محلے کا روہنگیا !

محلے کا روہنگیا !
 محلے کا روہنگیا !

  



میانمار کے روہنگیا مسلمان دہائیوں سے دنیا کی مظلوم ترین اقلیت ہیں، مگر کسی ملک کو ان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔

سوشل میڈیا پر خوفناک تصاویر اور ویڈیوزکی گردش اور شراکت شروع ہوئی تو ریڈیائی میڈیا بھی متوجہ ہوا اور کچھ حکومتیں بھی۔ اب سول سوسائٹی اورمذہبی تنظیمیں بھی مظلوموں کی حمایت میں باہر نکل آئی ہیں۔کچھ نیوز چینلز کے لوگ بھی مظالم کی کوریج کرنے برما پہنچ گئے ہیں ،اللہ کریم ان کی حفاظت فرمائے اور نیک مقاصد میں کامیاب کرے۔

برما جسے اب میانمارکہا جاتا ہے ،کی شمال مغربی ریاست رخائن یا اراکان میں روہنگیا مسلمان صدیوں سے آباد ہیں۔ ساڑھے تین سو سال ان کی حکومت بھی رہی، مگر1824ء سے 1948ء تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے کے دوران قومیتوں کے مابین نفرت پیدا کی گئی۔ انگریز سے آزادی کے بعدبرماکی کسی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم نہیں کیا ۔انہیں غیرملکی قرار دے کر ان پر تعلیم ،صحت اور روزگار کے دروازے بند رکھے۔

وہ غربت میں کسمپرسی کی زندگی گزارتے رہے ۔رخائن میں ان کی تعدادبارہ سے پندرہ لاکھ جبکہ دوسرے ملکوں میں پناہ گزینوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے زائد ہے ۔میانمارکے مظالم سے جان بچا کر روہنگیا بنگلہ دیش بھاگتے ہیں تو اس کی باردڈر سیکیورٹی فورس انہیں داخل نہیں ہونے دیتی،یوں یہ دو ملکوں میں پِس رہے ہیں ۔ رخائن میں 2012 ء سے ان پر پرتشدد حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ان حملوں میں ہزاروں مسلمان شہید ہوچکے ہیں ،جبکہ چار لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ان کی بڑی تعداد آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہی ہے،کئی کشتیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، انہیں وسیع پیمانے پر تشدد اور زیادتی کانشانہ بنایا جارہا ہے ،مگر میانمار کی نوبل ایوارڈیافتہ سربراہ آنگ سان سُوچی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔

آگے بڑھنے سے پہلے ،منظر تھوڑا وسیع کرتے ہیں اور ایک مختلف تناظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،پھر واپس مسلمانوں کی دل دہلا دینے والی صورت حال پر آئیں گے۔ ہمارے دوست ملک چین اور میانمار کے تاریخی اور قریبی تعلقات ہیں،ان کی تیرہ سو کلو میٹر طویل مشترکہ سرحدہے ۔چین وہاں کئی اقتصادی منصوبے چلا رہا ہے جن میں 63صرف پن بجلی کے ہیں۔ پاکستان کے سی پیک کی طرز پروہاں بھی ایک طویل روڈ بن رہا ہے ۔پانچ کروڑ آبادی والے ملک میں چین کی سرمایہ کاری 20ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔چین کے لئے وہ بہت اہم ملک ہے۔ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے چین کے مفادات فطری ہیں، مگر کیاامریکہ کے بھی وہاں مفادات ہیں ؟امریکی نیشنل بیورو آف ایشین ریسرچ ،نیشنل انٹرسٹ،سینٹر فارسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز جیسے ادارے عرصہ دراز سے میانمار کے پراجیکٹ پرانہماک سے کام کررہے تھے۔

جن کے مطابق چین کا گھیراؤ کرنے میں میانمار ایک اہم ملک بن سکتا ہے، جس کی بھارت کے ساتھ سولہ سو کلومیٹر طویل سرحدملتی ہے۔ بھارت پہلے ہی امریکہ کے قریب ہوچکا ہے اورچین دشمنی کے عزائم بھی مشترکہ ہیں۔اس وقت امریکہ ہمیں آنکھیں دکھارہا ہے اور ہم چین کے اور بھی قریب ہورہے ہیں۔سفارتی محاذ پر چین دنیا کے سامنے ہمارا دفاع کررہا ہے ۔ اس بڑے منظر کو بھی مدنظر رکھیں۔

اب آتے ہیں روہنگیا مسلمانوں کی طرف ،بڑے کرب ناک مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں ۔ کٹی پھٹی لاشیں، انسانی اعضا کے ٹکڑے ،بچوں کے جلے کٹے جسم، ظلم کا شکارہونے والی عورتوں کی تشدد زدہ بالکل برہنہ لاشیں،ہر کسی میں ان کو دیکھنے کی تاب نہیں،روح کانپ جاتی ہے ۔کھٹکتا ہوا سوال یہ ہے کہ درندگی کی یہ تصاویر اورویڈیوزکون اپ لوڈ کررہا ہے ؟کیا میانمار کے فوجی یا بدھ بھکشو اپنے مظالم کی عکس بندی کرکے اپ لوڈ کررہے ہیں یا ظلم کا شکار ہونے والے چھپ چھپ کر ویڈیوز بنارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کررہے ہیں؟ برمی وحشت کا شکار ہوتی مسلمان عورتوں کو برہنہ دکھانے اور پھر لاکھوں لوگوں تک شیئر کرنے والوں کے کیا عزائم ہو سکتے ہیں ؟ مسلمان عورتوں کو جانوروں کی طرح ذبح کرنے کی ویڈیوز برمی بدھ دکھارہے ہیں یاخود مسلمان ؟پاکستان اور افغانستان میں دہشت گرد فوجیوں کے گلے کاٹتے ویڈیوز بناتے تو پیغام دیتے تھے،دہشت پھیلانے کے لئے؟ وہاں یہ سب کچھ کون کررہا ہے یا کرا رہا ہے ؟

کہا جاسکتا ہے کہ ان تصاویر اور ویڈیوزکی طوفانی گردش کے بعد ہی دنیا کے دارالحکومت اس طرف متوجہ ہوئے ہیں اور امدادی تنظیمیں حرکت میں آئی ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی دنیا بھرکے مظلوم مسلمانوں کا درد محسوس کرتے ہیں اور مذہبی تنظیمیں ہمارے درد کی آواز بنتی اورسڑکوں پر نکل کر اظہار کرتی ہیں،مگر دل شکن بات یہ ہے کہ مسلمان ملکوں کے اندر مسلمانوں کے ہاتھوں مرنے اور کٹنے والوں پر آنسو بہانے والا کوئی نہیں۔ اتنے مسلمان شائد دشمنوں کی گولیوں سے نہیں مرے جتنے خود مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

مفلوک الحال روہنگیا کی ویڈیوز طوفانی گردش میں ہیں، مگر ایسے ہی بے سروسامان افغان بھی ہیں، امریکی بمباری کے بعدوہاں کیا تباہی آئی ،ان کے بچوں کے ساتھ کیا ہوا ،کوئی ویڈیو بنانے اور دکھانے والا نہیں۔اسی طرح شام میں عالمی طاقتوں نے کیا مظالم ڈھائے،ایسی ویڈیوز نہیں آئیں:کوئی سمجھے بھی !

جذبات کے طوفان میں سوچ کر سمجھنے کی بات کرنا ’’قومی کاز‘‘ سے ہوا نکالنا ،بلکہ دشمن کی زبان بولنا سمجھا جاتا ہے ۔ ہمارے لئے ایشو صرف جذباتی ابھار تک ہے،جذبات کی جھاگ بیٹھتے ہی ہر طرف ٹھنڈ۔ لیکن جذبات میں ہوا بھرنے والوں کا اپنا کام ہے اور سوچنے کے سوال اٹھانے والوں کا اپنا ۔سوچنے کی بات ہے کہ جس دین کی بنیاد پر ہم ہزاروں کلومیٹر دور مسلمان بھائی کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں ،اس دین کی بنیاد پر ہم اپنی بستی کے مسلمان کے دکھ کو محسوس کیوں نہیں کرتے؟ناانصافی کے نظام میں بیٹھ کر دنیا بھر کے مظالم پر لعن طعن کرنے کی منطق سمجھ نہیں آتی ۔قریب کے مظلوموں سے بے نیاز ہوکر دور درازکے مظلوموں کے لئے انصاف کا پر چم اٹھانا ہمارے مزاج اور مذہبی سیاست کا حصہ بن گیا ہے۔شائد اس لئے کہ اس میں عافیت بھی ہے اور جذباتی تسکین بھی۔دینی فریضہ ادا ہوجاتا ہے ،غم و غصے کا غبار نکل جاتا ہے اورکسی پر زد بھی نہیں پڑتی،سب کچھ جوں کا توں رہتا ہے ۔ہم سالہاسال سے یہ سب کچھ کرتے آرہے ہیں، مگر کچھ نہیں بدلتا،اس طرح کچھ بدل ہی نہیں سکتا۔

برما کے روہنگیامسلمانوں کے لئے آواز ضرور اٹھائیں ،دنیا بھرکے مظلوم مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کریں، مگراپنے آس پاس کے رینگتے نیم مردہ انسانوں کی طرف بھی ہمدردی سے توجہ دیں۔ اللہ کے ہاں ہماری ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو ہم سے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں: ہمارے تعلق دار اور رشتہ دار۔ان سے ہمارا رویہ کیا رہا اور کیسا تعلق رہا،اس پر پوچھ اور پکڑہوگی۔ ان سے بے نیاز ہوکر ساری دنیا کے مظلوموں کی حمایت ہمیں پکڑ سے نہیں بچا سکے گی ۔ آپ اپنے محلے کے روہنگیا کے لئے اندھی بہری آنگ سان سُوچی ہیں یا زندہ احساس والا طیب اردوان ؟

مزید : کالم