پٹرولیم مصنوعات،زرعی مداخل اور کسان

پٹرولیم مصنوعات،زرعی مداخل اور کسان
پٹرولیم مصنوعات،زرعی مداخل اور کسان

  

ایک زمانہ تھا جب ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں سالانہ بجٹ کے وقت جولائی میں بڑھائی جاتی تھیں۔ پھر کچھ عرصے بعد ہر تین مہینے بعد یہ قیمتیں بڑھائی جانے لگیں۔ ماشاءاللہ جب سے موجودہ عوامی حکومت اقتدار میں آئی ہے اِس نے ہر مہینے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل شروع کردیا۔ جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو اُس وقت باقی دنیا کی طرح ڈیزل کی قیمت پٹرول سے کم ہوتی تھی، لیکن کسی سیانے نے حکومت کو بتایا کہ ملک میں ڈیزل کی کھپت پٹرول سے کہیں زیادہ ہے اس لئے ڈیزل کی قیمت پٹرول سے زیادہ رکھو تاکہ منافع زیادہ ہو۔گزشتہ 2/3سال سے ڈیزل کی قیمت پٹرول سے زیادہ ہے۔اب ایک ماہ سے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل مہینے،پندرہ دن کی بجائے ہر ہفتے کرنا شروع کردیاہے۔ یکم ستمبر 2012ءسے9ستمبر2012ءتک حکومت نے دو بارڈیزل کی قیمت بڑھادی۔ یکم ستمبر کو فی لیٹر8/9روپے جبکہ9ستمبرکو3½روپے لیٹر اضافہ کیا، لیکن عوام کا حوصلہ دیکھو کہ پھر بھی کوئی احتجاج نہیں۔ نہ ہی فرینڈلی اپوزیشن نے بُرا منایا۔ کچھ عرصہ قبل تک تو حکومت کی ایک اتحادی جماعت ایم کیو ایم استعفے کی دھمکی بھی دے دیتی تھی، لیکن اب ایم کیو ایم بھی اس طرح کے اضافے کا بُرا نہیں مناتی۔

حکومت اپنا ٹیکس بڑھانے اور اپنی مالی مشکلات پر قابو پانے کے لئے نوٹ چھاپ لیتی ہے یاہرہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر ڈنگ ٹپا رہی ہے، حالانکہ جب بھی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ پٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے سے جہاں حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے، وہاں ،چھوٹا بڑا بزنس مین بھی اِس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کر دیتا ہے اور خوب منافع کماتا ہے۔ مرتا ہے تو غریب کنزیومر.... مثال کے طور پر اگر ڈیزل 5روپے فی لیٹر مہنگا ہوگا تو ساری ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جائے گی۔ اگر ایک بس والا ملتان لاہور روٹ پر بس چلاتا ہے۔ ملتان سے لاہور ایک بس100لیٹر ڈیزل استعمال کرتی ہے۔ بس والا 100لیٹر ڈیزل پر500روپے زائد اداکرتا ہے، لیکن وہ فی سواری 50روپے زائد وصولی کر کے 50 سواریوں سے2500روپے زائد کماتا ہے۔

اِسی طرح جب ڈیزل، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو پٹرول پمپ والوں کا کمیشن بھی بڑھ جاتا ہے۔ سبزی فروش سے مل مالکان تک تمام لوگ اپنی مصنوعات کی قیمتیں10/15روپے بڑھا دیتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی غیر مناسب اور بے جا مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر غریب عوام اور کسان پر پڑتا ہے۔ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی تو کسان کو ٹیوب ویل، ٹریکٹر مہنگا پڑے گا۔ زرعی مشینری مہنگی ہوگی، کھادیں مہنگی ہوں گی، لیکن کسان کی فصلیں، مثلاً گندم، چاول، کپاس، گنا جو کسان کی اہم فصلیں ہیں، اُن کے بھاﺅ وہی پرانے۔ کپاس کا بھاﺅ 2010ءمیں5/6ہزار روپیہ فی من تھا جو کہ2011میں کم ہو کر2500/-روپے فی من پر آگیا اور2012ءمیں بھی کوئی بہتری نہیں آئی، لیکن اسی عرصے میں کھادوں کی قیمتیں تقریباً دوگنا ہو گئیں۔ گندم، چاول کی بھی وہی پرانی قیمت لیکن زرعی مداخل ڈبل قیمت سے بھی زیادہ۔ بجلی کا بحران بھی کسان کے لئے جان لیوا ، کیونکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کمی کی وجہ سے کسان ٹیوب ویل مہنگے ڈیزل سے چلانے پر مجبور ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے عالمی منڈی کی قیمتوں کے تناسب سے بڑھاتی ہے، جو کہ غلط ہے، اِس وقت بھی عالمی منڈی کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات فی لیٹر 50روپے زیادہ ہے۔ ڈیزل ،پٹرول تو مان لیا عالمی منڈی سے خریدا جاتا ہے۔ سوئی گیس تو ہماری اپنی ہے ، اِس میں ہر ہفتے اضافہ کس لئے ہوتا ہے۔ اگر حکومت زرعی مداخل کی قیمتیں عالمی منڈی کے تناسب سے بڑھاتی ہے تو کسان کی فصل ،مثلاً گندم اب عالمی منڈی میں 330ڈالر فی ٹن ہے جو 1320روپے فی من بنتی ہے، کیا حکومت آئندہ فصل پر کسان کو گندم کی قیمت 1320روپے فی من کے حساب سے دے گی؟چاول عالمی منڈی میں2000روپے فی من سے زیادہ ہے، چاول کی فصل اب تیار ہے، کیا حکومت چاول کے کسانوں کو یہ قیمت دے گی ہر گز نہیں۔

2011ءمیں گنے کی قیمت فی من165 روپے تھی، ایک سال میں زرعی مداخل70فیصدبڑھ گئے ہیں تو کیا اِس سیزن میں شوگر ملیں کسانوں کو225روپے فی من قیمت دیں گی؟ کپاس کی قیمت بھی حکومت کو بڑھانی چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ جس طبقے کی حکمرانی ہے، اُسے کسان کی فلاح و بہبود اور مزدور کی خوشحالی سے کوئی واسطہ نہیں، کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ غریب، مزدور، کسان اُن کے لئے اچھے ووٹر ثابت ہوتے ہیں، جو صرف وعدوں پر ہی یقین کر لیتے ہیں، جبکہ اِن حکمرانوں کی جائیدادیں یورپ امریکہ میں ہیں، وہ اس ملک میںصرف حکمرانی کے لئے آتے ہیں، جتنے عرصے کے لئے حکومت چلے ٹھیک، اُس کے بعد بریف کیس اٹھاﺅ اور چلتے بنو۔ آپ اندازہ کریں کہ کچھ حکمرانوں کے اپنے ذاتی ہسپتال ہیں، لیکن وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے ہر مہینے لندن اور امریکہ جاتے ہیں، اُنہیں تو یہاں کے کسی ادارے پر یقین نہیں تو وہ یہاں حالات بہتر کیوں کریں گے؟

 ہمارے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس ملک کا کسان اور غیر ممالک میں موجود70/80لاکھ پاکستانی ورکر اس ملک کو چلا رہے ہیں ۔ زراعت اِس ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ تقریباً30ارب ڈالر کماتا ہے۔ اس کے علاوہ خورونوش کی ملکی چیزیں مہیا کرتا ہے، لیکن جس طرح حکمران طبقہ کررہا ہے ملک میں نہ بجلی ہے، نہ پانی، نہ گیس، نہ لاءاینڈ آرڈر۔ جب کسان کو ڈیزل 116 روپے فی لیٹر ملے گا جس کے مزیدبڑھنے کے امکانات ہیں۔ یوریا کھاد2000بوری ۔ ڈی اے پی 4500فی بوری توآنے والے سیزن میں کسان گندم کاشت کرنے سے 10 بار سوچے گا، کیونکہ 1050 روپے من میں کسان گندم پیدا نہیں کرسکتا تو پھر لازماً 2007ءوالا آٹے کا بحران جنم لے گا۔ حکمران اگر چاہتے ہیں کہ ملک چلتا رہے تو اُسے زراعت پر خصوصاً توجہ دینی چاہیے ۔ ہمارے پانیوں پر بھارت مکمل کنٹرول کر چکا ہے۔وہ جب چاہے ہمارا پانی بند کر کے ہمیں خشک سالی میں مبتلا کر سکتا ہے اور جب چاہے ہمیں سیلاب میں نہلا سکتا ہے، لیکن حکومت اپنے الللوں تللوں اور ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔  ٭

مزید :

کالم -