کے پی کے کی پولیس اور حقائق

کے پی کے کی پولیس اور حقائق
 کے پی کے کی پولیس اور حقائق
کیپشن: sahbaz

  


کے پی کے کی پولیس کے حوالہ سے وہاں کے آئی جی نے ایک دلچسپ رپورٹ دی ہے۔ ان کی رپورٹ قائد تحریک انصاف عمران خان کے دعوؤں کے برعکس ہے۔

عمران خان کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کے پی کے میں پولیس کو سیدھا کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے تھانہ کلچر بدل دیا ہے۔ کے پی کے کی پولیس اب رشوت نہیں لیتی۔ کوئی تعیناتی سفارش پر نہیں ہوتی۔ سب کچھ میرٹ پر ہے۔

دوسری طرف آئی جی کے پی کے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تحریک انصاف کی حکومت نے ریزرو پولیس میں 378 غیر قانونی بھرتیاں کی ہیں۔ اس ضمن میں آئی جی کے پی کے ڈپٹی کمانڈر ریزرو پولیس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے لیکن دھرنوں کی وجہ سے کے پی کے کی حکومت مصروف ہے۔ کے پی کے کے دھرنے اور پولیس کو اگر اکٹھا کیا جائے۔ تو شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

رفتہ رفتہ ہر پولیس والے کو شاعر کر دیا

محفل شعر و سخن میں بھیج کر سرکار نے

اک قیدی صبح کو پھانسی لٹکا کر مر گیا

رات بھر غزلیں سنائیں اسکو تھانیدار نے

اسلام آباد کے دھرنوں نے وہاں موجود اسلام آباد اور پنجاب پولیس کو بھی شاعر کر دیا ہے، وہ بھی رقص و سرود کی محفلوں سے خوب لطف و اندوز ہوتے ہیں تاہم اب انکی سیرو تفریح کے فنڈز بھی سرکار کے پاس ختم ہو گئے ہیں ۔

شائد اسی وجہ سے حکومت نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ ان گرفتاریوں کی وجہ سے نہ ختم ہونے والے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو گئے ہیں بالآخر بات پولیس پر آ کر ہی ختم ہوئی ہے۔

پولیس ہی سرکار کے سرکار ہونے کا واحد ثبوت ہے۔

پولیس جاگ گئی تو سرکار بھاگ گئی۔

پولیس نے ظلم کیا تو سرکار ظالم۔

پولیس نااہل تو سرکار نااہل

پولیس کرپٹ تو سرکار کرپٹ۔

پولیس بدتمیز تو سرکار بدتمیز۔

غرض کہ پولیس سرکار کا چہرہ ہے۔ اس لئے جب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنی گزشتہ دور حکومت کے آخر میں اپنی کامیابیاں بیان کررہے تھے تو بندہ ناچیز نے ان سے ان کی سب سے بڑی ناکامی پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں تھانہ کلچر تبدیل نہیں کر سکا۔

پولیس اور تھانہ کلچر انصاف کی پہلی دہلیز ہے۔ اگر حکومت پولیس کو ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو جائے تو انصاف کے حوالہ سے عوام کو درپیش مشکلات میں کم از کم نصف کمی تو ضرور ممکن ہو جائے گی۔

ایک عمر کے قیدی پولیس والے نے پیشہ پولیس کے حوالہ سے چند اشعار کہے ہیں جو لکھنے کو دل کر رہا ہے۔

تیرا ثبات سلامت دل پولیس پیشہ

نہ کر مجھے تو ملامت دل پولیس پیشہ

سفر میں ہوں میں ترے ساتھ ایک مدت سے

ہے اور کتنی مسافت دل پولیس پیشہ

فضا میں پھیلتا جاتا ہے نفرتوں کا غبار

جہاد مہر و محبت دل پولیس پیشہ

کسی کے سامنے کیوں چپ سادھ لی تو نے

کہاں گئی تری وحشت دل پولیس پیشہ

بہار نے تو تجھے اپنا کام سونپ دیا

اب آگے تیری طریقت دل پولیس پیشہ

سانحہ ماڈل ٹاؤن نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی کرنے کے عمل کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔

پنجاب میں پولیس میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، لیکن اس سے کوئی انقلابی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

سندھ پولیس میں خرید وفروخت کے چکر میں کئی آئی جی اپنی تقرریاں کھو بیٹھے ہیں۔ اس خرید و فروخت کے چرچہ تو زبان زدعام رہے۔ پاکستان میں گڈگورننس کاخواب تب تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک پولیس کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا۔

صرف پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیوں سے پولیس ٹھیک نہیں ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ پولیس کو غیر سیاسی کیا جائے۔

تاہم اگر پولیس غیر سیاسی ہو گئی تو سیاستدان کیا کریں گے۔ عمران خان کو بھی خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر کے پی کے میں پولیس کو ٹھیک کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

اسی طرح سندھ میں بھی امن و امان کے مسائل تب تک حل نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنی پولیس کو ٹھیک نہیں کرتے۔

بالخصوص کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور دیگر مسائل سے نبٹنے کے لئے پولیس کو غیر سیاسی کرنا ہوگا۔ اتنے سالوں میں رینجربھی کراچی میں وہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی ہے پنجاب میں بھی پولیس کو غیر سیاسی کرنا ہوگا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایماندارانہ تحقیقات میاں شہباز شریف کو کمزور نہیں مضبوط کریں گی اور انہیں بلاخوف اس میں ملوث پولیس والوں کو سزا دینی چاہئے۔

مزید :

کالم -