9/11 حملوں کے دوران لوگوں کو بچانے والے ریسکیو اہلکار آج کس حال میں ہیں اور اس ایک واقعہ کی وجہ سے کس بیماری میں مبتلا ہوگئے؟ جان کر آپ بھی کانپ اُٹھیں گے کیونکہ۔۔۔

9/11 حملوں کے دوران لوگوں کو بچانے والے ریسکیو اہلکار آج کس حال میں ہیں اور اس ...
9/11 حملوں کے دوران لوگوں کو بچانے والے ریسکیو اہلکار آج کس حال میں ہیں اور اس ایک واقعہ کی وجہ سے کس بیماری میں مبتلا ہوگئے؟ جان کر آپ بھی کانپ اُٹھیں گے کیونکہ۔۔۔

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی شہر نیویارک میں ہونے والے سانحہ نائن الیون کے بعد کئی مہینوں تک ملبے تلے دبی لاشوں کی تلاش کا کام جاری رہا۔ اس تلاش میں حاضر سروس فوج کے ساتھ کچھ ریٹائرڈ امریکی فوجیوں نے بھی حصہ لیا۔ دوبارہ وردی پہننے والے ان ریٹائرڈ فوجیوں کی اس ٹیم کو ’ٹیم رومیو‘ کا نام دیا گیا تھا جس کی سربراہی لیفٹیننٹ ریٹائرڈ انتھونی زیولی نے کی تھی۔ اس ٹیم نے سب سے طویل، 9ماہ تک،تلاش کا کام کیا اور اس کے بعد اس ٹیم کے ارکان اور دیگر ریسکیوورکرز کے ساتھ جوگزری اور گزر رہی ہے، انتھونی زیولی نے پہلی بار بیان کر دی ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق انتھونی زیولی نے ’رائزنگ فرام دی ایشز‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ”ٹیم رومیو کے اراکین نے لاپتہ اور ہلاک شدگان کی تلاش کے اس کام میں طویل عرصہ گزارا، ملبے میں جہازوں کا تیل، پارہ، خطرناک معدنی مادہ اسبسطوس اور دیگر انتہائی زہریلے مادے موجود تھے جو سانس کے ساتھ ہماری ٹیم کے جسم میں داخل ہوتے رہے۔ بعد ازاں ٹیم کے تمام اراکین ان زہریلے مادوں کی وجہ سے طرح طرح کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو گئے اورآج تک ان سے لڑ رہے ہیں۔ ان بیماریوں کے باعث بعض ارکان کی موت بھی واقع ہو چکی ہے۔“

9/11 حملوں کے 16 برس بعد ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے گرنے کی ایک ایسی ویڈیو سامنے آگئی کہ ساری کہانی ہی جھوٹ ہوگئی کیونکہ اس ویڈیو میں۔۔۔

کتاب میں انتھونی نے مزید بتایا ہے کہ ”ٹیم رومیو کے اراکین کو کینسر، پھیپھڑوں اور نظام انہضام کے امراض اور دیگر کئی بیماریوں کا سامنا ہے۔ ہم نے وہاں جس طرح کے حالات دیکھے ان کے باعث اراکین کی ذہنی و نفسیاتی صحت بھی شدید متاثر ہوئی اور کئی اراکین اب تک بے خوابی، ڈپریشن اور شدید نفسیاتی بگاڑ جیسے عارضوں کا بھی شکار ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق 66سالہ انتھونی کو بھی 2008ءمیں جلد کے کینسر کی بیماری لاحق ہوگئی۔ اس کے علاوہ اسے بے خوابی اور ڈسفیزیا جیسی ذہنی بیماری کا بھی سامنا ہے جس سے انسان کے بولنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔مہلک کیمیکلز جسم میں جانے کے باعث اسے نظام انہضام سمیت کئی اور عارضے بھی لاحق ہیں اور اب تک اس کے وزن میں 10کلوگرام کی کمی واقع ہو چکی ہے۔انتھونی کا کہنا ہے کہ ”ہم ملبے تلے دبے لوگوں میں سے زیادہ سے زیادہ کی جانیں بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ شروع کے چند ہفتے ہم گھر بھی نہیں گئے، دن رات کام کرتے اور کچھ وقت کے لیے وہیں سو جاتے تھے۔ اکتوبر کے آخر میں ہم دوتین گھنٹے کے لیے گھر جا کر سونے لگے۔ یہ ہمارا فرض تھا جو ہمیں سرانجام دینا تھا لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ کام بعد میں ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔ بعد میں ہماری پوری ٹیم مہلک بیماریوں کا شکار ہوگئی۔ بعض کی موت واقع ہو چکی ہے اور باقی سب بھی اسی راستے پر ہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -