پاکستان اور افغانستان میں عدم اعتماد کیسے ختم ہو گا؟

پاکستان اور افغانستان میں عدم اعتماد کیسے ختم ہو گا؟

  

پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن افغانستان میں دیرپا امن کے قیام سے ہی ممکن ہے اور کسی تیسرے مُلک پر تکیہ کرنے کی بجائے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مفاہمت کے ذریعے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات سنگین قسم کے عدم اعتماد کا شکار ہیں جس کا خاتمہ ہونا چاہئے،دونوں ممالک کی ثقافت، تاریخ، جغرافیہ اور اقتصادیات ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان کو تنہا کرنے میں افغانستان کبھی حصہ دار نہیں بنے گا،کیونکہ یہ ہمارے مُلک کے مفاد میں نہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی سالمیت و خود مختاری کے تحفظ کی یقین دہانی کرانا ہو گی۔پاکستان کو افغانستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کو مثبت انداز میں دیکھنا ہو گا اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ افغانستان کی صورتِ حال کے باعث پاکستان میں دہشت گردی کی پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی تاہم افغان سرزمین پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی محفوظ پناہ گاہیں ختم ہونی چاہئیں۔افغان سفیر اسلام آباد میں ’’گول میز مذاکرے‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔

پاکستان کے ماضی کے بہت سے حکمران مسلسل کہتے رہے ہیں اور آج کے حکمرانوں کی بھی یہی رائے ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام سے پاکستان کو فائدہ ہو گا اور یہاں بھی امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی،پاکستان کی جو افغان پالیسی اِس وقت جاری ہے اس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور پاکستان اپنی سرزمین کسی صورت میں بھی افغانستان کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے اور اس کا اعتراف افغان سفیر نے بھی اپنی تقریر میں کیا ہے اور امریکہ کے اندر آج بھی ایسے انصاف پسند لوگ موجود ہیں جو صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات کے باوجود پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں،امریکی کانگرس کے رکن سینیٹر ٹم کین کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانی افواج اور عوام کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو سراہتے ہیں۔ٹم کین نے پاکستان کو امریکہ کا اہم اتحادی بھی قرار دیا،اگرچہ صدر ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کی فہرست سے نکال دے گا تاہم امریکہ کے اندر بہت سے حلقے پاکستان کی قربانیوں کے معترف ہیں اور اُن کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔

پاکستان کا یہ بھی موقف ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے چاہئیں جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی جو کارروائیاں ہوئیں ان میں افغان باشندے ہی ملوث پائے گئے،جنہیں سرحد سے اُن کے پاکستانی سہولت کار لے کر آئے اور انہیں ان وارداتوں کو افغانستان سے مانیٹر کیا گیا اور افغان موبائل فون اس مقصد کے لئے استعمال ہوئے، اس کے تمام ثبوت افغان حکام کو پہنچائے جا چکے ہیں،لیکن اب تک کوئی ایسی اطلاع منظر عام پر نہیں آئی جس سے معلوم ہو کہ افغان حکام نے ان دہشت گردوں کے اڈے ختم کرنے کے لئے کوئی کارروائی کی ہے۔اب افغان سفیر بھی یہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم ٹی ٹی پی نے افغانستان میں جو محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں ان کا ختم ہونا ضروری ہے، دونوں ممالک میں اعتماد کا جو فقدان نظر آتا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کی جاتیں،چنانچہ پاکستان کو مجبور ہو کر سرحد پر ایسے اقدامات کرنے پڑے جن کے ذریعے افغانستان سے پاکستان آنے والوں کو روکا جا سکے،سرحد پر باڑ لگانا بھی ایسا ہی اقدام ہے،شروع شروع میں افغان حکام نے اگرچہ اس کام کو پسند نہیں کیا تھا، اور بعض اشتعال انگیز اقدامات بھی کئے تھے، لیکن لگتا ہے اب افغان حکام اس کی افادیت کے قائل ہو گئے ہیں،تاہم یہ عملی اقدامات سے ہی معلوم ہو گا کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

جہاں تک افغانستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہے یہ دو آزاد اور خود مختار ممالک کے باہمی تعلقات ہیں جن پر دُنیا کے کسی تیسرے مُلک کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔البتہ اعتراض کی گنجائش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان تعلقات کے پردے میں افغان سرزمین کو استعمال کیا جائے،بھارت کا خفیہ ادارہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں افغانستان کے راستے ہی کرتا ہے جن دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے اُنہیں اِسی سرحد سے پاکستان میں بھیجا جاتا ہے۔ افغان خفیہ ادارے اور ’’را‘‘ کے روابط کا بھانڈہ تو پاکستان میں گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس نے خود ہی پھوڑ دیا تھا اِن حالات میں اگر افغان سفیر یہ کہتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کو مثبت انداز میں دیکھے تو اس پر اعتبار کرنا ذرا مشکل ہے،افغان حکومت کا فرض ہے کہ بھارت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پاکستان کو دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا،اعتراض کی گنجائش اُسی وقت نکلتی ہے جب بھارت اپنے افغانستان میں قونصل خانوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کرتا ہے۔

افغان سفیر کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ دونوں ممالک میں عدم اعتماد کا خاتمہ ہونا چاہئے،لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ شکوک و شبہات کے وہ بادل چھٹ جائیں جو دونوں ممالک کی فضا پر چھائے رہتے ہیں،افغانستان میں دہشت گردی کی کوئی بھی واردات ہوتی ہے تو افغان حکام اس کا الزام پاکستان پر لگانے میں دیر نہیں لگاتے،افغانستان کے اندر بھارت نواز عناصر ہر وقت پاکستان پر الزام لگانے پر اُدھار کھائے بیٹھے رہتے ہیں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تنازعات بڑھانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان تمام تنازعات پر دونوں ممالک کے حکام کو مل کر بات چیت کرنی چاہئے اور عدم اعتماد کو ختم کر کے آگے بڑھنا چاہئے،محض زبانی کلامی یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ دونوں ممالک میں ثقافتی،تاریخی اور جغرافیائی رشتے ہیں عملاً بھی یہ بات ثابت ہونی چاہئے کہ دونوں مُلک جن رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اُن کا حقیقی احترام بھی کرتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی مُلک کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوتے۔

مزید :

اداریہ -