حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر عمل کرے

حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر عمل کرے
حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر عمل کرے

  

لاہور کی مال روڈ پر تین دن سے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دینے والے کاشتکاروں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی اس یقین دہانی پر کہ ان کے تمام مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔ پاکستان کسان اتحاد نے اپنا احتجاج ختم کردیا، لیکن ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو پورا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا گیاتو وہ دہ ہفتے کے بعددوبارہ سڑکوں پر آجائیں گے۔زراعت ہماری قومی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اگر کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کو مناسب مالی و سائل اور ضروری تربیت فراہم کی جائے اور انہیں پیداوار بڑھانے کے لئے اعلیٰ کوالٹی بیج،کھادیں اور مناسب نرخوں پر بجلی و پانی مہیا کرنے کا بندوبست کیا جائے تو اپنی انہی زمینوں سے فی ایکڑ اتنی پیداوار حاصل کرسکتے ہیں کہ نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرسکتے ہیں بلکہ فاضل اجناس کو برآمد کر کے قوم و ملک کے لئے بھاری زرمبادلہ کما سکتے ہیں،لیکن ہمارے ملک میں آنیوالے صنعت دوست حکمران اور ان کی حمایتی بیورو کریسی نے اکثر و بیشتر ایسی پالیسیاں مرتب کی ہیں جن سے ہماری سونا اگلنے والی زمینیں بنجر اور کسان بددل ہو کر اس پیشہ کو خیر باد کہنے پر مجبو ر ہو رہے ہیں۔مشرقی پنجاب کی زمینیں پاکستانی پنجاب کی زمینوں کے مقابلے میں زیادہ زرخیز نہیں،لیکن وہاں کسانوں کو دی جانے والی مراعات نے بھارتی کسانوں کی حالت ہی بدل د ی ہے اگر ہمارے ہاں بھی کسانوں کو اسی نوع کی مراعات دی جائیں تو پاکستان میں بھی کاشتکاروں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔اگر چھوٹے کاشتکاروں کی پیداوار اور ٹریڈنگ کا رپوریشن آف پاکستان اورپاسکو فوری طور پر خریدنے کا بندوبست کریں اور وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت انہیں وعدوں کے مطابق کھادوں میں 15ارب اور 20ارب کی زر تلافی دے دے تو مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے۔

لمحہ فکر بات یہ ہے کہ پنجاب کے طاقتور شوگر ملزمالکان پر کاشت کاروں کے اربوں روپے ابھی تک واجب الادا ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گنے کے کاشتکاروں کو شکایات حل کرانے کی یقین دہانی کرائی، شوگر ملز مالکان گزشتہ کرشنگ سیزن کے دوران خریدے گئے گنے کے ساڑھے چار ارب اداکرنے کا ارادہ نہیں رکھتے پنجاب کی کل 45شوگر ملز میں صرف 19نے کسانوں کوادائیگی کی، جبکہ24پر کاشتکاروں کے اب بھی بقایاجات ہیں ایک شوگر مل بند ہو چکی ہے، جبکہ دوسری شوگر ملوں نے گزشتہ سیزن میں چینی نہیں بنائی تھی۔ملکی معیشت کی ترقی کی سیڑھی بالترتیب ایسے ہے ۔ (1)زراعت یعنی زرعی پیداوارجن میں چاول، گندم، گنا، کپاس، پھل، سبزیاں،دالیں،اور لایؤسٹاک شعبہ سے حاصل پیداوار ملوں،فیکٹریوں ،کارخانوں میں جاتی ہیں۔ (2)صنعت زرعی پیداوار سے مختلف فو ڈآئیٹمز اور دیگر اشیا تیار ہوتی

ہیں۔(3)تجارت۔سب سے آخر میں ان اشیا کی اندرون وبیرون ملک ایکسپورٹ سے ملک کو زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔اس وقت 5لاکھ ٹن کے قریب چاول گوداموں پر پڑا گل سڑ رہا ہے۔سرمایہ داروں ،صنعتکاروں کارخانہ داروں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگلے چاول کی فصل 2سے ڈھائی ماہ میں آنے والی ہے۔ پچھلا چاول ہی نہیں فروخت ہوگاتو اگلے سیزن میں چاول کے کاشت کاروں کا اللہ ہی حافظ ہے حکومت ہو ش کے ناخن لے اورٹی سی پی کو کہے کہ وہ چاول خریدے، تاکہ چاول ایکسپورٹ ہو سکے اور آئندہ کے لئے چاول کے کاشتکاروں کو فصل کا بہتر معاوضہ مل سکے۔کسان راج تحریک کے چیئر مین و کسان بورڈ پنجاب کے جنرل سیکرٹری ارسلان خان خاکوانی کی قیادت میں چاول ،گنا،کپاس کے ہزاروں کاشتکاروں نے مال روڈفیصل چوک پر دھرنا دیا ان کا یہی مطالبہ تھا کہ چاول سپر مونجی کی سپورٹ پرائس 2500روپے من،کپاس پھٹی 4000روپے من گنا کی 250روپے من قیمت مقرر کی جاے دیکھاجائے تو ان کے یہ جائز مطالبات ہیں۔

مزید :

کالم -