برمنگھم میٹروپولیٹن کالج نے مسلمان لڑکیوں کے نقاب کرنے پر پابندی عائد کردی

برمنگھم میٹروپولیٹن کالج نے مسلمان لڑکیوں کے نقاب کرنے پر پابندی عائد کردی
برمنگھم میٹروپولیٹن کالج نے مسلمان لڑکیوں کے نقاب کرنے پر پابندی عائد کردی

  


لندن (بیور ورپورٹ) برمنگھم میٹرو پولیٹن کالج میں مسلمان لڑکیوں کے نقاب کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے، کالج کی پرنسپل ڈیم کرسٹائن بریڈوک کا کہنا ہے کہ کیمپس میں طلبہ کو بآسانی شناخت کے قابل ہونا چاہئے، سیکورٹی کی بنیاد پر مذہبی نقاب اوڑھنے پر پابندی پر برہم مسلمان طلبہ نے کالج کے چیفس پر تنقید کی ہے۔ برمنگھم میٹروپولیٹن کالج کے تمام طلبہ ، عملے کے ارکان اور مہمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چہرے کو ڈھانپنے والی کوئی بھی چیز ہٹا دیں تاکہ ان کی ہر وقت بآسانی شناخت ہوسکے، لیکن نقاب پر اس متنازع پابندی سے بعض مسلمان لڑکیوں میں بے چینی پھیل گئی جن کا کہنا ہے کہ ان کو امتیاز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس پالیسی کا اعلان سیاستدانوں کے درمیان برقعہ پر پابندی کے حوالے سے ہونے والی بحث کے چند دن بعد کیا گیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ فلپ ہولوبون نے جنھوں نے نقاب نہ اتارنے والی اپنے حلقہ انتخاب کی لڑکیوں کو دیکھنے سے انکار کردیا تھا نجی ارکان کے دن یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ یہ بنیادی برطانوی طرز زندگی کے خلاف ہے، برمنگھم کالج کی پالیسی کا انکشاف گزشتہ ہفتہ کالج میں نئے ٹرم کے آغاز پر ایک مسلم طالبہ نے کیا، 17 سالہ برہم طالبہ جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہا کہ یہ انتہائی نفرت انگیز فیصلہ ہے، انھوں نے کہا کہ نقاب پہننا ذاتی فیصلہ ہے اور مجھے اس بات پر بہت ہی حیرت ہوئی اور دھچکہ لگا کہ یہ ممانعت برمنگھم سٹی کے ایک کالج میں کی گئی ہے جبکہ یہ شہر انتہائی کثیرالثقافتی شہر ہے اور اس شہر میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان رہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اس بات نے مجھے بے چین کر دیا ہے کہ ہمیں امتیاز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

مزید : انسانی حقوق


loading...