میاں جمیل ؒ شرقپوری بھی چل بسے

میاں جمیل ؒ شرقپوری بھی چل بسے
میاں جمیل ؒ شرقپوری بھی چل بسے

  


                                                اللہ اللہ، یقینا اُسی کا نام بڑا ہے اور جو کچھ بھی ہے اُسی کے فضل و کرم سے ہے۔ جمعرات کو شرق پور شریف میں چشم فلک نے جو دیکھا وہ کم کم ہی نظر آیا ہو گا، حد ِ نگاہ سر ہی سر تھے۔ انسانوں کا ایک جم غفیر تھا۔ یہ سب اس بزرگ اور درویش شخصیت کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے آئے تھے، جن سے یہ سب اپنے لئے دُعا کراتے تھے۔ سرنیہو رائے رکھنے اور دھیمی آواز سے بات کرنے والے یہ بزرگ میاں جمیل احمد شرق پوری انتقال کر گئے اور اس فانی جہاں سے عدم کو روانہ ہو کر اُسی خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ،جس کے کرم سے یہ سائیلوں کی حاجت روائی کے لئے عرض گذار ہوتے تھے۔ یہ جم غفیر جسے شمار کرنا غلط ہو گا انہی کے لئے دُعائے مغفرت کرنے کے لئے جمع ہو گیا تھا۔ کراچی سے درہ خیبر تک ملک کے کونے کونے سے عقیدت مند تو آئے، درویش بھی تشریف لائے تھے۔

میاں جمیل احمد شرق پوری ایک بڑی روحانی شخصیت تھے وہ عرصہ ¿ دراز سے دنیا سے منُہ موڑ کر یاد الٰہی میں مصروف اور خلق خدا کی رہنمائی کر رہے تھے، دو چار دہائیاں قبل انہوں نے کچھ عرصے کے لئے دینی جماعت جمعیت العلمائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے کچھ عرصہ سیاست کی کوشش کی، لیکن زیادہ عرصہ نبھا نہ سکے کہ یہ اُن کا مزاج ہی نہیں تھا، وہ تو نشست و برخاست میل ملاپ اور بول چال کے حوالے سے بھی درویش ہی تھے، ہنستے بھی تو دبی دبی ہنسی آتی تھی، کسی سے سخت لہجے میں بات بھی نہیں کرتے تھے، مہمان نواز تھے اور آنے والے کی مناسب عزت کرتے تھے۔ میاں جمیل احمد شرق پوری حضرت شیر محمد ؒ شرق پوری کے سجادہ نشین تھے وہ یوں بھی قرابت داری میں حضرت شیر محمد ؒ کے بھتیجے تھے۔ اُن کی عمر کے بارے میں80اور90کا تضاد ہے۔ بہرحال وہ بزرگ تھے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا علیہ راجعون!

میاں جمیل احمد شرق پوری سے ہمیں بھی فیض ملا اور ان سے کچھ عرصہ ملاقات رہی جو حضرت امین الحسنات خلیل احمد قادری کے توسط سے زیادہ اور اخبار نویس کی حیثیت سے کم تھی، ان کے ساتھ سفر کا بھی اتفاق ہوا، ملتان گئے تو اُن سے عقیدت کا عالم دیکھا، اُن کے اندر کوئی طمع، لالچ، تکبر یا کوئی غرور نہیں تھا۔ بڑے ملنسار اور دُعا کرتے تھے۔ انہوں نے جس دور میں جمعیت العلمائے پاکستان کے ساتھ وابستگی اختیار کی ان دنوں بھی جمعیت تقسیم تھی۔ ایک دھڑا صاحبزادہ فیض الحسن اور دوسرا مولانا عبدالحامد بدایونی کی قیادت میں تھا۔ ہم نے میاں محترم کے توسط اور کوشش سے یہ دھڑے بندی ختم کرانے کی اپنے طور پر بھی کوشش کی۔ یہ ہمارے بزرگ علامہ ابو الحسنات کی یادگار جماعت ہے کہ وہ اس کے بانی تھے تاہم ناکام ہی رہے تھے اور پھر ایک وقت وہ آیا جب میاں جمیل بھی کنارہ کش ہوئے اور پوری طرح روحانیت کی طرف مائل ہو کر شرق پور شریف جا بیٹھے، صرف دین اور روحانیت سے تعلق رہا۔

ہم نے ان بزرگوں کے ساتھ بہت سی روحانی محافل میں شرکت کی۔ ہمیں یاد ہے کہ شیخوپورہ میں سالانہ محفل میلاد تھی، منتظمین کا تعلق مزار شرق پور شریف سے تھا اور وہ میاں جمیل احمد صاحب کے معتقد اور مرید بھی تھے۔ محترم خلیل قادری اور حضرت مجدد الف ثانی کی اولاد میں سے حضرت صدر المشائخ پیر فضل عثمانی کابلی ؒ کے ساتھ ہمیں بھی مدعو کیا گیا۔ بہت بڑی محفل تھی۔ وجد آور سماں تھا، سارے ہی بزرگ شرع متین کی پابندی پر زور ینے والے تھے، اس لئے یہ محفل میلاد آج بھی ہمارے ذہن پر نقش ہے کہ حضور سرور کائنات محمد مصطفیﷺ کی خدمت میں حقیقی معنوں میں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا، شرکاءمحفل کے لئے طعام کا بھی وافر انتظام تھا اور پنڈال والوں کو بھی احترام سے کھانا کھلایا گیا۔ ہمیں بزرگوں کے ساتھ ایک ڈرائنگ روم میں جگہ ملی، ایک طرف حضرت صدر المشائخ اور ہمارے دوسری طرف حضرت امین الحسنات خلیل احمد قادری ؒ تھے ان کے ساتھ شمع ¿ محفل صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرق پوری تھے، دیسی مرغ کا سالن تھا، سارے ہی بزرگ کم خوراک والے تھے۔ میزبان احتراماً ڈونگے بھر بھر کر لاتے، ایک طرف سے حضرت صدر المشائخ اور دوسری طرف سے خلیل صاحب بوٹی اُٹھا کر ہماری پلیٹ میں رکھ دیتے، ہم نہ نہ کرتے رہ جاتے اور پھر اُٹھا کر واپس ڈونگے میں رکھتے، کہ ہم خود بھی زیادہ کھانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ اُدھر سے میاں جمیل احمد صاحب بار بار پوچھ لیتے تھے جس کی وجہ سے میزبانوں کی توجہ بھی رہتی۔ اللہ کے یہ نیک بندے ہم سے پیار کرتے اور شفقت سے پیش آتے۔ ہم بھی اُن کے احترام میں کمی نہیں آنے دیتے تھے اور آج بھی اتنا ہی احترام ہے۔

جو بھی دُنیا میں آیا، اسے واپس تو جانا ہی ہے، لیکن جانے والے حضرت میاں جمیل احمد ایسی ہستیوں میں سے تھے، جن کی ذات برکت کا باعث ہوتی ہے۔ ان سے کسب فیض اور دُعا حاصل کرنے والوں کی تعداد کا اندازہ تو نماز جنازہ کے اجتماع ہی سے ہو جاتا ہے، کسی نے کہا شرق پوری شریف خالی ہو گیا۔ عقیدت مند بولا! فیض جاری رہے گا۔  ٭

مزید : کالم


loading...