” کراچی میں امن کی بحالی کی امید

” کراچی میں امن کی بحالی کی امید
” کراچی میں امن کی بحالی کی امید

  


                                    دیر آید درست آید“ کے مصداق موجودہ حکومت نے کراچی میں امن کی بحالی کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلاکر درست سمت میں قدم اٹھایا ہے، جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس میں شرکت کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ کراچی کے حالات پر سب ہی دکھی اور انہیں سدھارنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ البتہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کے اعلامیے سمجھ سے بالا تر تھے ،کیونکہ قبل از وقت ہوکر دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور شرپسند عناصر کو روپوش ہونے کا موقع مل گیا۔ اس کے بجائے اگر اچانک اقدامات اٹھائے جاتے تو بہت بہتر نتائج حاصل کرنا ممکن تھا، بہرحال جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا، لیکن آئندہ کے لئے کچھ محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ کراچی چونکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے لہٰذایہ کئی دہائیوں سے ایک خوفناک اور گھناﺅنی عالمی سازش کی زد میں ہے ،جس کا اندازہ صرف اس بات ہی سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں اب تک نیٹوفورسز کے بالخصوص اسلحہ و بارود سے بھرے ہوئے تقریباً بیس ہزار کنٹینرز غائب ہوچکے ہیں ۔ اصولی طور پر تو نیٹوفورسز کو اپنے سامان کی گمشدگی پر آسمان سر پر اٹھالینا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے اس معاملے پر پُراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ عالمی قوتوں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے اس کی معاشی شہ رگ کو دبا رکھا ہے۔

کراچی کی معاشی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کو حاصل ہونے والے کُل محاصل کا 66فی صد سے زائد حصہ صرف کراچی سے حاصل ہوتا ہے، سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ کراچی میں ہے ،جہاں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوتی ہے، تقریباً تمام بینکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی دفاتر کراچی میں واقع ہیں۔ سب سے بڑی بات کہ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ اور سب سے بڑا ایئرپورٹ کراچی میں ہیں۔ یہاں بہت سے صنعتی زون قائم ہیں جو برآمدات کے حوالے سے بہت فعال کردار ادا کررہے ہیں ۔ کراچی شہر جس قدر صلاحیتوں اور خوبیوں کا حامل ہے، اُن کی بدولت یہ قومی معیشت کو سالانہ دس ارب ڈالر دے سکتا ہے، لیکن شاید یہ پاکستان کے دشمنوں کو گوارا نہیں، چنانچہ انہوں نے کئی دہائیوں سے اسے تختہ مشق بنا رکھا ہے ۔آج بھی قائدِ اعظمؒ کا یہ شہر دہشت گردی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ کبھی بم دھماکے تو کبھی خوش کُش حملے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں روزانہ درجنوں افراد کی ہلاکت تو معمول بن چکی ہے۔

دورئہ پاکستان پر غیرملکی سرمایہ کاروں کی اوّلین ترجیح کراچی ہوتا ہے، لیکن ایسے حالات میں جب روزانہ درجنوں افراد مررہے ہوں، دہشت گرد آزاد اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہوں، ٹی وی چینلز سب سے پہلے خبر کی دوڑ میں سڑکوں پر پڑی لاشیں اور خاک و خون اُڑتا دکھا رہے ہوں، غیرملکی سرمایہ کاروں کا آنا اُسی طرح ناممکن ہے، جس طرح کہ پیدل مریخ پر جانا۔ جو رہی سہی کسر تھی، وہ بھتہ خوروں نے پوری کردی ہے۔ تاجروں کو کھلے عام "جان کی قیمت دس لاکھ روپے " والی پرچیاں موصول ہورہی ہیں۔

جو مطالبہ پورا کردیتے ہیں ،وہ تو ٹھیک، لیکن درجنوں صنعتکار اور تاجر ان بھتہ خوروں کے مطالبات پورے نہ کرنے کی پاداش میں قتل کئے جاچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلاشبہ سینکڑوں صنعتکار اور تاجر اپنے کاروبار بند کرکے ملک کے دیگر حصوں یا پھر بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں ، مزید سینکڑوں ایسا کرنے کا سوچ رہے ہیں، جبکہ بے شمار کاروبار بند کرکے جان بچانے کے لئے گھروں میں بیٹھے ہیں ، کچھ اسی قسم کی صورت حال سے بلوچستان بھی دوچار ہے ۔مختصراً یہ کہ دشمن پاکستان کے متعلق غیرمحفوظ ملک کا تاثر ابھارنے میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے دانشمندانہ قدم نے امید کی شمع روشن کردی ہے اور اب توقع کی جارہی ہے کہ کراچی کے حالات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہوں گے جن کی وجہ سے ساری قوم سخت پریشان ہے۔

کراچی کے حالات درست کرنے میں صرف نرمی کام نہیں دے گی، بلکہ بوقت ضرورت سختی بھی ضروری ہے، بالخصوص اُن لوگوں کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے جو ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور اثر و رسوخ ہونے کے باعث دہشت گردوں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی سیاسی دباﺅ یا کوئی سیاسی وابستگی خاطر میں نہ لائی جائے، دہشت گردوں کو بلا امتیاز پکڑا جائے ، موبائل عدالتیں قائم کی جائیں ،ریکارڈ وقت میں کیس کا فیصلہ کرکے فوراً سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔ گزشتہ چند برسوںکے دوران نیٹو فورسز کے اسلحہ سے بھرے ہزاروں کنٹینر شہر کے اندر غائب ہوجانا کوئی معمولی واقعہ نہیں لہٰذا حکومت کو اس کی انتہائی سختی سے تحقیق کرنی چاہیے کہ یہ کنٹینر کن لوگوں نے غائب کئے؟ کیونکہ جس شہر میں اسلحہ سے بھرے انیس ہزار سے زائد کنٹینرز غائب ہوجائیں اور کوئی صدائے احتجاج تک بلند نہ کرے ،وہاں آخر امن و امان کس طرح قائم ہوسکتا ہے؟

کراچی میں قیام امن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی بھی ایک بہت سنگین مسئلہ ہے لہٰذا حکومت کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ بھاری فنڈز خرچ کرنے کے باوجود یہ ادارے مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کیوں ناکام ہیں ؟ اس کی وجہ چاہے سیاسی دباﺅ ہو یا پھر کرپشن، دونوں کا انتہائی سختی سے سدّباب ہونا چاہیے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بالخصوص سیاسی اثر و رسوخ سے بالکل پاک کیا جائے، کیونکہ اس نحوست نے بیڑہ غرق کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ کراچی میں نو گو ایریاز بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور یقینا دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کی محفوظ پناہ گاہیں بھی یہی علاقے ہوں گے۔ حالات کے پیش نظر کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنا اب ناگزیر ہوگیا ہے ،چاہے وہ رینجرز کرے یا پھر فوج ، اس کے بغیر اب گزارا نہیں۔ پہلے اہداف کا تعین کیا جائے ، اُس کے بعد انتہائی سخت آپریشن ،کیونکہ غیرملکی قوتوں کے آلہ بن کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے سیاستدان، دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز کسی طرح بھی قابلِ معافی نہیں ہیں۔  ٭

مزید : کالم


loading...