طالبان سے سنجیدہ مذاکرات کیلئے حکومت حقیقی قوتوں کو آگے رکھے،امریکی ایجنٹوں کی زبان بندکریں: جمعیت اہل حدیث پاکستان

طالبان سے سنجیدہ مذاکرات کیلئے حکومت حقیقی قوتوں کو آگے رکھے،امریکی ایجنٹوں ...
طالبان سے سنجیدہ مذاکرات کیلئے حکومت حقیقی قوتوں کو آگے رکھے،امریکی ایجنٹوں کی زبان بندکریں: جمعیت اہل حدیث پاکستان

  


لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک )جمعیت اہلِ حدیث پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان کا طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا مگر ملک دشمن قوتیں ملکی امن کو ثبوتاژ کرنے اور مذاکرات کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں شروع کر دی ہیں ،حکومت اگر واقعی ملک میں امن قائم کرنے کے لئے سنجیدہ ہے تو پھر موثر اور حقیقی قوتوں کو مذاکرات میں آگے رکھے اور ”میں نہ مانوں “کی ہٹ دھرمی کو ترک کرتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کرے اور امریکہ کے ”پے رول “ پر کام کرنے والے ایجنٹوں اور این جی اوز کے نمائندوں کی ”زبان بندی“ کے احکامات جاری کرے تاکہ ایسی کوئی بھی سازش کامیاب نہ ہو جس سے امن مذاکرات متاثر نہ ہوں ،اِن خیالات کا اِظہار جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے مرکزی راہنماءحافظ خالد شہزاد فاروقی نے مین مارکیٹ گلبرگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اِس موقع پر اُن کے ہمراہ علامہ مولانا اصغر فاروق،مولانا قاری محمد یونس ریحان ،میاں عامر بشیر اور مولانا عبدالوحید سلفی بھی موجود تھے ۔حافظ خالد شہزاد فاروقی نے کہا کہ طالبان راہنماﺅں سے امن مذاکرات کرنا حکومت کی ناکامی نہیں کہلاتا بعض امریکی ایجنٹ اور نام نہاد روشن خیال میڈیا میں حکومت کو معطون کرکے امن مذاکرات سے روکنا چاہتے ہیں تاکہ ”اُن کے گلشن کا کاروبار“چلتا رہے اور ملک دشمن قوتوں کی خواہش کے مطابق ”ملک جلتا “رہے ۔اُنہوں نے کہا کہ امریکی ڈرون حملوں کے خلاف اقوامِ متحدہ جانے کا حکومتی فیصلہ دانشمدانہ نہیں حکومت کو سب سے پہلے امریکہ سے دوٹوک انداز میں بات کرنی چاہئے اور امریکہ کی نام نہاد ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ سے فوری طور پر خود کو باہر نکالنا چاہئے ۔جب تک ہم امریکی کیمپ سے باہر نہیں نکلیں گے اُس وقت تک نہ تو کسی بھی طرح مذاکرات کا کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی ملک میں سے دہشت گردی اور تخریب کا ری کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

مزید : لاہور


loading...