ہائی وولٹیج ٹاکرا 

   ہائی وولٹیج ٹاکرا 
   ہائی وولٹیج ٹاکرا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  برصغیر پاک و ہند کے پونے دو ارب لوگوں کو جس دن کا بے چینی سے انتظار تھابالآخر وہ دن آ پہنچا ہے۔ آج 14 اکتوبر بروز ہفتہ اس لحاظ سے ایک تاریخی دن ہے جب 7 سال بعد پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے روایتی حریف بھارت کے ساتھ اس کی سرزمین پر آمنے سامنے ہوگی۔پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق یہ ہائی وولٹیج ٹاکرا دوپہر ڈیڑھ بجے بھارتی ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد کے نریندرا مودی سٹیڈیم میں شروع ہوگا۔یہ سٹیڈیم دُنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا سٹیڈیم ہے جہاں ایک لاکھ 30 ہزار شائقین کے بیٹھے کی گنجائش ہے۔تاریخی اعتبار سے اس سٹیڈیم کو بھارت کے سب سے پہلے بین الاقوامی ایک روزہ میچ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے۔1960ء میں تعمیر ہونے والے اس سٹیدیم کا پرانا نام سردار ولبھ بھائی پٹیل سٹیڈیم تھا جس میں ابتدائی طور پر 50 ہزار افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی اور اس کا ڈیزائن معروف ماہر تعمیرات چارلس کورا نے بنایا تھا۔ شر وع میں یہ احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی ملکیت تھا تاہم اب اس گراؤنڈ کی مالک گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق آج ہونیوالے پاک بھارت کرکٹ میچ کو 50کروڑ افراد براہ راست دیکھیں گے، شائقین کی یہ تعداد امریکہ کے مقبول ترین کھیل فٹبال کے فائنل (سُپر بال) کی ”لائیو ویور شپ“ سے پانچ گناہ زائد ہے۔دوسری جانب آج ہونیوالے اس میچ کے لئے کرکٹ کی تاریخ کے غیر معمولی سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ میچ کے دوران احمد آباد شہر میں 11 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار حفاظت کے لئے تعینات کئے جائیں گے جبکہ عالمی کپ کے افتتاحی میچ کے لئے 3500 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ احمد آباد کے ایڈیشنل پولیس کمشنر چراغ کوراڈیا کے مطابق آج ہونے والے پاک بھارت ٹاکرے کے دوران گجرات پولیس، نیشنل سکیورٹی گارڈ کمانڈو، فساد شکن فورسز اور ہوم گارڈز سمیت مجموعی طور پر 11 ہزار سکیورٹی اہلکار حفاظتی ڈیوٹی کریں گے۔ سٹیڈیم کے دروازوں پر سکیورٹی کا جدید انتظام ہوگا،  گاڑیوں، ملحقہ ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کی بھی چیکنگ کی جائے گی جبکہ میچ کے لئے انٹی ڈرون سسٹم کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ 

ایک دلچسپ صورتحال یہ بھی پیدا ہوئی ہے کہ میچ سے قبل احمد آباد میں ہوٹل رومز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جہاں ایک رات کا کرایہ ڈیڑھ لاکھ روپے تک طلب کیا جا رہا ہے، اس صورتحال میں کرکٹ بخار میں مبتلا شائقین نے سستے کمرے حاصل کرنے کیلئے ایک دلچسپ حل ڈھونڈا ہے جنہوں نے ہسپتالوں کے پرائیویٹ رومز بُک کروانا شروع کر دیئے ہیں جو کہ نہ صرف سستے ہیں بلکہ با آسانی دستیاب بھی ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آج ہونے والے میچ سے قبل ہسپتالوں میں اچانک مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے اور متعدد ہسپتالوں کے پرائیویٹ رومز کی بکنگ کروائی جارہی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ زیادہ تر کمرے میچ سے قبل یعنی گزشتہ رات کے لئے بک کروائے گئے ہیں کیونکہ اس رات کے لئے ہوٹلوں نے اپنے کرایوں میں 80 فیصد تک کا اضافہ کر رکھا ہے۔احمد آباد میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر تشار پٹیل کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پہلے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جب کرکٹ بخار میں مبتلا شائقین پاک بھارت میچ دیکھنے کیلئے ہسپتالوں میں طبی معائنہ کروانے کے بہانے سستی رہائش کا بندوبست کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ادھر احمد آباد ہاسپٹل اینڈ نرسنگ ہومز ایسوسی ایشن نے اپنے ممبران کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ایسے شائقین کو جگہ نہ دیں۔

 کرکٹ کے میدانوں میں ہونے والی پاکستان اور بھارت کی ”جنگ“ کی تاریخ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی پہلی حقیقی جنگ کی تاریخ سے 13 سال پرانی ہے۔روایتی حریفوں کے درمیان پہلا کرکٹ ٹیسٹ تقسیم ہند کے پانچ سال بعد یعنی 1952ء میں اکتوبر کی 16 سے 18 تاریخ کے درمیان کھیلا گیا۔یہ میچ پاکستان کرکٹ ٹیم کا بھی پہلا ٹیسٹ تھا، نئی دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں پاکستانی ٹیم کو عبدالحفیظ کاردار اور امیر الٰہی جیسے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل تھیں جو اس سے قبل بھارت کی ٹیم سے بھی کھیل چکے تھے۔ بھارت نے اس میچ میں ایک اننگز اور 70 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔پاکستان اور بھارت کے مابین پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ یکم اکتوبر 1978ء کو کھیلا گیا۔اس میچ سے قبل کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے 2-0 سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے مابین تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی گئی، اس سیریز کا پہلا میچ کوئٹہ میں کھیلا گیا اور یہ میچ بھارت کے معروف کھلاڑی کپل دیو کا بھی پہلا میچ تھا۔ کرکٹ کے تیسرے اور آخری فارمیٹ کی بات کی جائے تو روایتی حریفوں کے مابین پہلا انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میچ جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں کھیلا گیا۔

کرکٹ کے موجودہ عالمی میلے کی بات کی جائے تو آج ہونے والا پاک بھارت ٹاکرامجموعی طور پر ورلڈ کپ 2023 ء کا بارہواں میچ ہوگا۔ اس سے قبل ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی دنیائے کرکٹ کی 10 ٹیمیں آپس میں 11 میچ کھیل چکی ہیں۔جمعہ کی صبح تک پوائٹس ٹیبل پر سر فہر ست جنوبی افریقہ تھی جبکہ دسویں اور آخری نمبر پر افغانستان ہے۔علاوہ ازیں پاکستان اس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر براجمان ہے جبکہ بھارت اس سے ایک درجہ اوپر یعنی تیسری پوزیشن پر ہے۔سر فہرست چاروں ٹاپ ٹیموں نے گزشتہ روز تک دو، دو میچ کھیل کر دونوں ہی جیت رکھے ہیں اس لئے رن ریٹ کی بنیاد پر ان ٹیموں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔کرکٹ ورلڈ کپ 19 نومبر تک جاری رہے گا جس میں آج کے میچز کے بعد مجموعی طور پر 36 مزید میچز کھیلے جائیں گے تاہم پاکستانی اور بھارتی شائقین کے لئے آج ہو نے والا ”ہائی وولٹیج ٹاکرا“ ہی ورلڈ کپ کا فائنل سمجھا جائے گا اورآج جیتنے والی ٹیم سمجھیں ورلڈ کپ جیت گئی جبکہ آج کی ہار کروڑوں دلوں کے لئے ناقابل برداشت ہو گی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک لاکھ تیس ہزار شائقین کی گنجائش والے دنیا کے سب سے بڑے نریندرا مودی سٹیڈیم میں پولیس اور سکیورٹی اداروں نے کسی ممکنہ بھگدڑ اور ہنگامہ آرائی کی صورتحال کے پیش نظر لوگوں کو محفوظ انداز میں باہر نکالنے کی مشقیں بھی کر رکھی ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ آج کا میچ پر امن اور خوشگوار ماحول میں انعقاد پذیر ہو اور شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے، جبکہ ہار اور جیت دونوں صورتوں میں عوام اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور کھیل کو کھیل سمجھیں۔

مزید :

رائے -کالم -