’فیصلہ کسی بابے سے کرالیں، چڑیل سے یا  کسی پری سے لیکن ۔۔۔‘ق لیگی سینیٹر کامل علی آغا نےعوام کے دل کی بات کہہ دی

’فیصلہ کسی بابے سے کرالیں، چڑیل سے یا  کسی پری سے لیکن ۔۔۔‘ق لیگی سینیٹر ...
’فیصلہ کسی بابے سے کرالیں، چڑیل سے یا  کسی پری سے لیکن ۔۔۔‘ق لیگی سینیٹر کامل علی آغا نےعوام کے دل کی بات کہہ دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ق کےمرکزی رہنماءسینیٹر  کامل علی آغا نےکہاہےکہ پاکستانی سیاست میں ’جادو ٹونے اور بابوں‘ کی بات نئی نہیں ہے لیکن گالم گلوچ اور بد زبانی سیاست میں مناسب نہیں، جس کے پاس اخلاق نہیں وہ سیاست چھوڑدے،وزیر اعظم عمران خان نے بتایاہے کہ افواج پاکستان کے اپنے رولز اور اپنی سوچ ہوتی ہے اور سول حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اس کی اپنی سوچ ہوتی ہے،ہم سیاسی طور پر سوچتے ہیں اور وہ فوجی انداز میں سوچتے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل’آج نیوز‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ میں سوچ رہا تھا کہ جنرل فیض حمید کو اگلے تین چار ماہ مزید رہنا چاہئے،اس لئے رہنا چاہئے کہ افغانستان کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہاں پر اگلے تین چار ماہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں ،وہاں پر بہت ساری تبدیلیاں بھی آ سکتی ہیں ،اگر یورپ اور امریکہ نے افغانستان کے فنڈز جاری نہ کئے تو افغانستان کے اندرونی حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں،افغانستان کے حالات خراب ہوئے تو اس سے پاکستان متاثر ہو گا ۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں پہلےبھی بابے ہوتے تھی ،پریاں ہوتی تھیں اور ہر کسی نے ایک ’بابا ‘ رکھا ہوتا تھا اور پھر کوئی وزیراعظم بن کر’بابے ‘سے چھڑیاں بھی کھانے جاتا تھا ،یہ پرانی باتیں ہیں میں نام نہیں لوں گا ،کوئی وزیراعظم بنا اُس نے بھی اور کوئی صدر بنا اُس نے بھی ایک ’بابا ‘ رکھا ہوا تھا جس سے وہ مشورہ ضرور کرتے تھے’جادو ٹونے اور بابوں‘ کی بات نئی نہیں ہے ، فیصلہ چاہے کسی ’بابے‘ سے کرالیں ،جن سے کرالیں ،چاہے کسی چڑیل سے  کرا لیں یا پری سے کرا لیں لیکن وہ فیصلہ ایسا ہونا چاہئے جو عقل ،سمجھ  کے مطابق درست ہو اور اس کا فائدہ عام آدمی کو ہو ،اگر فائدہ نہیں ہوتا تو چاہے فیصلہ بابا کرے یا کوئی پری ؟وہ نقصان میں ہی جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ زبان بھی کنٹرول میں ہونی چاہئے ،جو لہجہ ہے وہ بھی درست رہنا چاہئے،سیاست ہے کوئی دشمنی تو نہیں ہے،گالیاں دینا یا بد زبانی کرنا قطعی طور پر درست نہیں ہے،اخلاقیات سیاست کا حصہ ہے ،اگر کسی کے پاس اخلاق نہیں ہے تو اسے سیاست چھوڑ دینی چاہئے، سیاست ایک بڑا ولیوں کا اور یہ ڈیلیور کرنے والا وصف ہے،اگر کوئی درست اور عام آدمی کی تکلیفوں کو دور کرنے والی سیاست کرے تو یہی اصل سیاست ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -