اصولی سیاست

اصولی سیاست
اصولی سیاست

  


پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پیر صابر شاہ نے اصولی سیاست کی جانب ایک قدم مزید بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود کو گورنر یا مشیر بننے کا اہل نہیں سمجھتے ہیں اور نوجوان اور اہل قیادت کو ان عہدوںپر آناچاہیے ۔انہوں نے ساری زندگی اصولوں اور نظریے کی سیاست کی ہے ۔بحیثیت صوبائی صدر وہ اپنی نشست نہیں جیت سکے اور پارٹی کو بھی صوبے میں بہت بڑی کامیابی نہیں دلائی تو پھر میرا کسی غیر منتخب عہدے پر کوئی حق نہیں بنتا ۔مسلم لیگ(ن)نے مجھے بے پناہ عزت دی ہے ماضی میں وزیراعلیٰ بنایا،مشیر بنایا اور صوبائی صدارت دی اب مسلم لیگ(ن)کی خدمت کی بجائے اگر ہم اپنی نوکری کے چکر میں پڑ جائیں تو پھر کارکنوں اور عوام میں اضطراب بڑھ جائے گا۔ کارکنوں اور عوام کے مفادات ہمیں اپنے مفادات سے عزیز ہیں ۔پیر صابر شاہ کے ایک قومی اخبار کو اس انٹرویو کے بعد مسلم لیگ(ن)کے حلقوں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے اخبار کو یہ بھی بتایا کہ اس وقت مجھے لگتا ہے کہ ہم کارکنوں کے مفادات سے زیادہ اپنی اپنی نوکریوںکے چکر میں پڑے ہوئے ہیں اگر ہم اپنی نشست نہیں جیت سکتے اور اپنے دعوﺅں کو پورا نہیں کر سکتے تو میرے خیال سے ہمیں کسی عہدے کا تقاضا نہیں کرنا چاہیے ۔صابر شاہ کے اس بے لاگ انٹرویو کے بعد نہ صرف عوام اور پارٹی میں ان کی عزت بڑھ گئی ہے بلکہ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ ملک میں ایسے سیاستدان بہت کم ہیں جو صرف اصولوں کی سیاست کرتے ہیں کرسی کے پیچھے نہیں بھاگتے اور قیادت کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں ۔حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی تو مسلم لیگ (ن) میں بہت سے لیڈروں نے صوبوں میں گورنر اور مشیر بننے سمیت اہم عہدوں کی کوششیں شروع کر دیں اور قیادت پر دباﺅ بھی ڈالا یہاں تک کہ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے سید غوث علی شاہ کو صدر کے لئے نامزد نہ کرنے پر وہ مسلم لیگ (ن) سے مستعفی ہو گئے ۔ خیبر پی کے میں پارٹی کے اہم عہدیدار گورنر اورمشیر کے عہدے کے حصول کےلئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں اور مختلف طریقے سے قیاد ت کودباﺅ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت میں کوئی عہدہ مل سکے ۔اس تناظر میں پیر صابر شاہ کے اس انٹرویو اور طرز عمل کہ کوئی اہم عہدہ نہ ملنے کے باوجود اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی ناراضگی کا اظہار بھی نہیں کر رہے مسلم لیگ (ن) کے دیگر لیڈروں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے او ر ذاتی مفادات کے حصول کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور کرسی کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں ۔صاحبزادہ پیر صابرشاہ نے ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی ،آمریت کے خاتمے اور عدلیہ کی آزادی کےلئے جو کردار ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔جب پرویز مشرف نے منتخب حکومت پر شب خون مار کر منتخب وزیراعظم محمد نواز شریف کو گرفتار کیا اور اٹک کے قلعے میں قید کر دیا وفادار ساتھیوں نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ہاتھ پربیعت اور پرویز مشرف کی گود میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ۔مشرف کے خلاف بیگم کلثوم نواز صاحبہ نے تحریک شروع کی تو پیر صابر شاہ نے بیگم کلثوم نواز صاحبہ کو خیبرپی کے کے دورے کی دعوت دی اور ان کے گھر حیات آباد پشاور میں مشرف کے خلاف بڑا جلسہ کیا اور بیگم صاحبہ کے سر پر چادر رکھ دی ۔ خیبر پی کے سے پرویز مشرف کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا اور پیر صابر شاہ نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی ہر قسم کی دھمکیوں اور دباﺅ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے قائد کے ساتھ وفاکی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔انہوں نے ہمیشہ مفاد پرستی ،خود غرضی ،ابن الوقتی اور اقتدار کے پجاریوں کی سیاست کو مسترد کیا ان جیسے لیڈر عوام کو بہت کم نصیب ہوتے ہیں ۔پرویز مشرف نے اس وقت چودھریوں اور گورنر خیبرپی کے کے ذریعے پیر صابر شاہ کو بہت سی مراعات دینے کاکہا جو اس وقت عہدوں کےلئے اپنے آپ کو اہل سمجھ رہے تھے اور وہ بیماری کا بہانا بناکر لندن چلے گئے جبکہ بعض چودھریوں اور مشرف کے بھائی بنے ہوئے تھے ۔مہتاب عباسی جیل میں تھے اور پورے پاکستان میں صرف پیر صابر شاہ ایک ایسے بندے تھے جن کو توڑنے کے لئے بہت سی مراعات اور نوازشات کی پیشکشیں کی گئیں ۔لیکن اپنے آباﺅ اجداد کی طرح وہ اس دنیاوی پیشکشوں کے چکر میں نہ آئے اور اس کے بعد انہیں ڈرانے دھمکانے اور جیل بھجوانے کی دھمکیاں دی گئیں لیکن صابر شاہ واقعی صابر نکلے اور انہوں نے پختونوں کی طرح نہ صرف یہ کہ کلثوم نواز صاحبہ کا ساتھ دیا بلکہ محمد نواز شریف کی رہائی کے لئے جماعت اسلامی ،جے یو آئی اور مشرف مخالف ہر پارٹی کے پاس گئے اور یہی صابر شاہ تھے کہ وہ بیگم کلثوم صاحبہ کو ولی باغ لے گئے اور اے این پی کی حمایت بھی حاصل کی لہذا صابر شاہ کی محمد نواز شریف اور مسلم لیگ(ن)کے ساتھ وفا کا تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ خود عہدوں کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے ہیں یہی وہ سچے لوگ ہوتے ہیں اور اسلام کی رو سے بھی یہی لوگ عہدے کے اہل ہوتے ہیں اسی لئے محمدنواز شریف اور مسلم لیگ(ن)کی قیادت کو چاہیے کہ پیر صابر شاہ کو مرکزی حکومت یا صوبے میں ایک ایسا عہدہ دیا جائے جس سے کارکنوں کے مسائل کے حل میں مدد ملے اور اگر صابر شاہ کو بڑا عہدہ دیاگیا تو اس کا فائدہ بھی محمدنواز شریف کے خاندان اور مسلم لیگ(ن)کو ہی ہو گا کیونکہ صابر شاہ کے ساتھ مسلم لیگ(ن)کے کارکنوں کی ملاقاتوں اور ملنے میں بھی آسانی ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو عام کارکن تصور کر تے ہیں اس لئے صابر شاہ عہدے کے اہل ہیں ۔ 

مزید : کالم


loading...