سازشی تھیوریاں جو سچ ثابت ہوئیں(5)

سازشی تھیوریاں جو سچ ثابت ہوئیں(5)
سازشی تھیوریاں جو سچ ثابت ہوئیں(5)

  


امریکہ اور دنیا بھر میں نائن الیون کے بارے میں شبہات کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسے عراق، افغانستان اور اسلامی دنیا سے جنگ چھیڑنے کا جواز بنایا گیا۔ امریکہ جنگوں کے لئے اس قدر جھوٹے جواز تراشتا ہے کہ نائن الیون کے بارے میں شبہ ہی نہیں، یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ بھی جنگ چھیڑنے کا ایک بہانہ تھا۔ اس سے قبل ویت نام کی جنگ چھیڑنے کے لئے خلیج ٹونکن کا ڈرامہ اسی طرح رچایا گیا تھا۔ خلیج ٹونکن میں امریکہ اور ویت نام کے درمیان بحری جھڑپیں جاری رہتی تھیں، لیکن یہ ایسی ہی تھیں، جیسا کہ دو مخالف ملکوں کی زمینی یا بحری سرحدوں پر عموماً ہوتا رہتا ہے۔2 اگست 1964ءکو دو امریکی جنگی جہازوں کا شمالی ویت نام کی تین تارپیڈو کشتیوں سے سامنا ہوا۔ امریکی جہاز نے ایک تار پیڈو کشتی کو ڈبو دیا۔ امریکی بحریہ نے کہا کہ 4 اگست1964ءکو ویت نام کی گن بوٹس نے امریکی جہازوں پر حملہ کیا۔یہ وہ دور تھا جب صدر جان ایف کینیڈی قتل ہو چکے تھے۔ کانگریس نے اس پر ایک خلیج ٹونکن قرار داد منظور کی، جس کی رُو سے صدر لنڈن بی جانسن کو اختیار دے دیا گیا کہ جنوبی ایشیا کے ہر اُس ملک کو مدد فراہم کر سکتے ہیں، جسے کمیونسٹ جارحیت سے خطرہ لاحق ہو۔ 2005ءمیں انٹرنیشنل سیکیورٹی ایجنسی ہسٹاریکل سٹڈی کی دستاویزات کو افشا کیا گیا تو معلوم ہوا کہ امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس میڈاکس کی 2 اگست1964ءکو تو ویت نامی تارپیڈو کشتیوں سے جھڑپ ہوئی تھی، لیکن6 اگست کو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسی بات نہیں کہ اس جھڑپ کی کہانی مختلف ہے، بلکہ سرے سے کوئی جھڑپ ہوئی ہی نہیں۔ ویت نامی بحریہ اس رات نقصان پہنچنے والی اپنی کشتیوں کو نکالنے اور مرمت وغیرہ کرنے میں مصروف رہی تھی۔ 1965ءمیں صدرجانسن نے ایک نجی محفل میں کہا کہ مَیں جانتا ہوں اُس رات ہماری بحریہ ویل مچھلیوں پر چاند ماری کرتی رہی تھی“۔1981ءمیں ایک صحافی رابرٹ شیئر نے نیوی کے ایک کیپٹن کے ساتھ مل کر ان تاریخوں کی ”لاگ بُک“ دیکھی تو اس میں 4 اگست کی کسی جھڑپ کا کوئی اندراج نہیں تھا۔ ویت نام کے سابق وزیر دفاع دو نیان گیاپ کی سابق امریکی وزیر دفاع میکنا مارا سے ملاقات ہوئی تو ویت نامی وزیر دفاع نے جہاں 2 اگست کی جھڑپ کا اعتراف کیا، 4 اگست کی جھڑپ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اکتوبر2005ءمیں ”نیویارک ٹائمز“ نے ایک رپورٹ دی، جس میں کہا گیا تھا کہ یو ایس نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے لئے کام کرنے والے ایک تاریخ دان کے مطابق نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) نے جان بوجھ کر پالیسی سازوں کو 4 اگست کے بارے میں ایک غلط رپورٹ دی تھی، لیکن شاید اس کے مقاصد سیاسی نہیں تھے، محض دیانت دارانہ انسانی غلطی تھی۔ گویا جان بوجھ کر پالیسی سازوں کو غلط رپورٹ پیش کرنا محض انسانی فہم و فراست کی فروگزاشت تھی۔بزنس پلاٹ....1933ءمیں فرینکلن ڈی روز ویلٹ کا تختہ اُلٹ کر ایک فاشسٹ آمرانہ حکومت قائم کرنے کے لئے چیزبنک کے سربراہ جنرل موئر، گڈائر، سٹینڈرڈ آئل اور ڈیوپاں خاندان نے سینیٹر پریسکاٹ بش کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی۔ پریسکاٹ بُش، ایک صدر بش کے باپ اور دوسرے کے دادا تھے۔ یہ دور امریکہ کی تاریخی مندی کا دور تھا، جس میں بہت سے بزنس مین اس کا سبب جمہوریت کو قرار دیتے تھے۔ مشہور امریکی مو¿رخ کلیٹن کرائمر کا کہنا ہے کہ اسی دور میں کئی امریکی تاجر اور یورپی رو¿سا فاشزم اور نیشنل سوشلزم کی طرف راغب تھے۔ اس سازشی ٹولے نے اپنے مقاصد کے لئے میرین کور کے جس میجر جنرل سمیڈلی بٹلر کا انتخاب کیا، وہ روز ویلٹ کا مداح اور معترف تھا۔ سمیڈلی نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ 1934ءمیں کانگریس کمیٹی کے سامنے سارے سازشیوں نے صاف انکار کر دیا کہ انہوں نے کوئی سازش تیار کی تھی اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، حالانکہ کانگریس (ایوان زیریں) کی میک کورمک ڈکنسٹسائین کمیٹی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سازش کا وجود تھا۔ اس سازش میں ملوث جن بڑے سرمایہ داروں کا نام تھا، جنگ عظیم دوم میں ان کے نازی جرمنی سے تجارتی تعلقات رہے تھے۔ 1934ءمیں میجر جنرل سمیڈلی نے کانگریس کمیٹی کے سامنے سماعت میں اس سازش کا کھلم کھلا اظہار کیا۔ تب عوام تک اس کی خبر پہنچی۔ کانگریس کمیٹی کی حتمی رپورٹ نے میجرجنرل سمیڈلی کے الزام کی تصدیق کی اور کہا کہ ایسا ”پلاٹ“ بنایا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔سی آئی اے کی منشیات فروشی.... پلٹنرر ایوارڈ کے حامل صحافی گیری ویب نے لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اندرونی مخبر، مصنف مائیکل زیبرٹ، سی آئی اے کے لئے ٹھیکے پر کام کرنے والے پائلٹ ٹیری ریڈ اور بہت سے دوسروں کی مدد سے لاس اینجلس میں سی آئی اے کی سرپرستی میں منشیات کی درآمد، لاس اینجلس میں اس کی فروخت اور اس سے حاصل شدہ منافع سے نکارا گوا کے باغیوں کی مدد کی سازش بے نقاب کی۔ 1980ءمیں نکارا گوا سے کریک اور کوکین لا کر لاس اینجلس میں فروخت کی جاتی تھی، جس سے حاصل ہونے والا منافع باغیوں کو پہنچا دیا جاتا تھا۔ گیری ویب کی یہ رپورٹ اگست1996ءمیں سان ہوزے مرکری نیوز میں ڈارک الائنس کے عنوان سے تین قسطوں میں شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کو اس قدر شہرت ملی کہ اخبار کی ویب سائٹ پر ایک روز میں اسے پڑھنے والوں کی تعداد تیرہ لاکھ تھی۔ گیری ویب کا کہنا تھا کہ سی آئی اے خواہ اس گھناو¿نے کاروبار میں براہ راست ملوث نہ بھی ہو، اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ سب کچھ اس کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا۔بی سی سی آئی ....ایک پاکستانی بینکار آغا حسن عابدی نے 1972ءمیں اس کا آغاز کیا۔ اسے لکسمبرگ میں رجسٹر کرایا گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ ترقی کرتا چلا گیا۔ اس کا کاروبار 78 ممالک تک وسعت اختیار کر گیا اور اس کی چار سو شاخیں کام کرنے لگیں۔ اس کے اثاثے بیس بلین سے تجاوز کر گئے۔ 1980ءمیں امریکی کسٹم سروس نے اس کی جاسوسی شروع کر دی جو دو سال تک جاری رہی اور شواہد حاصل کئے جاتے رہے۔ ڈراپ سین کے لئے ایک جھوٹ موٹ کی شادی کی دعوت کا اہتمام کیا گیا، جس میں بی سی سی آئی کے افسروں کے علاوہ دُنیا بھر سے منشیات کے سمگلروں نے شرکت کی، جنہوں نے خفیہ ایجنٹ رابرٹ ماذر کے ساتھ ذاتی اور کاروباری تعلقات استوار کر لئے تھے....ٹیمپا میں مقدمے کا آغاز ہوا تو بینک کے اکثر افسروں نے اعترافِ جرم کر لیا۔ بینک کے غیر قانونی کاروبار کی طرف توجہ اس طرح مبذول ہوئی تھی کہ 1980ءمیں بینک نے بینکنگ کی ریگولیٹری اتھارٹی سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ایران کانترا سکینڈل....ایک طرف، جب کانگریس نے نکارا گوا کے باغیوں کو امداد دینے کی اجازت نہ دی تو سی آئی اے نے اس کے لئے متبادل راستہ نکالا۔ اسرائیلی ہتھیار ایران کو بیچ کر ان سے حاصل ہونے والی رقم نکارا گوا کے باغیوں کو پہنچائی گئی۔ 1985-86ءمیں وائٹ ہاو¿س نے بھی سرکاری حکام کو خفیہ طور پر یہ اجازت دے رکھی تھی کہ وہ اسرائیلی ہتھیار ایران کو فراہم کرنے میں معاونت کریں۔ اس کے بدلے ایران میں امریکی یرغمالیوں کو چھڑانے کی سودے بازی کی گئی۔ 1987ءمیں یہ معاملہ بھی کانگریس کےذریعے سامنے آیا۔ ایک فوجی کرنل اوینل پر سارا ملبہ ڈال کر اُسے سزا دے دی گئی اور معاملہ ختم ہوگیا....سازشیں صرف امریکہ میں ہی نہیں ہوتیں، دوسرے ملکوں میں بھی ہوتی رہیں، لیکن امریکہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کی سازش ساری دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔ہٹلر کے قتل کی سازش.... ہٹلر کو قتل کرنے کی کوئی بیس بار کوشش کی گئی تھی، لیکن یہ کوشش ذرا دوسری طرح کی تھی۔ اس میں ہٹلر کے نہایت معتمد اور اندرونی حلقے کے اعلیٰ ترین سو کے قریب لوگ شامل تھے۔ جنگ عظیم میں جب نازی جرمنی کے لئے حالات ناسازگار ہونے لگے تو غالباً نازی افسروں نے ضمیر کی آواز پر یا کسی دوسری وجہ سے ہٹلر سے گلو خلاصی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ کرنل ہیننگ وون ٹریسکاو¿ نے کرنل کلوس وون سٹیفنبرگ کو سازش کی تکمیل کے لئے بھرتی کیا۔ یہ 1944ءکی بات ہے۔ ہٹلر اور اس کے قریبی ساتھیوں کے خاتمے کو Operation Valkyrie کا نام دیا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہٹلر اور اُس کے ساتھیوں کو ٹھکانے لگا کر حکومت کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور پوری جرمنی پر تسلط قائم کر لیا جائے گا۔ ہٹلر کے قتل کا الزام اُس کے خصوصی حفاظتی دستوں پر لگ جائے گا۔ یہ سازش قریب قریب کامیاب ہو چلی تھی۔ جولائی 1944ءمیں سٹیفن برگ کو ترقی مل گئی، اب اُس کے لئے مواقع پیدا ہوگئے کہ وہ ہٹلر سے آمنے سامنے ملاقات کر سکتا تھا۔ سٹیفن برگ نے اس مقصد کے لئے اپنے بریف کیس میں بم رکھا ہوا تھا۔ اُسے کئی بار ایسا موقع ملا کہ وہ ہٹلر کو نشانہ بنا سکتا تھا، لیکن وہ ہٹلر کے ساتھ اُس کے دو قریبی ساتھیوں ہرمین گوئرنگ اور ہیزک ہملر کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ بالآخر اُس نے ہٹلر کے کانفرنس روم میں ریموٹ کنٹرول سے اس بم کا دھماکہ کر دیا۔ ہٹلر کو معمولی زخم آئے، مگر وہ بچ گیا۔ آپریشن اینجلس.... ایران میں1951ءمیں محمد مصدق کو وزارت عظمیٰ ملی تو اس نے 1906ءکے آئین کے تحت دئیے گئے شاہ ایران کے اختیارات کم کر دئیے۔ سوشل سیکیورٹی،بے روزگاری الاو¿نس، کارخانہ مزدوروں کے لئے اصلاحات کیں، برطانیہ اور ایران کی شرکت سے ایرانی تیل کی کمپنی اینگلو ایرانین آئل کمپنی میں برطانیہ اور ایران کا برابر حصہ تھا۔ برطانیہ تو اپنا حصہ لے جاتا تھا، لیکن ایران کے آدھے حصے میں کئی طرح کی اڑچنیں پیدا کی جاتی تھیں۔ وزیراعظم محمد مصدق نے اس تیل کمپنی کو قومی تحویل میں لے لیا۔ برطانیہ کے لئے یہ صورت حال قابل قبول نہیں تھی۔ اگرچہ محمد مصدق کو امریکہ کا حامی سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کے بعد اس کی اصلاحات کو کمیونزم کے نفاذ کا نام دیا گیا۔ برطانیہ نے اس سلسلے میں امریکہ سے مدد طلب کی۔ برطانیہ کی جاسوسی ایجنسی ایم 16 اور سی آئی اے نے مل کر سازش تیار کی اور امریکہ نے امریکی صدر روز ویلٹ کے بھتیجے اور سی آئی اے کے لئے خدمات انجام دینے والے کرمت روز ویلٹ کو ایران بھیجا، جس نے امریکی سفارت خانے میں سازش تیار کی اور وزیراعظم محمد مصدق کے خلاف بغاوت کرا کے شہنشاہ کو دوبارہ مطلق العنان بنا دیا۔مصدق کو پہلے قید، پھر گھر میں نظر بند کر دیا، جہاں وہ مرنے تک نظر بند رہا، حتیٰ کہ اس کی لاش بھی گھر کے اندر دفن کی گئی۔ ایرانی عوام نے جب 1979ءمیں شاہ کو ایک انقلاب کے ذریعے تخت سے اتار دیا تو امریکی سفارت خانے کے اس عملے کو بھی یرغمال بنا لیا، جس نے محمد مصدق کے خلاف بغاوت کی سازش رچائی تھی۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی سی آئی اے کی دستاویزات سے یہ بات پایہءثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے محمد مصدق کے خلاف بغاوت کرائی تھی۔ سازشوں اور اُن کے بارے میں سازشی تھیوریوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ اگر مَیں ان تینتیس، چونتیس سازشوں کا تفصیلی ذکر کروں تو یہ سلسلہ جانے کب تک چلے، اس لئے تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں اور اتنا سمجھ لیں کہ سب کی سب سازشی تھیوریاں محض توہمات یا بے اصل نہیں ہوتیں۔ اگرچہ یہ تھیوریاں ہی تو ہوتی ہیں، جن کی ہر تھیوری کی طرح کسی ٹھوس سچائی پر بنیاد نہیں ہوتی، لیکن یہ اُن لوگوں کی پیش کردہ ہوتی ہیں جو ان معاملات میں خصوصی تجربہ رکھتے ہیں اور انہیں ایسے معاملات کی سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ یہ ہوائی قلعے تعمیر نہیں کرتے۔ ان کے پاس بگ بینگ اور ڈارون کی تھیوری سے زیادہ بہتر اور ٹھوس معلومات ہوتی ہیں اور بعض اوقات انہیں اندر کی خبریں دینے والے بھی موجود ہوتے ہیں، جن کا نام نہیں لیا جاسکتا، لیکن اس سے حقائق تبدیل نہیںہوتے۔ (ختم شد)       ٭

مزید : کالم


loading...