ماحول دوست پیداواری پالیسی ، سندھ حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا

ماحول دوست پیداواری پالیسی ، سندھ حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا
 ماحول دوست پیداواری پالیسی ، سندھ حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ(سیپا)نےڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کےاشتراک اورچندمعروف ماحولیاتی ماہرین کی مدد سے ماحول دوست پیداواری پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دے دی جبکہ سندھ کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کرنے سے قبل اسے مزید بہتر بنانے کے لیے مشاورتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اسے موثر انداز سے صوبے کے پیداواری اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں نافذ کرسکے۔

اس سلسلےمیں سیپانےمقامی ہوٹل میں مذکورہ پالیسی پرسٹیک ہولڈرزکاایک اورمشاورتی اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر ماحولیات محمد اسماعیل راہو مہمان خصوصی تھے،اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سیپا نعیم احمد مغل، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے علاقائی سربراہ ڈاکٹر طاہر رشید اور سینئر منیجر سہیل علی نقوی کے علاوہ ماحولیاتی ماہرین اور دیگر متعلقین نے شرکت کی،سیشن کا مقصد پالیسی کے مسودے کے مندرجات کوشرکاءکے ساتھ شیئر کرنا اور اس پر رائے حاصل کرنا تھا تاکہ اس پالیسی کو نتیجہ خیز، عملی اور سب کے لیے مزیدقابل قبول بنایا جا سکے۔

وزیر ماحولیات محمد اسماعیل راہونےکہاکہ سیپاکی طرف سےتیار کردہ ماحول دوست پیداواری پالیسی کا مسودہ صوبےمیں نافذماحولیاتی قوانین کےعملدرآمدی میکنزم میں مدد گار و معاون ثابت ہوگاتاکہ محفوظ پیداوار کے طریقوں کے لیے مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کو تفصیلی ہدایات فراہم کی جا سکیں،ماحول دوست پیداوار ایک مربوط حفاظتی اورماحولیاتی حکمت عملی کا نتیجہ ہوتی ہے اور مصنوعات اور خدمات کے شعبہ جات پر یکساں لاگو ہوتی ہے تاکہ مجموعی پیداواری کارکردگی کو پائیدار بناتے ہوئے بڑھایا جاسکے اور اس سے جڑے انسانوں اور ماحول کو لاحق خطرات کم کیا جاسکیں۔

اسماعیل راہو نے مزید کہا کہ ایک موثر اور پائیدار پیداواری پالیسی سندھ میں صنعتی سرگرمیوں کے نتیجے میں درپیش ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بعض ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد کے لیے ایک نتیجہ خیز فریم ورک فراہم کر سکتی ہے،صوبائی کابینہ کی طرف سے اس پالیسی کی منظوری کے بعد، صوبہ سندھ پاکستان میں ماحول دوست پیداواری طریقے متعارف کرانے والا کلیدی صوبہ ہوگا۔وزیر ماحولیات نے سیپا کے ساتھ ساتھ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی بطورپالیسی کے مصنف اور ان تمام تکنیکی ماہرین کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے مذکورہ پالیسی کو آخری مرحلے تک لانے میں اپنی قیمتی آراءدیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -