ہو اور تم پر آج کوئی مواخذہ نہیں ہو گا اور اپنے جانثاران سے فرمایا آج بدلے کا دن نہیں بلکہ رحم کا دن ہے،آج عفو و درگزر کا دن ہے ۔

حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے درخواست کی کہ کلید(چابی) حضرت سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ سے لیکر بنو ہاشم کو عطا فرمائیں اس پر رحمتہ العالمین ﷺ نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بُلایا انہی کو کلید مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا جو کوئی تم نے کلید چھینے گا وہ ظالم ہو گا۔رسالتمآب ﷺ نے فتح مکہ مکرمہ کے دن اپنے جانثاروں کو احکام رحم جاری فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہتھیار پھینک دے اسے قتل نہ کیا جائے،جو خانۂ کعبۂ مشرفہ کے اندر پہنچ جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو شخص ( حضرت سیدنا) ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں داخل ہو جائے اسے قتل نہ کیا جائے ، جو شخص (حضرت سیدنا)حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں داخل ہو جائے اسے قتل نہ کیا جائے،جو شخص اپنے گھر بیٹھ جائے اسے قتل نہ کیا جائے،مکہ مکرمہ سے بھاگ جانے والوں کا تعاقب نہ کیا جائے،زخمی کو قتل نہ کیا جائے، اسیر کو قتل نہ کیا جائے۔ پھر چشمِ فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ جب رحمتہ للعالمین ﷺ کی شانِ رحیمی و کریمہ اور در گزر کے معاملے کو دیکھ اور سُن کر کفار و مشرکین مکہ مکرمہ دینِ اسلام کی دولت لازوال سے سرفراز ہو کر بارگاۂ خداوندی سے رضی اللہ تعالی عنھم ورضو عنہ کا تمغۂ امتیاز پا کر دارین کی کامیابیاں و کامرانیاں سمیٹتے  ہوئے نظر آتے ہیں۔

؀ خلیق آئے،کریم آئے،رؤف آئے رحیم ﷺ آئے

کہا قرآن نے جن کو صاحبِ خلقِ عظیم ﷺ آئے

بشر بن کر جمال اولین و آخریں ﷺ آئے 

متاعِ صدق لے کر صادق الوعد الامیں ﷺ آئے 

وہ آئے جن کو کہیے فخر آدم ، ہادی اکبر ﷺ

وہ آئے جن کو لکھیے زندگی کا محسن اعظمﷺ

مبارک ہو زمانے کو کہ ختم المرسلین ﷺ آئے 

سحابِ رحم بن کر رحمتہ للعالمین ﷺ آئے 

حضور نبی رؤف رحیم رحمتہ للعالمین ﷺ نے اپنی امت کو ترغیب و ترہیب دیتے ہوئے کہیں ارشاد فرمایا کہ اہل زمین پر رحم کرو عرش والا تم پر رحم کرے گا تو کہیں فرمایا جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔(بخاری و ترمذی )

قارئین کرام ! آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حضور نبی کریم رؤف رحیم رحمتہ للعالمینﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کر کے اس پر عمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کریں کیونکہ مسنونہ زندگی گزارنے سے ہی ہم دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی اور فوز و فلاح پا سکتے ہیں۔

وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔

مزید :

بلاگ -