ایک کھلا خط

ایک کھلا خط

  



                                        بخدمت جناب!

واجب الاحترام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

عمر عطا بندیال صاحب مدظلہ!

جناب عالیٰ

مَیں انتہائی درد مندی اور بڑی دل سوزی کے ساتھ آپ کو 19 اگست 2013ءکو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(L.D.A) ہیڈ آفس پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتش زدگی کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں، جس میں 32 قیمتی انسانی جانیں اور ایل ڈی اے کا بے حد قیمتی ریکارڈ ایک سازش کے تحت جلا کر راکھ کر دیا گیا۔

مَیں آپ کی خدمت میں نہایت مو¿دبانہ طور پر ملتمس ہوں کہ آپ اس سانحہءعظیم کی جلد از جلد تحقیقات کرائیں!

اس وقت میری عمر88 برس سے متجاوز ہے۔ اس کے باوجود مَیں اس عدالتی انکوائری میں ہمہ وقت پیش ہو کر اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کو رضا کارانہ طور پر تیار ہوں، کیونکہ مَیں سارے خود ساختہ حادثے کے پیش منظر اور پس منظر سے بخوبی آگاہ ہوں۔

ہُوا یوں کہ مَیں اس حادثے سے چند روز پیشتر اپنے ایک ذاتی کام کے سلسلے میں ایل ڈی اے کے کیئر ٹیکر، یعنی نگران ڈائریکٹر جنرل سے ملنے کے لئے ہیڈ آفس ایل ڈی اے پلازہ گیا۔

 جب مَیں نویں فلور پر پہنچا تو اس کے باوجود کہ مَیں سال ہا سال سے اس بلڈنگ میں ڈی جی صاحبان کو ملنے کے لئے آتا جاتا رہا ہوں، وہاں پر بنائے گئے کیبن کے ”گُھمن گھیر“ کی وجہ سے مجھے چپڑاسیوں سے یہ پوچھنا پڑا کہ ڈی جی صاحب کا دفتر کس طرف ہے؟....مَیں پوچھتا پاچھتا بالآخر ڈائریکٹر جنرل اعجاز کریم صاحب سے ملنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ مَیں نے علیک سلیک کے بعد اُن سے پہلا سوال یہ کہا کہ:

”کیا آپ مزاح برداشت کر لیتے ہیں یا چڑتے ہیں؟

اُنہوں نے کہا: ”مَیں مزاح سے لُطف اندوز ہوتا ہوں“۔

 مَیں نے کہا: ”جب مجھے معلوم ہُوا کہ آپ ایل ڈی اے کے نگران ڈی جی لگے ہیں تو بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ ہائر ایجوکیشن کے ادارے میں جعلی ڈگری کیسوں کے سلسلے میں پوری پا آئے ہیں کہ اب یہاں آگئے ہیں؟“.... تو اس پر انہوں ایک بھرپور قہقہہ لگایا۔

مَیں نے اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے کہا:

”جناب والا! آپ اس نویں فلور کے بالاخانے کو ”ون وِنڈو“ آپریشن سے جسے، مَیں ون ونڈو اور ”مینی بیک ڈورز“[ایک کھڑکی اور بہت سے چور دروازے] کہہ کر پکارتا ہوں، اُٹھا کر نئے کمپلیکس میں لے جائیں“.... مَیں نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ ”مَیں نے شعوری طور پر آپ کے اس نویں فلور کے دفتر کو ”بالا خانہ“ کہا ہے۔ اُس بازار میں ”مجبور ومقہور رنڈیاں اپنا جسم بیچتی ہیں اور یہاں اس بالا خانے میں ضمیر کی نیلامی ہوتی ہے۔ مَیں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ون ونڈو آپریشن میں سائل آتے ہیں تو افسروں کے دفتروں کو قفل لگا ہوا پاتے ہیں، وہاں بس گارڈز پہرے پر ہوتے ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے منت سماجت کے بعد کوئی شخص دفتر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جائے تو جواب ملتا ہے کہ افسر موصوف ہیڈ آفس گئے ہوئے ہیں، جبکہ دراصل وہ پراپرٹی ڈیلروں اور سائلین کے ساتھ اچھے سٹینڈرڈ کے ہوٹل میں لنچ کرنے اور سودا بازی کے لئے غائب ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ 28 فروری 2013ءکو ضلع کچہری لاہور میں سب رجسٹرار صدر کے ریکارڈ کو جن مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے جلایا گیا تھا، اس کے بعد یہاں پر موجود ریکارڈ کو جلانے کے لئے بہت سے نئے اسباب ایل ڈی اے کے افسرانِ بالا کے دلوں میں نئی خواہشات کو پروان چڑھا رہے ہیں“....!

اس پر میرے بیٹھے بیٹھے ہی ڈی جی صاحب نے فی الفور ون ونڈو کمپلیکس میں کسی افسر کو فون کیا اور حکم دیا کہ میرے لئے وہاں دفتر کے لئے کوئی موزوں کمرہ تیار کرائیں، مَیں کل ہی اپنا دفتر وہاں شفٹ کر رہا ہوں“....!

مَیں جب یہاں سے فارغ ہُوا تو ڈائریکٹر فنانس رانا ظہیرکے کمرے میں چلا گیا، وہ میرے سمن آباد والے پانچ، چھ مکانوں میں سے ایک کے ہمسائے ہیں کہ اُن کا آبائی گھر بھی وہیں پر ہے، جہاں اُن کے والدِ گرامی رانا محمد اختر ان دنوں صاحب فراش ہیں۔ رانا ظہیر کے ایک بھائی رانا تنویر میرے بیٹوں کے لڑکپن کے لنگوٹیوں میں سے ہیں۔ مَیں جب بھی ایل ڈی اے ہیڈ آفس جاتا ہوں تو رانا ظہیر سے ضرور ملتا ہوں اور مختلف موضوعات پر اُن سے کھل کر باتیں کرتا ہوں، وہ بھی مجھ سے کئی کہی، اَن کہی کہانیاں بیان کر دیتے ہیں۔ مَیں نے اس ملاقات میں اُن سے کہا کہ موجودہ ڈی جی صاحب ایل ڈی اے سے میری متذکرہ گفتگو ہوئی ہے اور اُنہوں نے فی الفور اپنا دفتر اور ہیڈ آفس ون ونڈو کمپلیکس میں منتقل کرنے کا حکم بھی صادر فرما دیا ہے۔ اتنے میں وہاں کچھ اور افسر بھی آگئے۔ مَیں نے دوپہر کا کھانا بھی، اُن سب کے ساتھ کھایا۔

گمان غالب یہ ہے کہ ان سب افسروں کو فکر لاحق ہوگئی کہ اربوں روپے کے گھپلے کا ریکارڈ اگر ون ونڈو کمپلیکس میں چلا گیا تو اُسے جلانا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے لئے انہوں نے چند روز میں ہی اس تمام ریکارڈ کو وہیں آگ لگا دی۔ جناب احد چیمہ ڈی سی او نے جو رپورٹ وزیراعلیٰ کی خدمت میں پیش کی ہے، اس میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سکیم اور سازش کے تحت تمام ریکارڈ نذر آتش کیا گیا تا کہ کرپشن کرنے والوں کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہو سکے اور جرم پر پردہ بھی پڑا رہے۔

 جناب والا!

32 قیمتی انسانی جانوں کو جلا کر بھسم کر دینے اور ایل ڈی اے کے قیمتی ریکارڈ کو یوں بے دردی سے جلا دینے والوں کے شرمناک عمل کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہ کرنا اس ملک کے حکمرانوں کی دیدہ دانستہ بے حسی، شقاوتِ قلبی اور بے شرمی کی انتہا ہے۔ آپ سے انصاف کا طالب ہوں۔

نذر الرحمن رانا، صدر انجمن شہریانِ لاہور

سینئر ممبر سنٹرل کمیٹی تحریک انصاف

32-B ٹیک سوسائٹی، لاہور

 Cell No:0300- 4161200

مزید : کالم


loading...