آصف علی زرداری کی باوقار ر خصتی!

آصف علی زرداری کی باوقار ر خصتی!
 آصف علی زرداری کی باوقار ر خصتی!

  


آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنا 5سالہ جمہوری صدر کا عرصہ مکمل کرکے باوقار طریقے سے گارڈ آف آنر لے کر رخصت ہوئے۔ آصف علی زرداری نے اپنا عرصہ صدارت بڑی حکمت و دانائی، ہمت و برداشت سے نبھایا۔ آصف علی زرداری اگرچہ ایک خوفناک حادثے کے نتیجے میں صدارت کے عہدے تک پہنچے۔پاکستان کی تاریخ میں ان سے قبل ماسوائے چند ایک کے ایوانِ صدر کی دیواریں پھلانگ کر اندر آئے اور ذلیل و رسوا ہو کر نکلے، لیکن آصف علی زرداری نے، جو سابقہ 5سال میں ایک متنازعہ شخصیت بنے رہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پُرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنا کر ایک تاریخ رقم کی۔انہوں نے اپنے دور اقتدار میں 1973ءکے آئین کو اصلی شکل میں بحال کروایا۔58ٹو بی کا خاتمہ کیا۔صدارتی اختیارات جو غیر آئینی تھے، پارلیمنٹ کو واپس کئے۔ اتفاق رائے سے این ایف سی ایوارڈ منظور کروایا۔20-19-18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو بہت سے اختیارات سونپے۔گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دلوایا۔فاٹا کو اختیارات واپس کئے، صوبہ سرحد والوں کے مطالبے پر ان کے صوبہ کو خیبرپختونخواکا نام دیا۔یہ ان کے بہت بڑے کارنامے ہیں۔دوسری طرف عوامی مسائل کے حل کی طرف کبھی توجہ نہ دی۔توانائی بحران پہلے سے بہت زیادہ ہوگیا۔ڈرون حملے نہ رک سکے۔کراچی اور بلوچستان لہو میں نہاتے رہے۔دہشت گردی، بدامنی اور لاقانونیت نے ملک کو دیوالیہ کردیا۔لوڈشیڈنگ نے زراعت اور انڈسٹری تباہ و برباد کردی۔سارے اداروں میں اپنے نالائق دوستوں کو بڑی بڑی ذمہ داریاں سونپیں، جس سے تمام ادارے،مثلاً پی آئی اے، ستیل مل، او جی ڈی سی ایل، پی ایس او، ریلوے وغیرہ تباہ ہو گئے۔مہنگائی اور کرپشن نے عوام کاجینا حرام کردیا۔آصف علی زرداری کے ان 5برسوں میں اندرونی و بیرونی قرضہ دوگناہوگےا۔ غیر ملکی سرمایہ کار ان کی کرپشن اور خراب طرز حکمرانی دیکھ کر بھاگ گئے۔ان کے دور اقتدار میں بہرحال امریکی حکومت خوش رہی، کیونکہ انہوں نے امریکیوں کو پرویز مشرف سے بھی زیادہ رعائتیں دیں،جب امریکی خوش تھے تو ان کا کوئی بھی کچھ نہ کر سکا۔ دوسری طرف ملک میں فرینڈلی اپوزیشن تھی، جس نے 2006/07ءسے طے کر رکھا تھا کہ ہم دونوں پارٹیاں، یعنی پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) آپس میں کبھی نہیں الجھیں گی، بلکہ اپنی اپنی باری پر حکومت کریں گی ۔اس این آر او کی سمجھ تو بہت سارے لوگوں کو 2008ءکے الیکشن کے بعد آ گئی تھی،جن کو نہیں آئی تھی، انہیں میاں محمد نوازشریف وزیراعظم پاکستان کی اس تقریر سے آ گئی جو انہوں نے 5ستمبر 2013ءکو وزیراعظم ہاﺅس میں آصف علی زرداری کے اعزاز میں ظہرانے پر کی، جس میں میاں محمد نوازشریف نے آصف علی زرداری کو مدبر سیاست دان کہہ کر پکارا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ لندن، جدہ کی ملاقاتوں کا ذکر کیا،جس کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ میاں صاحب! آپ کا بہت شکریہ،مَیں اب اگلے پانچ سال آپ کی قیادت میں کام کروں گا اور سیاست صرف اس وقت شروع کروں گا،جب اگلے الیکشن کا اعلان ہوگا۔آصف علی زرداری نے میاں صاحب کو اگلے 5سال کے لئے بلینک چےک دے دیا ہے ، لیکن جاتے جاتے آصف علی زرداری نے میاں محمد نوازشریف کو متنبہ کیا کہ میاں صاحب ذرا خیال سے حکومت کرنا، کیونکہ ہمارے پڑوس میں (مڈل ایسٹ) جو آگ لگی ہوئی ہے، اس سے ہوشیار رہیں، کہیں ہم اس کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔شاید آصف علی زرداری کے کہنے کا مطلب تھا، جیسے مڈل ایسٹ میں حالات بدلے ہیں تو اس کا اثر تو وہاں کے حکمرانوں پر ہی پڑا۔ان کے کہنے کا مقصد شاید یہ تھا کہ پاکستان کے حسنی مبارک یا کرنل قذافی تو پھر ہم دونوں ہی ہوں گے۔اللہ کرے ایسا نہ ہو اور میاں محمد نوازشریف کی باری میں ملک اندھیروں سے نکل کر اجالوں میں واپس آئے۔دہشت گردی کے گرداب سے ملک بچ نکلے۔ غربت، جہالت، مہنگائی،لاقانونیت کا خاتمہ ہو، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو جیسا سلوک عوام نے 2013ءکے الیکشن میں پی پی پی کے ساتھ کیا ہے، میرا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے شاید وہ اس سے بھی بُرا کریں گے، جو اب مسلم لیگ(ن) کی قیادت پر منحصر ہے۔آخر میں سبکدوش ہونے والے صدر کے لئے نیک خواہشات کے ساتھ، کیونکہ آصف علی زرداری اکثر فرمایاکرتے ہیں کہ میرے رہنے کی دو ہی جگہیں ہیں۔ ایک صدر یا وزیراعظم ہاﺅس اور دوسری جیل....صدر ہاﺅس میں تو وہ جیسے تیسے 5سال گزار گئے، اب وہ 9ستمبر2013ءسے صدر نہیں رہے۔اب دیکھتے ہیں، ان کی آئندہ قیام گاہ کہاں ہوگی؟    ٭

مزید : کالم


loading...