کیا الطاف حسین کی ’بادشاہت‘ کا خاتمہ ہونے والا ہے: نیو یارک ٹائمز , برطانوی پریس کے بعد امریکی میڈیا میں بھی ایم کیوایم کے قائد کے خلاف مضمون کی اشاعت

کیا الطاف حسین کی ’بادشاہت‘ کا خاتمہ ہونے والا ہے: نیو یارک ٹائمز , برطانوی ...
کیا الطاف حسین کی ’بادشاہت‘ کا خاتمہ ہونے والا ہے: نیو یارک ٹائمز , برطانوی پریس کے بعد امریکی میڈیا میں بھی ایم کیوایم کے قائد کے خلاف مضمون کی اشاعت

  


 لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دو دہائیوں سے الطاف حسین نے اپنی جماعت کو سیاسی سلطنت کی طرح لندن میں بیٹھ کر شان و شوکت سے چلایا ہے اور قانون کی گرفت سے دور رہے ہیں، وہ برطانیہ سے بیٹھ کر گھنٹوں ٹیلی فونک خطاب کرتے ہیں اور ان کا نیٹ ورک شمالی امریکہ سے جنوبی افریقہ تک پھیلا ہو ا ہے ۔نیو یارک ٹائمز کے حالیہ شائع شدہ مضمون کے مطابق الطاف حسین کا یہ بین الاقوامی نیٹ ورک ان کے لئے کراچی کی ’سیاسی بادشاہت‘ کا انتظام کرتا ہے ۔’فاصلے معنی نہیں رکھتے ‘ یہ عبارت الطاف حسین کے کراچی کے پرانے گھر کے باہر لکھی ہوئی ہے اور وہ لندن سے بیٹھ کر اپنی پارٹی کو پاکستان میں چلاتے ہیں ۔برطانوی پولیس کی جانب سے قتل کے کیس کی تفتیش کے تمام اشارے الطاف حسین اور ان کی پارٹی کی طرف جارہے ہیں ۔ان کے لندن کے گھر اور آفس پر پولیس کی ریڈ ہو چکی ہے اور پولیس نے ان پر منی لانڈرنگ ا ور پاکستان عوام کو تشدد پر اکسانے کی تفتیش بھی شروع کر دی ہے ۔ اس تفتیش نے الطاف حسین کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا تھاکہ اُن کی گرفتاری یقینی ہے ۔ان کی یہ بات کراچی والوں کے لئے ناقابل یقینی تھی اور وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا ان کی ’بادشاہت ‘کا خاتمہ نزدیک ہے۔الطاف حسین 1992ءمیں لند ن چلے گئے تھے جہاں ان کو سیاسی پناہ دی گئی تھی اور 2002ءمیں برطانوی پاسپورٹ عطا ہوا ۔لندن شہر پاکستانی سیاستدانوں کے لئے عارضی قیام گاہ رہا ہے جہاں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے سیاستدان قیام کرتے رہے ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم نواز شریف بھی لندن میں عارضی قیام کر چکے ہیں تاہم الطاف حسین کا بظاہر واپس جانے کا کوئی ارداہ نہیں ہے ۔ الطاف حسین اپنے لندن والے گھر میں بیٹھ کر پر جوش تقریریں اور بعض اوقات گلا پھاڑ کر بھی کراچی کے لوگوں سے خطاب کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو رونے بھی لگتے ہیں اور کبھی گا نا بھی شروع کر دیتے ہیں۔دوسر ی جانب ہزاروں کا مجمع ان کی تصویر سٹیج پر سجا کر ان کی تقریرانہماک سے سنتا ہے ۔ کراچی میں ایم کیو ایم کو پڑھے لکھے نوجوان مردوں اور عورتوں کی حمایت حاصل ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ اندرون خانہ اس سپورٹ اور مینڈیٹ کے پیچھے مسلح گروہ بھی کام کرتے ہیں جو اغوا برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی مخالفوں کے قتل میں ملوث ہیں۔گوہ کہ دوسری سیاسی پارٹیاںبھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن ایم کیو ایم طاقت کے معاملے میں آگے رہتی ہیں ۔اخبار کے مطابق ایک امریکی سفار تخانے نے 2008ءمیں ایک پیغام میں کہاتھا کہ ایم کیو ایم کے 10ہزار فعال گن مین اور 25ہزار ریزرو ’فوج ‘ہے اور یہ تعداد کراچی پولیس سے بھی زیادہ ہے اور یہ بات وکی لیکس میں بھی آچکی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ مغربی ممالک میں یہ پارٹی اپنے آپ کو اسلامی انتہا پسندی کا دشمن کے طور پر پیش کر کے بچتی آئی ہے ۔الطاف حسین کی قسمت کا ستارہ عمران فاروق کے قتل کے بعد گردش میں آگیا ہے۔گو کہ الطاف حسین نے اس قتل کے بعد بہت آہ وزاری کی لیکن جوں جوں پولیس کی تفتیش مکمل ہوتی گئی پولیس کی توجہ ان کی اور ان کی پارٹی کی طرف ہوتی گئی ۔دسمبر 2012ء میں سکاٹ لینڈ یارڈ نے ان کے لندن کے آفس کی تلاشی لی اور جون 2013ءمیں ان کے گھر کی تلاشی لی اور ساتھ ہی ان کے کزن اشتیاق حسین اور ایک اور فرد کو بھی گرفتار کر کے 6لاکھ ڈالر نقد اور جیولری قبضے میں لی ۔ اخبار کے مطابق الطاف حسین نے اپنے سیاسی مخالفوں کو ’بوری‘ کی دھمکی بھی دیتے ہیں ۔الطاف حسین نے گزشتہ کچھ عرصے سے خطاب کرنا بھی کم کر دیا ہے اور افوائیں گردش کر رہی ہیں کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /اہم خبریں


loading...