طالبان سے مذاکرات: سازشوں پر نظر رکھنے کی ضرورت

طالبان سے مذاکرات: سازشوں پر نظر رکھنے کی ضرورت

                                            تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں حکومت پاکستان سے مذاکرات کی شرائط طے کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔ ادھر کالعدم تنظیم الانصارالاسلام نے حکومت کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کا زبردست خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بھرپور تعاون کے لئے تیار ہے۔ ظاہر ہے یہ ایسی پیش رفت ہے، جس سے وطن دشمن اور اسلام مخالف قوتوں کے سینے میں جلن پیدا ہوجانا لازمی امر ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اجلاس میں حکومت سے مذاکرات کے طریق کار اور دوسرے امور کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اجلاس میں مذاکرات کے لئے حکومت کو بعض شرائط بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس اجلاس کے شمالی وزیرستان کے کسی خفیہ ٹھکانے پر منعقد ہونے کی توقع ہے۔ ان مطالبات میں طالبان کے بعض ساتھیوں کی رہائی،ڈرون حملوں اور آپریشن میں مرنے والوں کے لواحقین کے لئے معاوضہ اور قبائلی علاقوں میں ہونے والے آپریشن کو ختم کرکے فوج کو واپس بلانے کا مطالبہ شامل ہو سکتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسودکی طرف سے کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کے بعد مذاکرات کے لئے اپنے ساتھیوں سے صلاح مشورے جاری ہیں۔ طالبان رہنماﺅں کی اکثریت حکومت اور فوج سے بے جا محاذآرائی کی مخالف ہے۔ وہ مذاکرات کی پیشکش کو اپنے لئے ایک اہم موقع سمجھتے ہیں۔

کل جماعتی کانفرنس کے مدبرانہ فیصلوں کے بعد پاکستان اور اسلامیان عالم کی طاقت اور حربی صلاحیت کے مخالفوں کے علاوہ دوسرے کسی شخص کے لئے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے کو ششوں کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے سب سے اچھا آغاز ہی ان کارروائیوں میں مصروف لوگوں کی شکایات اور مسئلے کی بنیادی وجوہ کے صحیح ادراک کے بعد ناراض اور انتقامی جذبے سے بھرے ہوئے لوگوں کے لئے کشادہ دلی اختیار کرنا ہے، جو لوگ ڈرون حملوں یا فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوجانے والے اپنے اہل خاندان کا انتقام لینے یا افغانستان میں تحادی فوجوں کے خلاف لڑنے والوں سے پاکستان کے تعاون نہ کرنے سے ناراض ہو کر ان کارروائیوں میں مصروف ہوئے انہیں راہ راست پر لانا اور مسلمانوں کا خون بہانے سے باز رکھنا ممکن ہے، لیکن جو لوگ اسلام دشمن طاقتوں سے تربیت حاصل کر کے، ان کے اسلحہ اور وسائل سے اسلامی ملکوں کی دفاعی طاقت کو نقصان پہنچانے اور دفاع کے علاوہ عالم اسلام کو اقتصادی طور پر بھی کمزور کرنے کے لئے میدان میں ہیں، ان کا معاملہ مختلف ہے۔ وہ خود کو جو بھی نام دیں اور جس طرح کے پراپیگنڈے کی آڑ میں بھی پاکستانی عوام اور افواج سے برسرپیکار ہوں ان کو راہ راست پر لانے کا معاملہ ٹیڑھا ہی رہے گا۔ ان کی طرف سے اپنے بہکائے ہوئے ساتھیوں کے سامنے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لئے ہزار عذر پیش کئے جاتے رہیں گے ۔ ایسے لوگ طالبان یا دوسرے ناراض گروہوں کی صفوں میںگھس کر انہیں بھی ناقابل قبول مطالبات کرنے اور ہر ممکن طریقے سے اپنا کام جاری رکھنے پر اُکسا سکتے ہیں۔ ادھر کل جماعتی کانفرنس سے ہمارے اپنے ملک میں بھی ایک طبقے کو بہت پریشانی ہوئی ہے،جو کسی صورت میں طالبان سے صلح نہیں چاہتے۔ ان کی طرف سے بھی مختلف حکومتی حلقوں میں امن کے عمل کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے ایسے ہی لوگوں کے متعلق کہا ہے کہ مذاکرات مخالفین ہمیں ایک بار پھر جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ بااثر طبقے اور قوتیں پاکستانی طالبان سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ اس حوالے سے بہت سے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ 12سال تک طالبان سے جنگ کے بعد ان سے مذاکرات کر رہا ہے تو پاکستان کیوں نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور طالبان دونوں کے لئے ضروری ہے کہ ان سازشوں کوسمجھتے ہوئے معاملات کو سنجیدگی سے آگے بڑھائیں۔انہوں نے کہا کہ امن اور خیر تلاش کرنا کون سا جرم یا گناہ ہے، جس کی مخالفت کی جا رہی ہے؟ داخلہ کا یہ بیان پاکستان کے محب وطن عوام کے دل کی آواز ہے۔ ظاہر ہے کہ ان مذاکرات کے مخالف خواہ وہ پاکستان کے اندر ہیں یا باہر۔ اُن کا اپنا ایجنڈہ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں امن کا قائم ہوجانا عالم اسلام کی ایک بڑی ایٹمی طاقت کا اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑے ہو جانا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ طالبان کی پاکستانی افواج سے محاذآرائی ختم ہو گئی تو وہ عالم اسلام کی اہم عسکری قوتوں سے ایک قوت بن جائیں گے، جن کے سامنے طاغوتی اور سامراجی طاقتوں کا کھڑے رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس سے پہلے بھی ہم بار بار دیکھ چکے ہیں کہ جب بھی طالبان سے مذاکرات کے لئے کوششیں شروع ہوئیں، انہیں کبھی قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کر کے ناکام بنا دیا گیا اور کبھی پاکستان میں مزید دہشت گرد کارروائیاں کر کے غلط فہمیاں پیدا کر دی گئیں۔ دونوں طرف باہمی غلط فہمیاں اور اختلافات دور کر کے ہاتھ ملانے کی خواہش موجود رہی، لیکن دشمن نے غیرت اور وقار کے مسئلے کھڑے کر کے یا مذاکرات کی آڑ میں ایک دوسرے کو زیادہ نقصان پہنچانے کا تاثر پیدا کر کے فریقین میں فاصلے اور بھی بڑھا دیئے۔ اب اگر دونوں طرف سے دشمن کے ان ہتھکنڈوں اور فریقین کی اپنی صفوں میں گھسے ہوئے دشمن ایجنٹوں کی موجودگی کا احساس پیدا ہو چکا ہے تو اس کے بعد مکار دشمن کی ایسی کسی بھی کارروائی سے اسے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع مہیا نہیں کیا جانا چاہئے۔ دونوں طرف سے امن کی طرف آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے، لیکن اس خواہش کے باوجود دشمن اپنی مکاری سے سارے عمل پر حاوی ہو جاتا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔

جیسے کہ وزیر داخلہ نے کہا کہ فریقین کو سازش سمجھنے اور محتاط طریقے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان غیر مشروط طور پر مذاکرات کی پیشکش کر چکی ہے۔ یہ پیشکش بھی اس طرح کی گئی ہے کہ جسے پاکستان کی تمام اہم سیاسی جماعتوں اور افواج پاکستان کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ طالبان کو بھی یہ پیشکش غیر مشروط طور پر قبول کرنی چاہئے، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ ہو تو وہ دور کی جا سکتی ہے، لیکن مذاکرات کی میز پر آنے سے پہلے ہی اڑنے پھنسنے کا رویہ صرف ان طاقتوں کو فائدہ پہنچائے گا جو اب تک مختلف حربوں سے مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون بہانے میں کامیاب چلی آ رہی ہیں۔ غصے اور اشتعال کی حالت میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ اب تک جو کچھ کرتے رہے ہیں اس کا اصل فائدہ کس کو حاصل ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں خود وہ اور ان کے خاندان کیا حاصل کرپائے ہیں؟ کیا پورے عالم اسلام کے مضبوط اور اہم ممالک میں خانہ جنگی شروع کرا کے ان کی بربادی کے راستے ہموار کرنے والی عالمی طاقتوں کے مقاصد اور طریق کار کو ہمارے ناراض لوگ اب بھی سمجھ نہیں پا رہے؟کیا وہ نہیں سمجھ سکتے کہ مسلمانوں کے خلاف مسلمانوں کی اس جنگ میں اکثر لڑنے والوں کے اپنے خاندان اور قبائل کے لوگ ایک دوسرے کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ ہم خود ایک دوسرے کی جاسوسی بھی کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے غداری بھی۔ اسلامی نظام یا اسلامی ممالک کی حکومتوں کو مضبوط ہوتے دیکھ کر ملت دشمن طاقتوں کی طرف سے اسلامی نظام رائج کرنے کے دعویدار جعلی گروہ بھی تخلیق کئے گئے ہیں جو خود میں اسلام کا سب سے زیادہ جوش و جذبہ ظاہر کر کے انتہاء پسندی اور اندھی جذباتیت کو ابھارنے اور ملت کے معاملات کو بگاڑنے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے گروہوں کو نقد اور اسلحہ کی صورت میں دی جانے والی امداد کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کر کے اسلامی ملکوں کی دفاعی طاقت ختم کرنا اور ان پر سامراجی طاقتوں کا تسلط و غلبہ۔ ہمارے ملک میں مغربی ممالک کی این جی اوز کے ذریعے پالے ہوئے ایسے نام نہاد لبرل گروہ بھی موجود ہیں، جنہیں اسلام اور اسلامی نظام کے نام سے چڑ ہے۔ یہ لوگ اسلام کی طاقت بننے کی اہلیت رکھنے والوں سے خدا واسطے کا عناد رکھتے ہیں اور انہیں اپنے مغربی آقاﺅں کی وجہ سے ہماری حکومتی مشینری اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اچھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔ میڈیا میں بھی یہ مغرب پرست طبقہ کسی بھی دوسرے طبقے سے زیادہ با اثر ہے ، اپنا کام ہر موقع پر کئی طریقوں سے دکھا جاتا ہے۔ حکومت اور طالبان کے مجوزہ مذاکرات کو ہمیں لازمی طور پر مسلمانوں کے مسلمانوں سے مذاکرات کے طور پر لینا چاہئے اور اس راستے میں اسلام بیزار پاکستانی طبقے کی چیرہ دستیوں سے ہر حال میں خبردار رہنا چاہئے۔ محتاط رہتے ہوئے اگر خدانخواستہ ہم ان کی سازشوں کو ناکام نہ بنا سکے تو پھر کون سے مذاکرات اور کون سا امن؟

مزید : اداریہ


loading...