مذاکرات کے لئے شرائط طے کیں اور نہ ہی شوریٰ کا اجلاس ہوا:ترجمان طالبان

مذاکرات کے لئے شرائط طے کیں اور نہ ہی شوریٰ کا اجلاس ہوا:ترجمان طالبان
مذاکرات کے لئے شرائط طے کیں اور نہ ہی شوریٰ کا اجلاس ہوا:ترجمان طالبان

  


وانا(خصوصی رپورٹ) تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اس خبر کی وضاحت کی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ طالبان شوریٰ نے حکومت سے مذاکرات کے لئے شرائط طے کر لی ہیں، ترجمان کاکہنا ہے کہ شوریٰ کا اس حوالے سے کوئی اجلاس نہیں ہوا ایجنسی ایسوی ایٹڈ پریس آف ایشیا (اے پی اے) نے جمعہ کے روز ایک خبر جاری کی جس میں کہاگیا کہ تحریک طالبان پاکستان نے حکومت سے مذاکرات کےلئے شرائط ظاہر کردی ہیں اور سابق صدرپرویز مشرف کی حوالگی اور سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی رہائی سمیت 4765 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مذاکرات کےلئے شرائط پر مشتمل 35نکاتی ایجنڈا تیار کرلیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق طالبان نے شرائط میں ملک کی مختلف جیلوں میں قید 4765 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ قیدیوں میں عرب، ازبک اور چیچن باشندے بھی شامل ہیں ۔روزنامہ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق خبر ایجنسی نے نجی ٹی وی کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایجنڈا طالبان شوریٰ کے اجلاس میں طے ہوا جس میں ملا عمر کے نمائندے نے بھی شریک ہوئے۔طالبان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی نہ ہونے کی صورت میں جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان نے پاکستان کے سابق صدر پرویزمشرف کو حوالے کرنے کی شرط بھی رکھی ہے۔آئندہ چوبیس گھنٹوں میں جنوبی وزیرستان کے مقام سراروغہ میں حکومتی کمیٹی طالبان کمیٹی سے ملاقات کرے گی، ملاقات میں طالبان کی شرائط حکومتی کمیٹی کے سپرد کی جائیں گی۔نجی ٹی وی کے مطابق طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ ہم حکومتی پیشکش کو صورتحال کے تناظر اور ہر زاویے سے دیکھ رہے ہیں اور جلد فیصلے سے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

مزید : قومی


loading...