’گیدڑ سنگھی‘ کا لفظ تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن گیدڑ سنگھی دراصل کیا ہوتی ہے اور یہ لفظ کیسے ایجاد ہوا؟ حقیقت جان کر آپ واقعی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائیں گے

’گیدڑ سنگھی‘ کا لفظ تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن گیدڑ سنگھی دراصل کیا ہوتی ہے ...
’گیدڑ سنگھی‘ کا لفظ تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن گیدڑ سنگھی دراصل کیا ہوتی ہے اور یہ لفظ کیسے ایجاد ہوا؟ حقیقت جان کر آپ واقعی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائیں گے

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ آپ نے ’گیدڑ سنگھی‘ کے بارے میں نہ سنا ہو۔ یہ چیز عام طور پر جادو ٹونے اور عملیات کا دھندہ کرنے والوں کے پاس پائی جاتی ہے،جو عموماً اسے بہت مہنگے داموں ان لوگوں کو بیچتے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ گیدڑ سنگھی واقعی قسمت بدل دینے والی چیز ہے ۔ گیدڑ سنگھی دراصل کس بلا کا نام ہے، اور اس کا یہ نام کیسے پڑا، یہ جان کر آپ واقعی حیران رہ جائیں گے۔ 

ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گیدڑ سنگھی اس آبلے کو کہا جاتا ہے جو گیدڑ کے سر پر نمودار ہوتاہے۔ چونکہ یہ گیدڑ کے سرپر ایک ننھے سینگ جیسا نظر آتا ہے لہٰذا کسی نے اسے گیدڑ سنگھی کا نام دے ڈالا۔ آبلہ نمودار ہونے کے کچھ عرصے بعد اس پر بال نکلنے لگتے ہیں اور یہ جسامت میں بڑھنے لگتا ہے۔ ایک خاص حد تک بڑھنے کے بعد یہ گیدڑ کے سر سے علیحد ہوکر نیچے گرجاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ گیدڑ کے سر سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی یہ آبلہ زندہ حالت میں ہوتا ہے اور اس پر موجود بالوں کی بھی نشوونما جاری رہتی ہے۔ گیدڑ سنگھی بیچنے والے عموماً دعوٰی کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شب و روز جنگلوں بیابانوں میں گزار کر اسے ڈھونڈا ہے، لیکن شاید آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایسی چیز کو ڈھونڈنا، اگر یہ واقعی کوئی وجود رکھتی ہے، کس حد تک ممکن ہو سکتا ہے۔

گیدڑ سنگھی، یا جس چیز کو گیدڑ سنگھی کا نام دیا جاتا ہے، کو شیندھور میں رکھا جاتا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ شیندھور میں نہ رکھا جائے تو جلد ہی اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گیدڑ سنگھی نر بھی ہوتی ہے اور مادہ بھی۔اسے جادوٹونے میں استعمال کیا جاتا ہے، اور اسے اپنے پاس رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ان کی تقدیر بدل جائے گی۔ اب ایسے خیالات و عقائد رکھنے والوں کی رائے کو کس حد تک درست اور دانشمندانہ قرار دیا جا سکتا ہے، اس کا فیصلہ آپ خود کر لیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -