ورلڈ الیون:’’ آپ آئے بہارآئی‘‘

ورلڈ الیون:’’ آپ آئے بہارآئی‘‘
 ورلڈ الیون:’’ آپ آئے بہارآئی‘‘

  

پاکستان کرکٹ بورڈ سابق کرکٹ سٹارز اور آئی سی سی کی مشترکہ کاوشوں سے الحمدللہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا دروازہ کھل گیا ہے۔

سات ملکوں سے وابستہ سٹار کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون نے پاک سرزمین پر قدم رکھا تو اہلِ پاکستان نے انہیں چشم ما روشن دل ماشاد کے طور پر ویلکم کیا ہر طبقے کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی،ورلڈ الیون کے کپتان ڈوپلیسی نے اہلِ پاکستان کے جوش و جذبے اوران کی ٹیم کے لئے نیک تمناؤں کے اظہار کو عالمی میڈیا کے سامنے سراہا، پاکستان نے عالمی کرکٹ سے وابستہ ٹورنامنٹ ورلڈ کپ، چمپئن ٹرافی،T20ورلڈ کپ ایشیا کپ جیسے ٹائٹل جیتنے کے اعزاز اپنے نام کر رکھے ہیں اور کرکٹ کھیل سے پاکستانیوں کا جنون وابستہ ہے بدقسمتی سے 2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے۔پی سی بی کواس ضمن میں اربوں ڈالرکا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔پاکستان کے دشمن تویہی چاہتے تھے کہ پاک سرزمین پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے ہمیشہ کے لئے بندہوجائیں اورماضی میں وہ آئی سی سی اوردیگر فورمز پر عملی اقدام بھی کر چکے ہیں، لیکن کریڈت دینا چاہیے ملکی قومی سلامتی کے اداروں کو جنہوں نے پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال کو بہتر بنایا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ داران نے آئی سی سی اور دُنیائے کرکٹ سے تعلق رکھنے والے ممالک کو Convince کیا کہ پاکستان محفوظ مُلک ہے۔سات ممالک کے دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں نے اپنی پاکستان آمد کو یادگار لمحہ قرار دے کر پاکستان کی عزت میں اضافہ کیا ہے،جس پر اہلِ پاکستان ان کے بے حدممنون ہیں۔ ورلڈ الیون کھلاڑیوں کی آمد سے قبل حکومت نے بے مثال استقبال، اعلیٰ ترین انتظامات،فول پروف سیکیورٹی، اس ٹورنامنٹ کو جاذب نظر بنانے کے لئے تمام انتظامی اداروں کو ہدایات جاری کیں ۔کمشنر لاہور ڈویژن محمد عبداللہ خان سنبل،سی سی پی او امین وینس،پی ایچ اے انتظامیہ ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سیدنے ایونٹ کوکامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی۔ کمشنرلاہور محمد عبداللہ خان سنبل بذات خودبھی کرکٹ کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں،وہ غالباًلاہور جمخانہ کرکٹ کلب کی طرف سے کرکٹ بھی کھیلتے ہیں ۔

انہوں نے اس ایونٹ کوبہترین انتظامات ترتیب دے کر دن رات ایک کر دی،جس پر وہ اور ان کی پوری ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے بھی قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان پہلا T20میچ دیکھا ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میچز کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کریں گے نہ صرف کراچی،بلکہ فاٹا میں بھی کرکٹ میچز کا انعقاد کروائیں گے۔اس سے عوام کے حوصلے اور بلند ہو گئے ہیں اور فاٹا کے عوام خوشی سے جھوم اٹھے ہیں۔

دنیائے کرکٹ کے عظیم آل راؤنڈر وسیم اکرم، آئی سی سی کے سابق چیف ایگزیکٹو ظہیر عباس،شاہد آفریدی، وقار یونس سمیت دیگر سٹارز بھی میچ سے لطف اندوز ہوئے اور بے حدخوش نظر آ رہے تھے،جہاں یہ ایونٹ بہت اہمیت کا حامل رہا وہاں دوسری طرف بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے کہ 33ہزار کی گنجائش رکھنے والے قذافی سٹیڈیم میں 500روپے مالیت والے ٹکٹوں کی تعداد کے حوالے سے عوام مطمئن نظر نہیں آئے۔ اگر 90فیصد 500 روپے والے ٹکٹ فروخت کئے جاتے تو یہ بہتر تھا۔ دوسرا قذافی سٹیڈیم کے اطراف دو روز قبل ہی فیروز پورروڑ ،کینال روڈ،مال روڈ کر اکثر بند رکھنے سے پورے شہر کی ٹریفک متاثر ہوئی کئی شائقین تو سٹیڈیم نہیں پہنچ سکے۔ پہلے T20میچ میں سٹیڈیم میں سینکڑوں خالی کرسیاں سوال اُٹھا رہی تھیں۔ یورپ میں 80,80ہزار افراد کی گنجائش کے سٹیڈیم میں فٹ بال میچز ہوتے ہیں،لیکن وہاں ٹریفک کے وہ مسائل پیش نہیں آتے،اس پر ٹریفک مینجمنٹ پلاننگ کرے ابھی تو قذافی سٹیڈیم 33ہزار افراد کی گنجائش والا ہے۔ اگر کل کو سیٹوں کی تعداد بڑھانے کا اقدام ہو گیا تو ہم کیا کریں گے۔

کرکٹ ایونٹ میں آئی سی سی کے ڈائریکٹرجنرل جائلز کلارک آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن بھی پاکستان آئے اور انہوں نے شرف میزبانی پر حکومت پاکستان کرکٹ بورڈ اور انتظامیہ کو زبردست خراج پیش کیا۔عالمی کھلاڑیوں کو افتتاحی میچ میں ثقافتی رکشوں پر بٹھا کر پورے سٹیڈیم کا چکر لگوایا گیا اور عوام نے ان کھلاڑیوں کو والہانہ پذیرائی بخشی۔ اب پاکستان میں غیر ملکی ٹیمیں آئیں گی میدان سجیں گے۔ اِن شا اللہ پاکستان کا دشمن ہی بے نام و نشان ہو گا۔

مزید :

کالم -