سازشی تھیوریاں جو سچ ثابت ہوئیں (4)

سازشی تھیوریاں جو سچ ثابت ہوئیں (4)
سازشی تھیوریاں جو سچ ثابت ہوئیں (4)

  


                                                 یہ بات کون نہیں جانتا کہ سب سے پہلا ایٹم بم امریکہ نے بنایا اور جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کر کے اسے جنگ عظیم دوم کے خاتمے پر مجبور کر دیا، لیکن خود امریکہ میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جاپان اپنی شکست تسلیم کر چکا تھا، لیکن امریکہ نے ”پرل ہاربر“ کو جواز بنا کر جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کیا۔ ان دو جاپانی شہروں میں امریکی ایٹم بم سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں اب تک کوئی متفق علیہ اعداد و شمار نہیں ہیں۔ اندازوں کے مطابق ہیرو شیما میں ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ 60ہزار تک جاپانی موت کے گھاٹ اتر گئے، جبکہ ناگا ساکی میں 75سے80ہزار کے لگ بھگ لوگ مارے گئے۔ فوری طور پر مرنے والوں کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد کئی ہفتوں تک مرتی رہی۔ کچھ لوگ جنہوں نے اس علاقے سے نکل جانے کی کوشش کی، وہ زیادہ دور تک نہیں جا پائے تھے کہ موت نے انہیں دبوچ لیا۔ اس کے بعد سالہا سال تک ان علاقوں کے قریب رہنے والوں کو طرح طرح کی بیماریاں لگتی رہیں اور وہ ان بیماریوں سے مرتے رہے۔ مردہ اور ناقص الاعضا بچوں کی پیدائش بھی بہت عرصے تک ان علاقوں کا مقدر بنی رہی۔

مین ہٹن پراجیکٹ: امریکی ایٹم بم کی تحقیق و تیاری کو مین ہٹن پراجیکٹ کے کوڈ نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس”نیک“ کام میں امریکہ کے ساتھ برطانیہ اور کینیڈا بھی شریک تھے۔ پہلے پہل اسے مین ہٹن انجینئر ڈسٹرکٹ(MED) کا نام دیا گیا، جبکہ 1942ءسے 1946ءتک امریکی آرمی کی انجینئر کور کی نگرانی میں کام ہوتا رہا۔ جنرل لیسلی آرگووور اس کے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ امریکی ماہر طبیعات جے رابرٹ اوپنہائمیر سائنسی تحقیق کے شعبے کے سربراہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کو خدشہ تھا یا اس خدشے کو جواز بنایا گیا کہ جرمنی جوہری تحقیق اور ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر امریکہ نے چھوٹے پیمانے پر تحقیق کا کام 1939ءسے ہی شروع کر دیا تھا، جو مین ہٹن پراجیکٹ کی صورت میں تکمیل کو پہنچایا۔ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ30ہزار تھی، اخراجات کا تخمینہ دو بلین ڈالر تھا، جسے آج کے حساب سے 22بلین ڈالر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ سارا کام نہایت خفیہ طریقے سے انجام پا رہا تھا اور اس کے لئے مختلف مقامات مختص کئے گئے تھے۔ پورے پورے قصبے تعمیر کئے گئے اور کام کرنے والوں کو سختی سے رازداری کا پابند بنایا گیا تھا۔ حکومت نے کبھی اس کے بارے میں کوئی بات نہیں بتائی۔ ذرائع ابلاغ میں کبھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔ لوگوں کو 25سال بعد اس کے بارے میں علم ہوا۔ برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں30مقامات پر پراجیکٹ کے ذیلی تحقیقی مراکز کام کرتے رہے۔

اب جس جگہ کو ہنفورڈ سائٹ کہا جاتا ہے، یہاں پلوٹونیم کی تیاری ہوتی تھی، ریاست ٹینی سی کے OAK Ridge میں یورینیم افزودہ کیا جاتا تھا اور اب جسے لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کہا جاتا ہے، وہاں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا کام ہوتا تھا۔1947ءمیں اٹامک انرجی کمیشن کے قیام تک اس پر فوجی انجینئر کور کے ادارے Med کو سارا کنٹرول حاصل تھا۔ رقبے،کام کرنے والے لوگوں، اخراجات اور اس کے نتائج کے اعتبار سے یہ دُنیا کی عظیم ترین سازش تھی، جس کا انکشاف چوتھائی صدی کے بعد ہوا۔ ایسبٹس 1930ءسے1960ءتک اس کے تیار کنندگان متوقع ہرجانوں اور مقدمات سے بچنے کے لئے اس کے کینسر کا باعث بننے کے اثرات سے انکار کرتے رہے۔ ایسبٹس کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے 1932ءمیں جانس مینویل کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، لیکن1962ءمیں آ کر خطرناک بیماریوں کے ماہرین نے انکشاف کیا کہ تیار کنندگان روزِ اول سے یہ بات جانتے تھے کہ یہ مادہ کینسر پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے، لیکن لوگوں کو اس کے مضر اثرات کے نتیجے میں تکلیف دہ اموات کی نذر کیا جاتا رہا۔

واٹر گیٹ اسی قسم کی ایک سازش تھی، جب ریپبلکن حکام نے ڈیمو کریٹک نیشنل ہیڈ کوارٹر کی واٹر گیٹ ہوٹل سے جاسوسی کی۔ سازشی تھیوری والے اُس وقت بھی کہہ رہے تھے کہ کچھ ہو رہا ہے، کوئی سازش جاری ہے یا اندر خانے کوئی ڈیل چل رہی ہے، لیکن کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ آخر جس سازش کا آغاز1972ءمیں ہوا تھا، اس کا بھانڈا 1974ءمیں پھوٹا اور ٹیب ریکارڈنگ کا معاملہ سامنے آنے پر صدر نکسن کو ایوان صدر سے رخصت ہونا پڑا۔

ایک ظالمانہ تحقیق: امریکی پبلک ہیلتھ سروس نے 1932ءمیں غریب سیاہ فام امریکیوں پر سفلس کی تحقیق شروع کی۔ اس تحقیق کا نشانہ 400سیاہ فام امریکی بنے، جنہیں بعض اوقات جھوٹ موٹ کی دوائیں دی جاتیں اور بعض اوقات مرض میں اضافے کی دوائیں دی جاتیں تاکہ بیماری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس تحقیق کو صرف چھ ماہ کے لئے شروع کیا گیا تھا، لیکن یہ ظالمانہ سلسلہ40سال تک، یعنی1972ءتک جاری رہا۔ سفلس یا اس سے متعلقہ دیگر اثرات کی وجہ سے کم و بیش 200سیاہ فام امریکی موت کے مُنہ میں چلے گئے۔

آپریشن نارتھ ووڈز: امریکی فوجی لیڈر شپ نے 1960ءمیں ایک منصوبہ تیار کیا، جس کے تحت کیوبا کے خلاف عوامی حمایت حاصل کرنا تھی، تاکہ فیدال کاسترو کے اقتدار کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں امریکی شہروں میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنا، بے گناہ لوگوں اور امریکی فوجیوں کو قتل کرنا، امریکہ کے ایک بحری جہاز کو دھماکے سے اُڑانا، امریکہ میں کیوبا کے تارکین وطن کو قتل کرنا، کشتیوں کے ذریعے کیوبا سے امریکہ پناہ لینے کے لئے آنے والوں کی کشتیوں کو ڈبونا اور جہازوں کی ہائی جیکنگ شامل تھی۔ جوائنٹ چیف آف سٹاف نے سارے گھناﺅنے منصوبے کی منظوری دے دی تھی، لیکن کہا جاتا ہے کہ سول لیڈر شپ نے اس پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا۔ اس منصوبے کو 40سال تک راز میں رکھا....۔ کتاب A Pretext For war نامی کتاب کے مصنف جیمز بیمفرڈ نے اس منصوبے کا ذکر معمول کے مطابق افشا کئے جانے والی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے کیا اور بتایا کہ1962ءمیں سی آئی اے نے کیوبا کے خلاف امریکہ پر جعلی دہشت گردی کے حملوں کا الزام لگا کر کیوبا پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس کے بارے میں اب انٹرنیٹ پر آپریشن نارتھ ووڈ کے نام سے ویڈیو موجود ہے۔

نیّرہ کی گواہی: 1990ءمیں جب امریکہ کی خاموش حمایت سے عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر قبضہ کر لیا تو عراق پر حملہ کرنے کے لئے امریکہ کو کوئی جواز درکار تھا۔ ایک15سالہ کویتی لڑکی نیّرہ نے امریکی کانگریس میں آ کر گواہی دی کہ اُس کی آنکھوں کے سامنے عراقی فوجیوں نے نومولود کویتی بچوں کو انکو بیٹرز سے نکال نکال کر پٹخ دیا اور انہیں مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ اس بیان نے عوام کو گلف کی جنگ میں امریکی شرکت کی حمایت پر آمادہ کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اس وقت بھی اس کہانی پر شبہ ظاہر کیا اور کہا کہ یہ سازشی کہانی ہے، لیکن امریکہ نے اس جوازکو حقیقت مان کر گلف کی جنگ چھیڑ دی۔ بعد میں یہ حقیقت کھل گئی کہ یہ گواہی جھوٹ اور سازش پر مبنی تھی۔ ”سٹیزن فار اے فری کویت“ کے لئے کام کرنے والی پبلک ریلیشنگ کی کمپنی نے یہ ساری داستان گھڑی تھی، بعد میں مزید انکشاف ہوا کہ اس15سالہ لڑکی نیرہ کو سی آئی اے کے کہنے پر باقاعدہ اداکاری کی تربیت دی گئی تھی اور وہ امریکہ میں متعین کویتی سفیر سعود بن ناصر الصباح کی بیٹی نیرہ الصباح تھی۔ کانگرس کے ہیومن رائٹس کے کاکس کے کو چیئرمین کانگریس مین ٹام لانتوس نے اس گواہی کا اہتمام کیا تھا۔ جب حقوق انسانی کے ایک غیر جانبدار ادارے نے اس سلسلے میں ٹام لانتوس سے سوال کیا تو اُس نے کہا کہ کویتی سفارت خانے کی طرف سے لائے جانے والے اس ثبوت کے بارے میں میرے ذہن میں خیال تک نہیں آیا کہ یہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ میرے پاس شک کرنے کی کوئی بنیاد نہیں تھی، جبکہ انسانی حقوق کے ری پبلکن کاکس کے ایک سینئر رہنما جان ایڈورڈ پورٹر کا تبصرہ تھا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ لڑکی سفیر کویت کی بیٹی ہے تو مَیں اسے گواہی دینے کی اجازت ہی نہ دیتا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔  (جاری ہے)

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔) ٭

مزید : کالم


loading...