بقدر آگہی غم زندگی کا (آخری قسط)

بقدر آگہی غم زندگی کا (آخری قسط)
 بقدر آگہی غم زندگی کا (آخری قسط)

  


احمد فراز کی یہ بات کبھی نہیں بھولتی کہ وہ شاہد نصیر سے ملنے کئی سال بعد پشاور سے واہ پہنچے تو میزبان نے بغل گیر ہونے کی بجائے بڑی سادگی سے اتنا کہا ’ آ بھئی فراز ، کیہہ حال اے‘ ۔ اکثر لوگوں کو دو گہرے دوستوں کے درمیان ملاقات کے اس پیرائے کا یقین ہی نہیں آئے گا یا پھر اسے نفسیاتی کھچاﺅ سے تعبیر کر کے یہ نکتہ ابھارنے کی کوشش کی جائے گی کہ دوسرے شہر سے اچانک آنے والے مہمان کے استقبال کے لئے جو انداز اختیار کیا گیا ، اس سے گرم جوشی کا اظہار نہیں ہوتا ۔ پھر بھی شاہد نصیر کی موجودگی میں احمد فراز نے بھرے مجمع میں جب یہ قصہ سنایا تو صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ پرانی یادوں کا لطف تو لے رہے ہیں مگر خود انہیں اپنے دوست کی بے اعتنائی پہ کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی تھی ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ ہماری نو عمری تک سماجی معانقوں کا رواج ذرا تھا ہی کم ۔ دوسرے ، نئے دور کی وہ پروٹوکول بغل گیری تو بالکل ناپید تھی جس میں جپھہ کار پہلے تو فل تپاک کے ساتھ جپھہ الیہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر کوئی تین انچ کے فاصلے پہ لا کر یکدم روک دیتا ہے ، جیسے کہنا چاہے کہ اس سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ۔ جس کسی کو بھی جدید عہد میں وسطی پنجاب کے سیاستدانوں کا یہ تپاک سہنا پڑا وہ سمجھ چکا ہے کہ ان میں سے کس کس کی طبقاتی یا طبی احتیاط نے ہمارے علاقہ میں ’جٹ جپھہ‘ کے کلاسیکل مفہوم کو تبدیل کر دیا ہے ۔ شاہد نصیر تو سوشل انجنئیرنگ کے آدمی ہی نہیں تھے کہ تعلقات کی دکان سجا کر سودا بیچنے کی کوشش کرتے ، اس لئے شو کیس میں وہی مال رکھا جو اندر گودام میں بند تھا ۔ جو لے اس کا بھلا ، جو نہ لے اس کا بھی بھلا!اس تخلیقی گودام کے چکر ان دنوں زیادہ تواتر سے لگنے لگے جب میں ایم اے انگریزی کرتے کرتے لاہور سے گورڈن کالج راولپنڈی پہنچ گیا ، یعنی وہی کالج ’جس کے مہکے ہوئے پیڑوں کی شناسا باہیں ۔۔۔ آنکھ کے سبز دریچے پہ کھلا کرتی تھیں‘ ۔ ہر روز فوجی تیر کے نشان والی بس میں واہ سے روانگی ، شیکسپیئر اور کرسٹوفر مارلو کے بہانے فرانسس زیوئر کی کلاس میں بلھے شاہ ، میاں محمد بخش اور غالب و اقبال سے چھیڑ چھاڑ اور سجاد شیخ نام کے ادبی کمپیوٹر میں ہارڈی ، ڈکنز اور جین آسٹن کا الگ الگ سافٹ وئیر ڈالنے ، نکالنے کے مزے ۔ فرصت ہوتے ہی مکس چائے والا شبنم ہوٹل ، چار آنے میں کیفے زم زم کے پسندیدہ نغمے یا قیصر ہوٹل، جہاں دور کی ایک میز پر شخصیت ساز استاد نصر اللہ ملک سے یہ سن کر ’درد لادوا پایا‘ کہ بیٹا ، آپ کی باتیں بہت دلچسپ ہیں ، اگر اجازت ہو تو آپ کے پاس بیٹھ جاﺅں ۔ یہ تو ہوئی صبح کی مصروفیت ، مگر دن ڈھلتے ہی بارہا یہ ہوا کہ ہم عمر دوستوں میں سے زمان ملک ، امانت ندیم ، شاہد مسعود اور خرم قادر کے ساتھ جو ’مکالمات افلاطوں‘ شروع ہوئے تو کچھ خبر نہیں کہ واپسی کی بس کب چھوٹی اور پھر ویگن پکڑنے کے لئے کالج سے صدر تک کس نے یہ سوچا کہ ’کوئی بھی ہم سفر نہ تھا شریک منزل جنوں‘ ۔ مگر لٹریچر کی تھیوری کے بعد پر یکٹکل تو شام کو خواجہ شاہد نصیر کی لیبارٹری میں ہوتا ، جنہیں اب ہم غیر موجودگی میں خواجہ صاحب کہنے لگے تھے ۔ ہفتہ میں تین ، چار دن ضرور آتے جب میں پانچ بجے کے قریب اس دروازے پہ دستک دے رہا ہوتا ، جس کے لئے موصوف نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ:دم نگاہ تو بس آپ ہی نظر آئےنظر ہٹی تو کئی حادثے ابھر آئےدیار یار کی ویرانیاں گواہ رہیں ہم ان کے بعد بھی اس سمت بیشتر آئےدستک کا جواب ہمیشہ ایک ہی انداز میں ملا ۔۔۔ میرے سلام کے ساتھ ہی ’السلام علیکم ، حضور‘ ۔ لہجے میں ہلکی سی پنجابیت مگر امرتسریوں والی ، جس کی غنائیت میں میری امی کی عینک والی تائی اور بیڈن روڈ والے خالو غلام حسین کی آوازوں کی سی اپنائیت محسوس ہوتی ، جس سے لگے کہ بات ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ۔ ساتھ ہی روز مرہ میں معمولی سا خوشگوار فرق ، جیسے ’ہے گا‘ کو فعل ماضی میں بدلتے ہوئے ’سی گا‘ اور ’اس لئے‘ کی جگہ ’ایس کرکے‘ ۔ دروازہ کھولتے ہوئے چاچا جی شاہد نصیر کے چہرے پہ شادابی کی جو لہر آتی ، اس میں صرف چہرا نہیں ، شخصیت مسکرا رہی ہوتی ۔ آغاز اسی ایک جملہ سے کہ ’اپنی چاچی نوں کہوو چاءبنائے‘ اور میرا رخ باورچی خانہ کی طرف ہوتے ہی خالہ جی کی مخصوص ہنسی سنائی دیتی’ ’میں نے پانی رکھ دیا ہے۔“ اس کارروائی میں کسی مصنوعی تپاک کا کوئی شائبہ نہ ہوتا ۔ بس غالب کے ’ میٹھے ہوں اور بہت ہوں ‘ کی طرح چائے کے گرم اور بہت تیز ہونے کی شرط تھی ، مگر دودھ گاڑھا ہوتا کہ مشروب کی کثافت اضافی کم نہ ہونے پائے ۔ ہر تین چار گھونٹ کے بعد بیکری کے گول بسکٹ جو میزبان تو ایک کی بجائے دو دو بھگو کر ایک ساتھ اٹھاتا مگر کبھی پلیٹ آگے بڑھا کر عام لوگوں کی طرح مہمان پہ زور نہ ڈالا کہ بھئی ، تم بھی تو لو ۔ یہ ’انڈرسٹوڈ‘ تھا کہ جتنی مقدار میں چاہو ، کھا لو ۔ اس عمل میں عارضی سا وقفہ اس وقت آتا جب بھیگا ہوا بسکٹ چائے کی پیالی سے منہ تک پہنچتے پہنچتے یک لخت چاچا جی کی قمیض پہ گر جاتا اور میرے لئے قہقہہ کو دبانا مشکل ہو جاتا ۔ اس پہ بڑی سادہ دلی سے کہتے کہ تمہیں کالج کی کوئی بات یاد آ رہی ہو گی ۔ایسے موقعوں پہ مجھے کالج سے زیادہ اپنے والد محترم کی اس تشویش کا خیال آنے لگتا کہ شاعری کے چکر میں تمہارا وقت ضائع ہو رہا ہے ، اس لئے اور لڑکے جب چار سے ساڑھے پانچ بجے تک ہاکی کھیلتے ہیں ، تم بھی اس دوران شعر کہہ لیا کرو ۔ اب کون کس کو سمجھاتا کہ ناصر کاظمی کے بقول ، شاعری فل ٹائم کام ہے ، میر تقی میر صبح سویرے کوئی دفتر تھوڑی جایا کرتے تھے ۔ پھر بھی جب میری غیر حاضریاں بڑھنے لگتیں تو والد ہی کے دفتر سے پیغام ملتا کہ شاہد سے کہنا ’چاچا بہت یاد کرتا ہے‘ ۔ چنانچہ شاہد نصیر کی بیشتر پرانی غزلیں سنیں تو ابا بھی شریک محفل تھے : پھول کتنے ہیں مگر صاحب خوشبو کتنےدیکھنا یہ ہے کہ گوہر ہوئے آنسو کتنےجسم مقصود نہیں رزم گہ ہستی میںدیکھ نیزے کی انی پر ہیں ترازو کتنےبس کہ ہر آنکھ میں غم ملتے ہیںجانے کن لوگوں سے ہم ملتے ہیںدل کہاں ، رقص گہ ہستی میںصرف اے دوست ، قدم ملتے ہیں آپ ہی تو نہیں مگر دل میںایک تصویر آپ کی سی ہےاب کہاں بے قراریاں دل کی  اب تو دھڑکن بھی واجبی سی ہےآخری دو شعر وہ ہیں جن پہ ایبٹ آباد کے ایک مشاعرہ میں اپنے وقت کے مقبول ترین شاعر جگر مراد آبادی نہ صرف چونکے بلکہ اگلی صبح اپنے ہوٹل میں بلوا کر یہ پوری غزل دوبارہ سنی ۔ یہ کہانی سناتے ہوئے مجھے اپنی اس کوتاہی کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے کہ چلیں ، شاہد نصیر تو باتونی آدمی نہیں تھے ، میں ہی کچھ اور واقعات کی تفصیل جمع کر لیتا ۔ جیسے یہی کہ آپ نے فرسٹ ائر میں فیض احمد فیض سے انگریزی پڑھی مگر وہ اس سے پہلے نویں جماعت میں آپ کے کلاس ٹیچر تھے ۔۔۔ تو کیا اس زمانہ کے ایم اے او کالج امرتسر میں سیکنڈری لیول کی کلاسیں بھی تھیں ؟ نہ یہ سوچا کہ ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر ، صاحبزادہ محمود الظفر یا ڈاکٹررشید جہاں کے بارے میں کچھ پوچھ لوں ۔ ہاں ، یہ پتا ہے کہ لڑکوں کے مطالبہ پر فیض نے کلاس میں ’مجھ سے پہلی سی محبت‘ والی نظم سنائی تو ان کی پلکیں نم تھیں ۔ پلکوں کی یہ نمی اتوار 2 ستمبر 1973 ءکی صبح کو مجھ تک پہنچی تو اس کے پیچھے نہ تو فیض کے دل کا گداز تھا نہ احساس جمال کی وہ شدت جس کی گواہی دینے کے لئے شاہد نصیر استاد کا یہ مصرعہ انہی کے انداز میں پڑھا کرتے ۔۔۔ ’رخ محبوب کے سیال تصور کی طرح‘ اور پھر فرماتے ’سیال تصور‘ ۔۔۔ یہ تو فیض ہی کہہ سکتا ہے ، اور میں سوچنے لگتا کہ ’مہرباں چاندنی کا دست جمیل‘ کی طرح یہ ’سیال تصور‘ بھی ہماری اردو کو انگریز رومانوی شعراءکے کس قدر قریب لے جاتا ہے ۔ پر چاچا جی کی اچانک رحلت پر میرا صدمہ ذرا اور نوعیت کا تھا ۔ ایک تو بظاہر صحت کا مسئلہ ان کا نہیں بلکہ کم سن بیٹی نورین کا تھا جس کی صحت یابی کی ناکام کوشش جاری تھی ۔ مگر نہیں ، میری پلکوں کی نمی کے پیچھے ایک وعدہ خلافی بھی ہے ۔ جمعرات 30 اگست کی شام جب خالہ جی نورین کے ساتھ ہسپتال داخل تھیں تو چاچا جی سے میری ملاقات میں دو اہم باتیں ہوئیں ۔ ایک تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے پکائے قیمہ چاول کھانے کی دعوت دی جسے میں نے چائے کے کامیاب مطالبہ میں بدل دیا ۔ دوسرے یہ طے ہوا کہ ہفتہ کی شام ہم دونوں کتابیں نکلوانے کے لئے آرڈننس لائیبریری چلیں گے ۔ اب ہفتہ کے دن کی سٹوری یہ ہے کہ کالج سے نکل کر اسلام آباد کی برٹش کونسل سے ہوتے ہوئے میں راولپنڈی صدر میں حیدر روڈ والے ڈرگ سٹور کے ساتھ ڈریم ہاﺅس میں جا بیٹھا ، جہاں انہوں نے دو آدمیوں کے اٹھارہ روپے تو لئے ، لیکن قہوے میں الائچی ، املتاس اور منقے کی سبیل لگا دی ۔ یوں لائبریری کے وعدہ کو میں قہوے کی خوشبو سمجھ کے پی گیا ۔ اگلی صبح جب شاہد نصیر کو ہسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ حرکت قلب بند ہوئے اڑھائی تین گھنٹے ہو چکے ہیں ۔ ساتھ کے کمرے میں خالہ جی کی بڑی بہن موجود رہیں جو نورین کی عیادت کے لئے رات گئے سیالکوٹ سے واہ پہنچی تھیں ۔ پر زیر مطالعہ ناول ’موبی ڈک‘ کے اندر اس شکستہ عبارت والی پرچی کا راز لوگوں پہ نہ کھلا کہ مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہئے ہیں ، مگر مرد کے بغیر بھی حوصلہ مند مائیں بچوں کی تربیت سمجھداری سے کرتی ہیں ۔ باہمت ماں نے شوہر کی آخری آرزو بڑے وقار اور جرات سے پوری کی ، لیکن اس دو سطری تحریر کو دیکھتے ہی میں تو سمجھ گیا تھا کہ دل کی تکلیف محسوس کر کے بھی مہمانوں کا غیر روایتی استقبال کرنے والے شاہد نصیر نے یہی سوچا کہ ’ چنگا بھئی فراز ، ہن چلئے‘ ۔  اسی شام ، میں نے بیس سال کی عمر میں پہلی بار کسی میت کو کندھا دیتے ہوئے شاہد نصیر کی ’نظر آئے ، ابھر آئے‘ والی زمین میں ایک غزل شروع کی تھی ، جو ان کی چالیسویں برسی پہ بھی مکمل نہیں ہو سکی: ہمیں بھی اس کے مکینوں کی کچھ خبر آئےوہ شہر جس سے مسافر نہ لوٹ کر آئے

مزید : کالم


loading...