اخلاقی اقدار اور اصلاحِ معاشرہ

اخلاقی اقدار اور اصلاحِ معاشرہ

                                                                                            قوم اندر سے مستحکم ہوگی تو انرجی بحران، شدید مالی دباو¿، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کر سکے گی۔ اس لئے یہ وطن کی پکار بھی ہے اور ہماری بقاءکے لئے لازم بھی کہ ہم باہمی جنگ و جدل، رسہ کشی، تفرقہ بازی، نفرت انگیزی اور علاقائی تعصبات سے بلند ہو کر اپنے ملک کے لئے سوچیں، جسے ہم نے آج مسائل کی دلدل بنا دیا ہے۔ یہ مملکتِ خدا داد ہمارے پاس ”امانت“ ہے، قائداعظمؒ کی، علامہ اقبالؒ کی، لاکھوں قربانیاں دینے والے مسلمانوں کی اور سب سے بڑھ کر ہماری آئندہ نسلوں کی کہ جن کا مستقبل اس ملک اور اس قوم سے وابستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ملک کو اندرونی طور پر خطرات ہیں۔ کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں تو ملک کے اندر اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کسی تلوار، توپ یا بم کی ضرورت نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق کی ضرورت ہے جو لوگوں کے دلوں پر دستک دے اور ان کی زندگیاں بدل ڈالے۔

یہ کام کون شروع کرے؟ حکومت یا سیاسی پارٹیاں، میڈیا یا اساتذہ، علماءیا وکلائ، فوج یا پولیس، پڑھے لکھے یا اَن پڑھ، دکاندار یا تاجر، مزدور یا طلبائ، کسان یا صنعتکار؟.... تو میرا جواب یہ ہے کہ جس جس کی آنکھیں کھلی ہیں، جس کا ضمیر زندہ ہے، جس کے سینے میں دل ہے، جس کو وطن سے محبت ہے، جو پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیتا ہے، جس کو اپنی آنے والی نسلوں سے پیار ہے، جو فرض شناس ہے، جو زندگی میں کچھ کر گزرنے کی خواہش اور ہمت رکھتا ہے....بھلے یہ کام تقریروں سے، وعظموں سے اور چکنی چپڑی باتوں سے نہیں ہوگا۔ یہ کچھ بہت ہو چکا،اب عمل کی ضرورت ہے۔ اخلاص اور ایثار مطلوب ہے۔ شفقت اور محبت کی ضرورت ہے۔ عدل و انصاف کو لازم کرنے کی ضرورت ہے۔ محروم کو اُس کا حق دینے کی ضرورت ہے۔ حالات کی خرابی کا رونا رونے کا اب وقت گزر چُکا، اب تو عملی اقدامات مطلوب ہیں:

شِکوئہ ظُلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اصلاح کی ابتداءہر شخص کو اپنی ذات سے کرنا ہوگی۔ اصلاحِ احوال کا یہ بیڑا ہر کوئی اٹھائے، جسے بھی احساسِ زیاں ہو....اس احساسِ زیاں کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اصلاح کے لئے تیار کیا جاسکے۔ اس مقصد کے لئے حکومتی سطح پر اہداف طے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا پہلا ہدف”سچا پاکستانی“ ہونا چاہئے۔ عوام کو باور کرایا جائے کہ قومی اور ملکی مفاد کی اہمیت کیا ہے؟ اس کے لئے ذاتی، خاندانی یا علاقائی مفاد کو قربان کر دینا اشد ضروری ہے۔ اس ہدف کے حصول سے رشوت، کرپشن، اقرباءپروری، چور بازاری وغیرہ جیسے بہت سے جرائم سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے.... دوسرا ہدف ”سچا مسلمان“ ہے....جو سچا مسلمان ہوگا، وہ صحابہ کرامؓ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ذات پر دوسروں کے مفاد کو ترجیح دے گا، جس کا اخلاق اور کردار مثالی ہوگا۔ اس سلسلے میں ہمارے حکمرانوں اور سیاسی رہنماو¿ں کو رول ماڈل بننا ہوگا۔ جس طرح ایک مسلمان نے خندق کی کھدائی کے وقت بھوک، پیاس کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر بندھا ہوا پتھر دکھایا۔ اس کے جواب میں نبی کریمﷺ نے کوئی وعظ، کوئی تقریر نہیں فرمائی، بلکہ اپنے پیٹ پر بندھے ہوئے دو پتھر دکھا دئیے۔ یہ ہے قیادت کی اصل روح، جس سے انقلاب لایا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا اہداف کے حصول کے لئے حکمران، میڈیا، دانشور، سیاسی رہنما، مذہبی سکالر، وکلاءاور عدلیہ سب کے سب ذمہ دار ہیں، مگر سب سے زیادہ ذمہ دار اور مو¿ثر(Effective) حکمران ہیں۔ جیسا کہ مشہور مقولہ ہے:ترجمہ: ....لوگ اپنے حکمرانوں کے پیروکار ہوتے ہیں.... حکمرانوں کی صف میں سب سے زیادہ اثر انگیز افسر شاہی(بیورو کریسی) ہے جو عمر بھر حکمران رہتے ہیں۔ حکومتیں بنتی، ٹوٹتی رہتی ہیں، مگر یہ طبقہ اشرافیہ ہمیشہ قائم و دائم رہتا ہے۔ ان کی اصلاح بہت ضروری ہے، بلکہ اگر یہ طبقہ دوسروں کی اصلاح کرنے کا بیڑہ اٹھا لے تو کام بہت ہی آسان ہو جاتا ہے۔

ملک بھر میں ایک اعلیٰ درجے کے انقلاب کی ضرورت ہے اور وہ ہے ”اخلاقی انقلاب“۔ جو قوم اخلاقی اعتبار سے مضبوط ہوگی وہی زندہ رہے گی اور اخلاقی انقلاب لانے کے لئے پوری قوم اور قوم کے بچے بچے کو ”فکر آخرت“ کا نسخہءکیمیا دینا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت کے سامنے حاضر ہو کر زندگی بھر کے اعمال کا حساب دینا پڑے گا اور اس حساب کا احساس اور شعور بیدا کرنا ہوگا۔ جو ذرہ برابر نیکی کرے گا، اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا، اسے بھی دیکھ لے گا۔ فکرِ آخرت سے قوم کے ہر فرد میں احساس ذمہ داری پیدا ہوگا۔ نیکی کی ترغیب ہوگی اور بُرائی سے نفرت قوم کے ایک ایک فرد پر محنت کرنے کی ضرورت ہے:

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

علامہ اقبالؒ   

یہ کام صرف علماءتک محدود نہ رکھا جائے۔ اس کام کو کرنے کے لئے ”بابو حضرات“ اور ”سیاہ کوٹ“ والے لوگ بھی آگے بڑھیں۔ میڈیا کی یہی پالیسی ہو کہ لوگوں کی اصلاح کرنی ہے۔ بُرے کاموں کے بُرے انجام سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ نیک کام کے ثمرات اور فوائد سے روشناس کروائیں۔ ملک کے اندر وسیع پیمانے پر ا صلاحی اور تبلیغی مہم چلائی جائے۔ یہ کام کرنے والے سادگی کو شعار بنائیں۔ اپنے عمل سے انقلاب عوام میں منتقل کریں۔ سرکاری سطح پر نمائندہ وفود تشکیل دئیے جائیں، جو اس کام کو آگے بڑھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اہتمام کیا جائے کہ مظلوم کی داد رسی ہو۔ محروم کو عطا کیا جائے اور مجبور کی بات سُنی جائے۔

ملک سے انتہا پسندی ختم کرنے کے لئے علماءکا ایک بورڈ تشکیل دیا جائے، جس میں تمام مکاتب فکر کے اعتدال پسند علماءموجود ہوں۔ یہ بورڈ ملک بھر کے علماءاور مذہبی رہنماو¿ں کے لئے ایک ضابطہءاخلاق ترتیب دے۔ اس ضابطہءاخلاقی پر سختی سے عمل کرایا جائے۔ اس قسم کا ضابطہءاخلاق سیاستدانوں کے لئے، میڈیا کے لئے وکلاءکے لئے ، اساتذہ کے لئے ، طلباءکے لئے ، مالک اور مزدور کے لئے اپنے اپنے دائرہ کار میں بنایا اور اپنایا جائے۔ مذہبی انتہا پسندی نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے ڈنگ ٹپاو¿ (وقت گزارو) کی پالیسی پر عمل کر کے باہمی رواداری کی فضاءکو خراب ہوتے ہوئے دیکھا، مگر کچھ نہ کیا۔ اس مسئلے کو کلیدی حیثیت دی جانی چاہئے۔

پوری قوم کو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔ ہر فرد خوفِ خدا سے دور، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے عمل سے گزر رہا ہے۔ مثال ٹی وی چینلوں پر سیاستدان، مذہبی رہنما و¿ں اور بحث میں حصہ لینے والوں کی ہے، جسے ہر شخص دیکھ بھی سکتا ہے اور محسوس بھی کر سکتا ہے۔ شاذ ہی ایسا ہوا ہے کہ کسی نے اپنی غلطی تسلیم کی ہو۔ کیا یہ فرشتوں کی دنیا ہے؟ بس مناظرے، چیلنج اور چرب زبانی سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کر سچ بنانے کی کوشش! ....خوب جان لیجئے کہ قوم کے اندر دیانتداری اور سچائی صرف اُسی وقت آسکتی ہے، جب قوم میں خوفِ خدا اور فکرِ آخرت پیدا کر دی جائے اور ان دونوں چیزوں کا حصول کسی بھی حکومت کا ہدف) نہ پہلے کبھی رہا ہے اور نہ آج ہے۔ ان دونوں اہداف کے حصول کے لئے اگر فنڈز متعین کئے جائیں اور ان کے حق میں مہم چلائی جائے تو یہ گھاٹے کا نہیں، بلکہ نفع کا سودا ہے۔ اس سے قوم کا مورال بلند ہوگا،ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر بھی۔ ہمارا کھویا ہوا وقار پھر بحال ہوگا۔

پوری قوم کو جو درس دینے کی ضرورت ہے، وہ ہے، کام، کام اور بس کام۔ زبان سے بھی اور عمل سے بھی۔ ہماری قوم محنتی ہے، اس کو رہنمائی کی ضرورت ہے، پلاننگ کی ضرورت ہے ، تقسیمِ کار کی ضرورت ہے۔ بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایسے ماہرین تعینات کئے جائیں جو سمال انڈسٹریز کے ذریعے سبھی کو روزگار فراہم کریں۔ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو ہنر مند بنایا جائے اور انہیں ملک کے اندر یا باہر مستقل روزگار فراہم کیا جائے۔ ہمارے ملک کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں کا معیارِ زندگی بہت بلند ہے، جبکہ اکثریت کا بہت ہی پست ہے، اس کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک فرد کے زیرِ استعمال اگر پانچ گاڑیاں ہوں ، اس کی رہائش کے لئے چھ گھر (بنگلے) موجود ہوں اور اس کا بینک بیلنس اربوں ڈالر ہو تو حکومتکو یہ حق حاصل ہے کہ اس سے کہے کہ زائد از ضرورت اپنے دوسرے پاکستانی بھائیوں کو دے دو۔ دنیا میں بھی عزت پاو¿ گے اور آخرت میں اجرِ عظیم۔

قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا کہ زائد از ضرورت خرچ کر ڈالو“۔ کس قدر کنجوسی، شقاوت اور نفس پرستی ہے کہ آپ کے بھائی بند مسلمان اور پاکستانی مجبور اور محروم ہوں اور آپ دولت پر سانپ بن کر بیٹھے ہوں یا عیاشیوں میں مصروف ہوں، حالانکہ یہ دولت آپ کو پاکستان کی معرفت حاصل ہوئی ہے۔ اگر پاکستان عالمِ وجود میں نہ آتا تو ہندو بنیا جس طرح مسلمانوں کا خون چُوس رہا تھا، آپ اس قابل کہاں ہوتے کہ دولت مند کہلاتے۔ انڈیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھ لیں۔ وہ معیشت کے ہر میدان میں پسماندہ اور محروم رکھے گئے ہیں.... اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنی دولت کا منہ ملک و قوم کے لئے کھول دیں۔ پاکستانی عوام کو تعلیم کے ساتھ ہنر مند بنانے کی سنجیدہ کوشش حکومتی انتظام کے تحت ہونی چاہئے تاکہ قوم کو بھکاریوں، دہشت گردوں، بے روزگار ڈاکوو¿ں اور بھتہ خوروں سے نجات دلائی جاسکے۔ ملکی جیلوں میں قیدیوں کو ہنرمند بنانے کا انتظام کیا جائے۔ قوم کو تعمیری سرگرمیوں کا ایک ایجنڈا دے کر اس پر گامزن کر دینا چاہئے۔  ٭

مزید : کالم


loading...